ایشیائی افراد کے لیے رشتے ڈھونڈنے کی ویب سائٹ، شادی ڈاٹ کام نے صارفین کے دباؤ کے بعد جلد کے رنگ کا فلٹر اپنی سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔

امریکہ شہر ڈلاس سے تعلق رکھنے والی ہیتل لاکھانی نے اس کے خلاف ایک آن لائن پٹیشن شروع کیا جس کے بعد کمپنی نے جلد کی رنگت کے بارے میں فلٹر ختم کردیا۔

اس مہم کا آغاز انھوں نے ایک اور صارف سے بات کرنے کے بعد کیا، جس نے نسل پرستی کے خلاف احتجاج کی روشنی میں فلٹر پر سوال اٹھایا تھا۔

شادی ڈاٹ کام کا کہنا ہے کہ فلٹر کسی مقصد کو پورا نہیں کررہا تھا اور یہ ہماری پیشکش کی وہ باقیات تھیں جنہیں ہٹانا ہم سے رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’چاہتی تھی رنگ گورا ہو مگر جلد ہی جل گئی‘

کیا سانولی رنگت بدصورتی کی علامت ہے؟

جب صارفین سائٹ پر اپنی تفصیلات درج کراتے ہیں تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اُن کی جلد کی رنگت کیسی ہے اور وہ بتائیں کہ وہ کتنی گہری یا صاف ہے۔

صارفین نے اپنی تلاش میں جس مخصوص رنگت کا انتخاب کیا ہو وہ مجوزہ رشتوں کو اُن کی جلد کی رنگت کے مطابق پرکھ سکتے تھے مگر شادی ڈاٹ کام کا دعوی ہے کہ یہ فلٹر کام نہیں کرتا تھا اور تلاش کے نتیجے میں ہر رنگت کے رشتے دکھائی دیتے تھے۔

ویب سائٹ دوسری ڈیٹنگ سائٹس سے اس طرح منفرد ہے کیونکہ اس نے جنوبی ایشیائی معاشرے میں رشتہ ڈھونڈنے والیوں کی جگہ لے لی ہے اور شادی بیاہ کے خواہش مند لوگوں کو شریک حیات تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔

میگھن ناگ پال اس ویب سائٹ کو اپنے لیے ایک ایسے ممکنہ جیون ساتھی کی تلاش کے لیے استعمال کررہی تھیں جن کا تعلق انڈیا سے ہو۔

انھوں نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا کہ ’میں نے انہیں (شادی ڈاٹ کام) ای میل کی اور ایک نمائندے نے کہا کہ یہ فلٹر زیادہ تر والدین کو مطلوب ہوتا ہے۔‘

انھوں نے ایک فیس بک گروپ پر رنگت کے فلٹر پر تبادلہ خیال کیا ، جہاں ہیتل بھی ایک ممبر تھیں۔

'مجھے واقعی حیرت ہوئی'

ہیتل کہتی ہیں ’جب میگھن نے ہمارے گروپ پر اسے شیئر کیا تو میں واقعی حیران رہ گئی کیونکہ عام طور پر کسی کمپنی کی بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے۔‘

میں اس صورتحال کو ایسے بدلنا چاہتی تھی کہ کوئی تبدیلی آئی اس لیے میں نے ایک پٹیشن شروع کیا۔

ابھی اسے شروع ہی کیا تھا کہ یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور صرف 14 گھنٹوں کے اندراندر پٹیشن پر پندرہ سو سے زائد دستخط ہو چکے تھے۔ لوگ اس بات پر بہت خوش ہوئے کہ ہم اس معاملے کو اٹھا رہے ہیں۔

میگھن اور ہیتل کہتی ہیں کہ شادی ڈاٹ کام نے پھر ٹوئٹر پر ان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا پہلو تھا جو نظروں سے اوجھل تھا جسے وہ اپنی سائٹ پر کھو چکے تھے اور یہ فلٹر فوراً ہٹا دیا گیا۔

میگھن نے کہا، عالمی سطح پر جنوبی ایشین برادری میں مساوات کو فروغ دینے کے مقصد میں یہ صرف ایک چھوٹا سا قدم ہے۔

ہیتل نے مزید کہا میرے پاس بیچلرز ڈگری ہے ، میرے پاس ماسٹرز ڈگری۔ لیکن اگر میری جلد کی رنگت اس پر اثر انداز ہوتی ہے تو یہ بہت ہی برا ہے۔

جنوبی ایشیائی معاشرے میں جلد کی رنگت پر رویے

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد عالمی سطح پر نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کے بعد جنوبی ایشیا میں جلد کی رنگت پر رویے زیر بحث آئے ہیں۔

بھارتی فلمی اداکاروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

میگھن نے کہا ’بالی ووڈ اسٹارز ایک طرف تو رنگت صاف کرنے والی کریموں کی تشہیر کرتے ہیں تو دوسری طرف بلیک لائیوز میٹر موومنٹ کی حمایت کرتے ہیں۔‘

لہٰذا مجھے ایک خیال یہ آرہا تھا کہ جنوبی ایشیائی معاشرےمیں گوری رنگت کے بارے میں ایک مخصوص سوچ موجود ہے جو اسے بہتر تصور کرتی ہے اور یہ ذہنیت رشتے ڈھونڈنے والی ویب سائٹس میں پھیل رہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بزرگ مردوں کےبجائے خواتین سے یہ تبصرے سنے ہیں کہ وہ کتنی گوری ہے کتنی خوبصورت ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ لاشعوری تعصب ہے۔

ہیتل کا کہنا ہے کہ ایک ایسی کمپنی جس کی بین الاقوامی سطح تک پہنچ ہو اُسے زیادہ ذمہ داری دکھانی چاہیے۔

’لوگوں میں تعصب ہوتا ہے۔ لیکن کسی کمپنی کو اسے ترویج نہیں دینی چاہیے۔‘

شادی ڈاٹ کام میں مارکیٹنگ کے ڈائریکٹر نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا: ’ہم واقعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ محبت کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔‘

اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم عمودی طور پر انڈیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ بات انڈیا میں بہت کم کمپنیاں فخر سے کہہ سکتی ہیں۔

میں نے گندمی رنگ کا انتخاب کیا

پریا جن کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے انہیں اپنی جلد کی رنگت کی وجہ سے مسترد کیا گیا مگر پھر اُن کی اپنے شوہر سے ملاقات اس سائٹ پر ہوئی۔

انھوں نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا ’میں سیاہ فام ہوں اور وہاں (شادی ڈاٹ کام) پر جلد کے رنگ کے سوال کو دیکھا اور اس کا جو بہتر جواب سمجھ آیا دے دیا۔‘

’مجھے 'گندمی رنگت' کا انتخاب یاد ہے۔ اب اس کا جو بھی مطلب ہو۔‘

میری ساس ہماری شادی کے سخت خلاف تھیں کیونکہ میری رنگت اُن کے خوبصورت اور صاف رنگت والے بیٹے سے بہت زیادہ گہری تھا۔ اُن کی جنریشن خوبصورتی جلد کی رنگت میں تلاش کرتی ہے، جس سوچ سے میں نے اپنی پوری زندگی نفرت کی ہے۔

’میں اپنی جلد کی رنگت تبدیل نہیں کرسکتی اور یہ تکلیف دہ خیال ہے۔‘