دنیا بھر اور خصوصاً امریکہ میں نسلی امتیاز اور سامراجی علامات کے خلاف چلنے والی تحریک کے نتیجے میں سابق امریکی صدر تھئیڈور رُوزویلٹ کے کانسی سے بنے مجسمے کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیویارک میں امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کی عمارت کے باہر نصب اس مجسمے میں روزویلٹ گھوڑے پر سوار ہیں اور گھوڑے کے پہلو میں ایک جانب ایک قدیم امریکی باشندے اور دوسری جانب ایک افریقی باشندے کا مجسمہ ہے۔

ان کے ایک پوتے نے اس فیصلے سے یہ کہتے ہوئے اتفاق کیا ہے کہ مجسمہ ان کے سیاسی ورثے کی نمائندگی نہیں کرتا۔

تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: ’حماقت مت کرو!‘

یہ بھی پڑھیے

وکیل: جارج فلائیڈ کو ’سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا‘

ڈکشنری میں نسل پرستی کی تعریف بھی بدل گئی

سیاہ فاموں کی تحریک کی حمایت: ’ناقدین ہماری چائے نہ خریدیں‘

لندن میں احتجاج: مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بوتلیں پھینکی گئیں

افریقی نژاد امریکی جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد امریکہ میں بعض مجسموں اور یادگاروں کے مناسب ہونے کے بارے میں گرما گرم بحث چھڑی ہوئی ہے۔

امریکہ میں غلامی کی حمایت اور کرِسٹوفر کولمبس کے ہاتھوں امریکی نو آبادی سے متعلق علامات اور یادگاریں خاص طور سے تنقید کی زد میں ہیں۔

بلیک لائیوز میٹر کی تحریک کے نتیجے میں مجسموں کے خلاف مہم دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور کئی ملکوں میں یادگاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

عجائب گھر نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟

یہ مجسمہ میوزیم کے سینٹرل پارک ویسٹ کے ساتھ داخلی دروازے کے باہر نصب ہے۔

میئر بِل ڈی بلیسیو نے اتوار کو کہا: ’عجائب گھر نے تھئیڈور رُوزویلٹ کے مجسمے کو ہٹانے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ سیاہ فام اور قدیمی باشندوں کو محکوم اور نسلی لحاظ سے کمتر پیش کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور ’اس متنازع مجسمے کو ہٹانے کا یہ ہی صحیح وقت ہے۔‘

میوزیم کی صدر ایلن فٹر کا کہنا تھا کہ دنیا کی توجہ ’نظام میں موجود نسل پرستی کی طاقتور اور تکلیف دہ علامات پر مرکوز ہو چکی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کی بنیاد روزویلٹ کا مجسمہ نہیں بلکہ اس کی بناوٹ ہے اور میوزیم ہمیشہ ان کا احترام کرتا رہے گا۔

سابق صدر کے ایک پوتے، تھئیڈور رُوزویلٹ چہارم نے روزنامہ نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’اس مجسمے کی بناوٹ تھئیڈور رُوزویلٹ کے ورثے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ یہ اس مجسمے کو ہٹانے اور آگے بڑھنے کا وقت ہے۔‘

سامراجیت اور نسلی امتیاز کے مخالفین کئی سال سے اس مجسمے کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایسی یادگاروں کے ہٹائے جانے پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ ’بائیں بازو کا بے قابو ہجوم ہماری تاریخ کو غارت اور یادگاروں کی بے حرمتی کر رہا ہے۔‘

یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ہٹائے جانے کے بعد مجسمے کا کیا بنے گا۔

تھئیڈور رُوزویلٹ کون تھے؟

رُوزویلٹ کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے تھا اور وہ 1901 سے 1909 تک دو مرتبہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ کامیابیوں کے لحاظ سے ان کا دور پانچ بہترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔

مگر ان کا ورثہ قدرے پیچیدہ ہے۔ ایک جانب تو انھیں فلاحی ریاست کے قیام کی تجاویز پر سراہا جاتا ہے تو دوسری جانب وہ اعلی انسانی نسل کی کی حمایت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

ٹیڈی کے لقب سے پکارے جانے والے روزویلٹ کا چہرہ ماؤنٹ رشمور پر بنی مشہور یادگار کا حصہ ہے جہاں ابراہم لنکن، ٹامس جیفرسن اور جارج واشنگٹن کے سر بھی مجسموں کی شکل میں نصب ہیں۔

جیفرسن اور واشنگٹن غلام رکھتے تھے اور حالیہ مہم کے دوران ان پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ غلامی کے معاملے میں تو لنکن کا کردار اور بھی پیچیدہ ہے۔

روزویلٹ تمام عمر شکاری رہے، مگر انھوں نے بقائے ماحول کی ضرورت پر بھی زور دیا جو اس تحریک کا نقطۂ آغاز بنا۔

دوسری جانب وہ بیرون ملک امریکی اثر و رسوخ اور مداخلت کی پالیسیوں پر بھی یقین رکھتے تھے۔