امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ گرین کارڈز جاری کرنے کے وقفے میں توسیع کر دی ہے جبکہ 2020 کے اختتام تک غیر ملکی ملازمین کے لیے ویزوں کو بھی معطل کر دیا ہے۔

اس نئی پالیسی سے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ اعلیٰ ہنر افراد، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے گھریلو ملازمین، اجرتی ملازمین اور اعلیٰ عہدیدار متاثر ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے کورونا وائرس سے معاشی طور پر متاثر ہونے والے امریکی شہریوں کے لیے نوکریاں پیدا ہوں گی۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کورونا وائرس کی وبا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیگریشن قوانین میں سختی کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکی ویزے کے لیے برہنہ ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں‘

امریکی ویزے کے لیے سوشل میڈیا کی تفصیل ضروری؟

کیا امریکی ویزا پالیسی مسلمان مخالف ہے؟

کون کون متاثر ہو گا؟

صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں انتظامیہ نے کہا کہ اس نئی پالیسی سے تقریباً 525000 افراد متاثر ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق گرین کارڈ جاری کرنے پر پابندی میں توسیع کے فیصلے سے ایک لاکھ ستر ہزار افراد متاثر ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس نے پہلے اپریل میں ان ویزوں کو روکنے کا حکم جاری کیا تھا جو کہ سوموار کے روز ختم ہونے والا تھا۔

امید کی جا رہی کہ سوموار کو اعلان کردہ نئی پابندیوں سے موجودہ وقت پر ویزہ رکھنے والے افراد متاثر نہیں ہوں گے۔

نیا حکم نامہ ایچ ون بی ویزوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے انڈین شہریوں کی بڑی تعداد کو یہ ویزے جارے کیے گئے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ویزوں کے نتیجے میں سیلیکون ویلی کمپنییاں کم پیسوں پر غیر ملکیوں کو امریکی نوکریاں دے رہی ہیں۔

گذشتہ برس ایچ ون بی ویزا کے تحت 85 ہزار نوکریوں کے لیے دو لاکھ 25 ہزار درخواستیں تھیں۔

اس حکم نامے سے ایچ ٹو بی ویزا رکھنے والے اجرتی ملازمین بھی متاثر ہوں گے۔ ان میں مہمان نوازی، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد شامل ہیں۔

اس نئے حکم نامے سے مختصر مدت کے ایکسچینج ویزے جے ون کو بھی محدود کیا جائے گا۔ اس کیٹیگری کے تحت یونیورسٹی طلبا اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو ویزے دیے جاتے ہیں۔ تاہم پروفیسر اور سکالرز کو اس حکم نامے می ںشامہ نہیں کی اگیا۔

ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مینیجرز اور دیگر اہم ملازمین کے ویزے بھی معطل رکھے جائیں گے۔

ردعمل کیا ہے؟

ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ ’ہماری معیشت کی بہترین اور زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کی جائے۔‘

ان نئی پابندیوں کے حمایت کرنے والے اور سینٹر آف امیگریشن سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارک کریکورین نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’امریکی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے ٹرمہ انتظامیہ کا یہ اقدام جرات مندانہ ہے۔‘

لیکن امریکی سول لبرٹیز یونین نے کہا ہے کہ ’امیگریشن کے قانون کی از سر نو تشکیل کرنے کے لیے یہ وبا کا استحصال ہے۔‘

ایسے کئی کاروبار جو غیر ملکی ملازمین پر انحصار کرتے ہیں، نے بھی اس نئی پالیسی کی مخالفت کی ہے۔

چیمبر آف کامرس نے رواں ماہ ان پابندیوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے ایک خط میں لکھا تھا کہ 'معیشت کی بحالی کے ساتھ امریکی کاروباری اداروں کو اس یقین دہانی کی ضرورت ہو گی کہ وہ اپنی افرادی قوت کی تمام ضروریات کو پورا کر سکیں۔'

’اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ انھیں مقامی اور پوری دنیا سے ٹیلنٹ تک رسائی حاصل ہو۔‘