ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے برطانیہ میں سٹون ہینج کے قریب ہزاروں سال پرانی خندقیں دریافت کی ہیں جو کہ ایک دائرے کی شکل میں کھودی گئی تھیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پانچ میٹر گہری اور دس میٹر چوڑی خندقوں کا ایک 1.2 میل طویل دائرہ بنایا گیا تھا۔ یہ دائرہ ڈرنگٹن والز کی قدیم بستی کے گرد بنایا معلوم ہوتا ہے جو کہ سٹون ہینج سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ٹیسٹنگ سے پتا چلا ہے کہ یہ کھدائی نیولتھک دور (پتھروں کے دور کے آخری مراحل) کے دوران تقریباً 4500 سال پہلے کی گئی تھی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ 20 کے قریب یہ خندقیں سٹون ہینج کے قریب کسی مقدس علاقے کو محفوظ رکھنے کے لیے کھودی گئی تھیں۔

سینٹ اینڈروز، برمنگھم، وارک، گلاسگو یونیورسٹیوں اور یونیورسٹی آف ویلز کے ماہرین کی ایک ٹیم نے اس پروجیکٹ پر کام کیا ہے۔

سینٹ اینڈوز یونیورسٹی کے محکمہِ ارتھ اینڈ اینوائرمینٹل سائنسز کے ڈاکٹر رچرڈ بیٹس کا کہنا ہے کہ 'ریموٹ سینسنگ اور محتاط انداز میں نمونے جمع کر کے ہمیں پتا چلا ہے کہ ماضی میں یہاں ایک انتہائی پیچیدہ معاشرہ موجود تھا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔'

یہ بھی پڑھیے

فلپائن میں انسان کی ناپيد نوع دریافت

73 ہزار سال قدیم ’ہیش ٹیگ‘ دریافت

انڈونیشیا میں 44 ہزار سال پرانی تصویر دریافت

'واضح طور پر پیچیدہ طریقوں کا استعمال ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس دور کے لوگ قدرتی واقعات سے اتنے قریب تھے جس کا ہم جدید دور میں سوچ بھی نہیں سکتے۔'

ان کے ساتھی ٹم کنارڈ کا کہنا ہے کہ خندقوں کے اندر سے نکالے گئے مٹی کے نمونوں میں ایسی بہت سی ماحولیاتی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جو کہ ہمیں پہلے معلوم ہی نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دریافت کے ذریعے ماہرین سٹون ہینج کے علاقے کے بارے میں گذشتہ 4000 سال کی تفصیلی معلومات قلم بند کرسکتے ہیں۔'

نیشنل ٹرسٹ فار سٹون ہینج سائٹ کی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر نک سنیشل نے اسے ایک حیران کن دریافت قرار دیا ہے۔

'سٹون ہینج بنانے والے ڈرنگٹن والز بستی میں رہتے اور کھاتے پیتے تھے اور یہ تفصیلات سٹون ہینج کی وسیع تر کہانی اور اس دور کے ہمارے آبا و اجداد کو سمجھنے میں مدد کریں گی۔'

اس دریافت کا اعلان سمر سولسٹس (سال کا طویل ترین دن) کے روز کیا گیا ہے۔ اس سال سٹون ہینج پر اس سلسلے کی سالانہ تقریب کورونا وائرس کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی تھی۔