امریکی صدر کو دنیا کا طاقتور ترین شخص کہا جاتا ہے۔ ایک سپر پاور کا صدر ہوتے ہوئے بھی ڈونلڈ ٹرمپ نو عمر امریکی ٹک ٹاک صارفین کی ٹرولنگ سے نہ بچ سکے وہ کیسے یہ آگے چل کر بتائیں گے مگر پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ امریکی صدر کو اپنی صدارت کے شروع ہی سے دوسروں سےمقابلے کا شوق رہا ہے۔ اُن کی تقریب حلف برداری میں سابق صدر اوباما سے کم لوگوں نے شرکت کی مگر وہ ٹوئٹر پر چلاتے رہے کے میری تقریب بڑی تھی۔ شمالی کوریا کے صدر سے مقابلہ کہ اُن کا جوہری بٹن کم جونگ اُن سے زیادہ بڑا ہے۔ اور پھر پورن سٹار، سٹورمی ڈینیئل سے بحث۔ خیر اس کا ذکر ہم فی الحال چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈونلڈ ٹرمپ کون ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا آئی کیو کتنا ہے؟

ٹرمپ کیسے جیت گئے؟

چھوٹے بڑے کے مسائل صدر ٹرمپ کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ چند روز پہلے انہوں نے جو بائیڈن کے ایک پروگرام کو ٹوئٹر پر نشانہ بنایا کہ اُن کی ریلی میں کتنے کم لوگ ہیں۔

اس موقع پر لوگوں نے صدر ٹرمپ پر جوابی تنقید کی کہ یہ انتخابی ریلی نہیں تھی بلکہ ایک پروگرام تھا جس میں صرف مدعو لوگ شرکت کر سکتے تھی اور یہ کورونا وائرس سے متعلق تھا۔

مگر صدر ٹرمپ کے چھوٹے بڑے والے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ کچھ دنوں سے وہ ٹوئٹر پر بڑیں مار رہے تھے کہ میری مہم جو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی پھر بھی ٹلسا اوکلوہوما میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو رہے ہیں۔

بینک آف اوکلوہوما سینٹر میں صدر ٹرمپ کی ریلی منعقد ہوئی جس میں انیس ہزار سیٹیں ہیں مگر ٹلسا کے مقامی فائر بریگیڈ کے مطابق صرف چھ ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔

صحافی المبتھ ٹامس نے ٹرمپ ریلی میں سینٹر کی خالی سیٹوں کو دکھانے والی ایک وڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ٹرمپ کی مہم کے مطابق ٹلسا میں ریلی کے لیے 10 لاکھ ٹکٹوں کی درخواست دی گئی تھی۔۔ ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ایک بھی سیٹ خالی نہیں ہوگی۔ یہ وڈیو خود ہی صورتحال بتائے گی۔

خیال ہے کہ امریکی نوعمر افراد نے اس ریلی کے لیے ٹکٹ بک کیے مگر اس نیت سے کہ وہ اس میں شامل نہیں ہونگے اور یوں صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس ایک چھوٹی ریلی صدر ٹرمپ کی ذلت کا باعث بنے گی۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم پر کام کرنے والی ٹیم نے اس خیال کو رد کیا ہے کہ ٹاک ٹاک اور کے پاپ کے مداحوں کی سوشل میڈیا پر مہم کم تعداد کی وجہ ہے۔ ٹرمپ 2020 ٹیم کے مطابق ریلی کے ٹکٹس کے لیے دس لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں تھیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کی ممبر اور ڈیموکیٹ پارٹی کی معروف سیاستدان الیکزانڈرایا اوکاسیو کورٹیز نے ٹویٹ کی کہ دراصل ٹرمپ مہم کو نوعمر ٹاک ٹوک صارفین نے ہلا کر رکھ دیا جنہوں نے ٹکٹ کے لیے فرضی درخواستوں کی بھرمار کردی اور آپ کو یہ گمان ہوا کہ دس لاکھ لوگ آپ کی سفید فام کی بالادستی والے اسے پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ بھی کوویڈ کے دوران۔ ’ذومرز کے لیے شاباشی۔ آپ سب پر مجھےفخر ہے۔‘

سابق امریکی صدر جارج بش کی انتخابی مہم پر کام کرنے والے معروف سٹریٹجسٹ سٹیو شمڈٹ نے امریکی صدر کے کیمپین مینیجر بریڈ پیسکال کی 14 جون کو کی گئی ٹویٹ کو دوبارہ ٹویٹ کیا جس میں بریڈ پیسکال نے لکھا تھا کہ آٹھ لاکھ ٹکٹ جا چکے ہیں۔ اب تک کی ریلیوں میں شمولیت سے دس گنا زیادہ۔ سنیچر بہت شاندار دن ہوگا۔ اس ٹویٹ کے ساتھ اپنے پیغام میں سٹیو شمڈٹ نے لکھا کہ میری 16 برس کی بیٹی اور اُس کی سہیلیوں کے پاس کئی سو ٹکٹس ہیں۔ تم لوگوں کو امریکی بچوں نے مات دی ہے۔

معروف امریکی صحافی ڈین رادر نے ٹویٹ کی کہ میں شان سپائسر کو پیغام بھیج رہا ہوں کہ وہ ٹلسا میں مجمعے کی تعداد کا اندازہ لگائیں۔

شان سپائسر صدر ٹرمپ کے سابق ترجمان تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے حقائق گھڑ لیتے ہیں۔ اُن کی جانب سے بیان کیے گئے مبینہ من گھڑت حقائق کو ٹوئٹر پر سپائسر فیکٹس کہا جاتا تھا۔

صدر ٹرمپ کے کیمپین مینیجر نے اس ریلی کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا کہ بائیں بازو کے لوگ اور آنلائین ٹرولز خوشیاں منا رہے ہیں اس خیال سے کہ انہوں نے ریلی میں لوگوں کی شمولیت کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا اور سینٹر سے باہر مظاہرین پر الزام لگایا کہ انہوں نے لوگوں کو شمولیت کرنے سے روکا۔

صدر ٹرمپ نے ریلی سے خطاب کو شروع کرتے ہوئے کہا کہ باہر بہت برے لوگ ہیں وہ بہت برے کام کر رہے ہیں لیکن انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ بلیک لائیوز میٹر مہم میں شامل افراد سینٹر کے باہر مظاہرے کے لیے جمع تھے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے صدر ٹرمپ کی2016 میں جیت کے بعد کی اور ٹلسا سے واپسی پر صدر ٹرمپ کی تصویر شیئر کی جس میں اُن کی ٹائی کھلی ہوئی تھی ہاتھ میں مخصوص لال ٹوپی تھی جو اُن کی انتخابی مہم میں لوگ پہنتے ہیں اور نظریں جھکی ہوئی تھیں جبکہ چہرے پر بظاہر مایوسی کے آثار تھے۔

اس صارف نے ان تصاویر پر صرف اتنا لکھا بہت تسکین بخش۔