سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی لندن کی کاؤنٹی برک شائر کے علاقے ریڈنگ میں ہونے والے چاقو حملے کے سلسلے میں جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، اس کے بارے میں برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کو پہل سے معلوم تھا۔

پولیس نے 25 سالہ خیری سعد اللہ کو اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ریڈنگ میں سعد اللہ کو پہلے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انھیں دوبارہ دہشتگردی کی دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا۔

یاد رہے کہ سنیچر کے روز ریڈنگ کے ایک پارک میں ایک شخص وہاں گروہوں کی شکل میں موجود لوگوں کے پاس گیا اور ان پر چاقو کے وار کر دیے۔ اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برطانوی حکام نے اسے ’دہشتگردی کا واقعہ‘ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

لندن: چاقو بردار حملہ آور سودیش امان کون تھا؟

لندن برج حملہ: ’عثمان انگلینڈ چھوڑ کر واپس آنا چاہتا تھا‘

لندن: حملہ آور کو دہشت گردی کے جرم میں سزا ہوئی تھی

سیکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آبائی طور پر خیری سعد اللہ کا تعلق لیبیا سے ہے اور وہ 2019 میں ایم آئی فائیو کی نظروں میں آگئے تھے۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سعد اللہ اس وقت سکیورٹی اداروں کی نظروں میں آئے جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ ممکنہ طور پر شدت پسندی کے مقصد سے بیرون ملک جانا چاہتے تھے۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت ظاہر کر دی گئی ہے اور وہ ایک مقامی سکول میں استاد تھے۔ ان کا نام جیمز فرلونگ تھا اور ان کے اہلِ خانہ نے انھیں ایک شاندار شخص بتایا ہے۔

حملے میں ہلاک ہونے والا ایک دوسرے شخض جو ریچی بینیٹ امریکی شہری تھے۔ ان کے والد نے تصدیق کی ہے کہ وہ برطانیہ میں گذشتہ 15 سال سے رہ رہے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حملے سے 10 میٹر کی دوری پر موجود تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم چہل قدمی کر رہے تھے اور ایک شخص ہماری مخالف سمت سے وہاں موجود آٹھ سے دس افراد کے گروہ کے پاس سے گزرا۔ اس شخص نے بائیں جانب بھاگنے سے قبل پہلے گروہ میں موجود تین افراد پر چاقو سے حملہ کیا۔

انھوں نے بتایا ’اپنی سمت تبدیل کرتے ہوئے وہ ہماری جانب بھاگا اور جب ہمیں سمجھ آیا کہ وہ ہم پر حملہ نہیں کر رہا، وہ واپس مڑا اور ایک اور گروہ کی جانب گیا جسے معلوم نہیں تھا کہ اس وقت وہاں کیا ہو رہا ہے۔ پھر اس شخص نے اس دوسرے گروپ میں سے بھی کسی پر چاقو سے وار کیا۔‘

حکام کا ردِ عمل

انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ نیل باسو نے کہا ہے کہ 'یہ ایک ظلم تھا۔' انھوں نے کہا کہ پولیس کو ' کسی اور شخص کے ملوث ہونے سے متعلق کچھ بھی نہیں ملا۔'

نیل باسو نے کہا کہ پولیس اس حملے میں مرنے والے افراد کی باضابطہ شناخت کے لیے طبی افسران کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

انھوں نے ملزم کو حراست میں لینے والے تھیمس پولیس کے غیر مسلح اہلکاروں کی بھی تعریف کی۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کی ہمدردی حملے میں متاثر ہونے والے افراد کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے موقع پر موجود ایمرجنسی سروس کے اہلکاروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھیں اس حادثے پر گہری تشویش ہے۔

بلیک لائیوز میٹر

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جن سے یہ پتا چلتا ہو کہ اس واقعے کا پارک میں اس سے پہلے بلیک لائیوز میٹر کے مظاہروں سے کوئی تعلق ہے۔

بلیک لائیوز میٹر کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے مظاہرے کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نعیمہ حسن نے فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ 'ہم بہت پُرامن تھے اور ہم پولیس سے رابطے میں تھے۔' ان کا کہنا ہے کہ جن افراد نے بھی اس مظاہرے میں حصہ لیا سب محفوظ ہیں۔

'ہم میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا، ہم سب اس وقت جا چکے تھے جب یہ واقعہ ہوا۔‘