کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیلتا جا رہا ہے۔ 188 ممالک میں اب تک 89 لاکھ سے زیادہ متاثرین سامنے آچکے ہیں۔ اس عالمی وبا سے چار لاکھ 68 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایسے میں گذشتہ ہفتوں کے دوران برازیل، میکسیکو، انڈیا اور پاکستان میں یہ وبا زیادہ تیزی سے پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔

نیچے دیے گئے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے آپ وائرس کا پھیلاؤ سمجھ سکتے ہیں۔

دنیا میں کہاں کہاں کورونا وائرس کے مریض اور اس کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں ابھی میں اضافہ ہو رہا ہے؟

دنیا میں کچھ ممالک میں تو سخت لاک ڈاؤن کے بعد کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات اور اس کے مریضوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

تاہم کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں یہ تعداد دوسروں کے مقابلے زیادہ تیزی بڑھ رہی ہیں۔

کیا پاکستان میں دستیاب وینٹیلیٹرز کے سرکاری اعداد و شمار درست ہیں؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

دنیا میں لاک ڈاؤن سے نمٹنے کے انوکھے اور تخلیقی طریقے

وبا کے دوران ذہنی صحت کا خیال کیسے رکھا جائے

دنیا میں لاک ڈاؤن سے نمٹنے کے انوکھے اور تخلیقی طریقے

مشکل وقت میں خوش رہنے کے چند کارگر نسخے

مئی کے دوسرے نصف میں لاطینی امریکہ میں متاثرین میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے عالمی ادارہِ صحت یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اب اس عالمی وبا کا مرکز امریکی براعظم ہے۔ تاہم افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں بھی کچھ علاقوں میں کیسز میں تیزی ائی ہے۔

درج ذیل دیے گئے چارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار ممالک یعنی برازیل، میکسکو، انڈیا اور پاکستان میں متاثرین اور اموات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان چارٹس میں لال رنگ کی لکیر ہلاکتیں جبکہ نیلے رنگ کی لکیر متاثرین کی تعداد بتاتی ہے۔

لاطینی امریکہ میں برازیل، پیرو، چیلی، میکسکو، اور ایکواڈور میں برے پیمانے پر یہ وبا پھیلی ہے۔ سنیچر کو امریکہ کے بعد برازیل وہ دوسرا ملک بن گیا جہاں پر 10 لاکھ سے زیادہ متاثرین کا اندراج کیا گیا۔

برازیلی صدر بولسارنو نے اپنے فیصلوں میں معیشت کو ترجیح دی ہے اور ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ وبا کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

ادھر میکسکو کے دارالحکومت میں کیسز میں نئی تیزی کے بعد کاروبار دوبارہ کھولنے کی تاریخ کو کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

اتوار کو انڈیا میں 15,413 کیسز کا اندراج کیا گیا ہے جو کہ ملک میں یومیہ کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اتوار کے اعداد و شمار کو شامل کرنے کے بعد انڈیا میں کل متاثرین 410461 ہیں جو کہ امریکہ، برازیل، اور روس کے بعد چوتھے نمبر پر ہے۔

ملک میں مزید 306 اموات بھی رپورٹ کی گئیں جس کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 13,254 ہوگئی۔ مگر انڈیا میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین اور ہلاکتوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے اور وہ اس لیے سامنے نہیں آ رہی کیونکہ حکام ناکافی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں۔

ادھر پاکستان میں متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں گذشتہ چند ہفتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں میں ہی صحت کے نظام پر سخت دباؤ ہے۔

ایران میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وہاں یومیہ ہلاکتیں دو ماہ میں پہلی بار 100 تک پہنچ گئی ہیں۔

چین میں بھی درجنوں نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں جب کا تعلق بیجنگ کی ایک منڈی سے بتایا جا رہا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اب جو وائرس سامنے آ رہا ہے وہ یورپی سٹرین کا ہے یعنی یورپ میں پھیلا تھا۔

افریقہ میں جنوبی افریقہ اور مصر سب سے زیادہ متاثرہ ممالک رہے ہیں تاہم براعظم کے کچھ حصوں میں ٹیسٹنگ کی شرح بہت کم ہے اور اسی لیے ہو سکتا ہے کہ ہمیں درست اندازہ نہ ہو کہ وہاں یہ وائرس کتنا پھیلا ہے۔

متاثرین اور اموات کی تعداد کتنی ہے؟

کووڈ 19 سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے۔ اس کے ابتدائی متاثرین چین میں 2019 کے اواخر میں ووہان شہر میں سامنے آئے تھے۔

اس کے بعد یہ 2020 کے ابتدائی مہینوں کے دوران دنیا بھر میں تیزی سے پھیل گیا۔

کا نقشہ

دنیا بھر میں مصدقہ متاثرین

Group 4

مکمل انٹرایکٹو دیکھنے کے لیے اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کریں

ذریعہ: جان ہاپکنز یونیورسٹی, قومی محکمۂ صحت

آخری مرتبہ اپ ڈیٹ کیا گیا جون 14, 2020 8:53 PM GMT+5

یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے

اس تحریر میں موجود معلومات کے لیے کئی ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔ اس میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بیماریوں کی روک تھام کے یورپی سینٹر، مختلف ممالک کی حکومتوں اور صحت کے اداروں کی فراہم کردہ معلومات شامل ہے۔ اس میں آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کی ڈیٹا بھی شامل کی گئی ہے۔

مختلف ممالک کی ڈیٹا جانچتے ہوئے ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ تمام ممالک کورونا کے متاثرین اور اموات کی تعداد ایک ہی طرز سے جمع نہیں کر رہے۔

اس طرح مختلف ممالک کے اعداد و شمار کا موازنہ مشکل ہوجاتا ہے۔

کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل آبادی، عمر رسیدہ افراد کی تعداد یا گنجان آباد علاقوں میں کتنے لوگ ایک وقت میں موجود ہوتے ہیں، یہ تمام عناصر زیر غور رکھنے پڑتے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف ممالک عالمی وبا کے الگ مراحل سے گزر رہے ہیں۔