پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سورج گرہن کچھ گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گیا اور ملک کے بیشتر علاقوں میں یہ جزوی طور پر نظر آیا تھا۔

محکمہ موسمیات اسلام آباد کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان میں جزوی سورج گرہن کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 08:46 منٹ پر ہوا اور 14:34 منٹ پر ختم ہوا۔ صبح 11:40 منٹ پر یہ اپنے عروج پر تھا۔

اس گرہن کو رِنگ آف فائر کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس کے دوران چاند سورج کے درمیان آ جائے گا جس میں چاند سورج پر چھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں سورج کا بیرونی حصہ ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی رِنگ یا چھلہ ہو۔

پاکستان کے جنوبی حصوں کے علاوہ یہ شمالی انڈیا، کانگو، سینٹرل افریقن ریپبلک، ایتھوپیا اور چین میں دکھائی دیا گیا۔

مزید پڑھیے

151 سال بعد بلیو مون کو گرہن لگنے کا نظارہ 31 جنوری کو

امریکہ میں دہائیوں بعد مکمل سورج گرہن کا نظارہ

دنیا بھر میں سرخ چاند کے مناظر

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری تحریری بیان کے مطابق پاکستان کے مرکزی شہروں اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، لاہور، پشاور، گلگت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سکھر اور گوادر میں نظر آیا۔

سکھر میں یہ چھلے دار شکل میں مکمل طور پر دکھائی دیا جبکہ باقی شہروں میں جزوی طور پر سورج گرہن تھا۔

اسلام آباد میں جزوی سورج گرہن کا آغاز 9 بجکر 50 منٹ پر ہوا اور یہ 01 بج کر 06 منٹ پر ختم ہوگیا۔

کراچی میں سورج گرہن کی شروعات کل صبح 9 بج کر 26 منٹ سے ہوا جب کہ سورج گرہن کا اختتام دوپہر 12 بج کر 46 منٹ پر ہوا۔

لاہور میں سورج گرہن کی ابتدا صبح 9 بج کر19منٹ پر ہوا جب کہ 11 بج کر 26 منٹ پر سورج کو سب سے زیادہ گرہن گا اور اختتام دوپہر 1 بج کر 10 منٹ پر ہوا۔

خیال رہے کہ سورج گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں چکر لگاتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے۔

سورج گرہن کے موقع پر لوگوں کو ہمیشہ احتیاط برتنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سورج کو براہِ راست نہ دیکھیں اور مخصوص چشمے کا استعمال کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے سورج گرہن کے وقت:

  • سورج کو کوئی فلٹر استعمال کیے بغیر نہ دیکھیں
  • گرہن دیکھنے کے لیے بنائے گئے ایسے چشمے کو استعمال نہ کریں جو تین سال پرانا ہو
  • گھر پر بننے والے سولر فلٹر استعمال نہ کریں
  • بغیر فلٹر کے کیمرے استعمال نہ کریں
  • گرہن دیکھنے کے لیے دھوپ کی عینک کا استعمال ہرگز نہ کریں

ٹیلی سکوپ جس میں فلٹر لگا ہو وہ بھی استعمال نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ فلٹر میں اگر باریک سے باریک سوراخ بھی ہو تو اس سے بھی لمحوں کے اندر انسانی آنکھ کا ریٹینا ہمیشہ کے لیے تباہ ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے امراض پر کنٹرول کرنے سے متعلق سینٹر کے مطابق گرہن لگنے کے موقع پر سورج کو براہ راست نہیں دیکھنا چاہیے اس سے نظر پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس سے آنکھ کی دیکھنے کی صلاحیت مکمل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ آنکھ میں موجود ریٹینا خراب ہوتا ہے اور کوئی بھی چیز دیکھنے کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔