جنوب مشرقی لندن کی کاؤنٹی برک شائر کے علاقے ریڈنگ میں ہونے والے چاقو حملے کو پولیس نے ’دہشتگردی کا واقعہ‘ قرار دے دیا ہے۔

سنیچر کو پیش آنے والے اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ جائے وقوعہ سے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ نیل باسو نے کہا ہے کہ ’یہ ایک ظلم تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ پولیس کو ’ کسی اور شخص کے ملوث ہونے سے متعلق کچھ بھی نہیں ملا۔‘

نیل باسو نے کہا کہ پولیس اس حملے میں مرنے والے افراد کی باضابطہ شناخت کے لیے طبی افسران کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

انھوں نے ملزم کو حراست میں لینے والے تھیمس پولیس کے غیر مسلح اہلکاروں کی بھی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیے

لندن: چاقو بردار حملہ آور سودیش امان کون تھا؟

لندن: حملہ آور کو دہشت گردی کے جرم میں سزا ہوئی تھی

لندن برج حملہ: ’عثمان انگلینڈ چھوڑ کر واپس آنا چاہتا تھا‘

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کی ہمدردی حملے میں متاثر ہونے والے افراد کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے موقع پر موجود ایمرجنسی سروس کے اہلکاروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھیں اس حادثے پر گہری تشویش ہے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جو پارک میں گروپس کی صورت میں موجود لوگوں کے پاس جا رہا تھا اور چاقو کے وار کر رہا تھا۔

ایک اور عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حملے سے 10 میٹر کی دوری پر موجود تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ہم چہل قدمی کر رہے تھے اور ایک شخص ہماری مخالف سمت سے وہاں موجود آٹھ سے دس افراد کے گروپ کے پاس سے گزرا۔ اس شخص نے بائیں جانب بھاگنے سے قبل پہلے گروپ میں موجود تین افراد پر چاقو سے حملہ کیا۔

انھوں نے بتایا ’اپنی سمت تبدیل کرتے ہوئے وہ ہماری جانب بھاگا اور جب ہمیں سمجھ آیا کہ وہ ہم پر حملہ نہیں کر رہا وہ واپس مڑا اور ایک اور گروپ کی جانب گیا جسے معلوم نہیں تھا کہ اس وقت وہاں کیا ہو رہا ہے۔ پھر اس شخص نے اس دوسرے گروپ میں سے بھی کسی پر چاقو سے وار کیا۔‘

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جن سے یہ پتہ چلتا ہو کہ اس واقعے کا پارک میں اس سے پہلے بلیک لائیوز میٹر کے مظاہروں سے کوئی تعلق ہے۔

بلیک لائیوز میٹر کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے مظاہرے کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نعیمہ حسن نے فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہم بہت پرامن تھے اور ہم پولیس سے رابطے میں تھے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ جن افراد نے بھی اس مظاہرے میں حصہ لیا سب محفوظ ہیں۔

’ہم میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا، ہم سب اس وقت جا چکے تھے جب یہ واقعہ ہوا۔‘