اسرائیل میں کابینہ اراکین کو اپنی نشستیں ترک کرنے کی اجازت کے نئے قانون کے بعد اسرائیلی پارلیمان میں اپنے ہم جنس پرست ہونے کا کھل کر اظہار کرنے والے اراکین کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

پانچ سیاسی جماعتوں کے چھ ہم جنس پرست ارکان 120 نشستوں والی اسرائیلی پارلیمان میں اب اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایک ہم جنس پرست رکن پارلیمان کو وزیر مقرر کیا تھا۔

معاشرے کے قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید کے باوجود اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ہم جنس پرستوں کے لیے ترقی پسند سوچ کا حامل ملک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہم جنس پرستی کو تسلیم کروانے کی جنگ

ہم جنس پرست پناہ گزینوں کا نفسیاتی ٹیسٹ مسترد

انڈین سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ

اسرائیل میں امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کے ذریعے ہم جنس پرستوں کی حفاظت کی جاتی ہے، انھیں بچے گود لینے اور جائیداد میں حصہ دینے جیسے حقوق حاصل ہیں اور سنہ 1993 سے انھیں فوج میں اپنی خدمات سرانجام دینے کی بھی اجازت ہے۔

سیاسی اتحاد ’سینٹرسٹ فیکشن‘ کے یورائی لاہو ہیرٹزانو آئندہ ہفتے اپنی حلف برداری کے بعد اسرائیل کی پارلیمان میں اپنی ہم جنس پرستی کا کھل عام اظہار کرنے والے چھٹے رکن پارلیمان بن جائیں گے۔

بدھ کو اسرائیل کے پانچ اراکین پارلیمان نے اُس نئے قانون کے تحت اپنے استعفے جمع کرائے ہیں جس کے مطابق وہ ارکان پارلیمان جو وزیر بھی ہیں، اپنی نشستیں چھوڑنے کے باوجود بھی حکومت میں رہ سکتے ہیں۔

گذشتہ برس وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود کے عامر اوھانا اسرائیل کے پہلے ہم جنس پرست وزیر کے طور پر سامنے آئے اور انھیں قائم مقام وزیر انصاف مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ وزیر تحفظ عامہ ہیں۔