موزمبیق کے دارالحکومت مپُوٹو میں قائم سعودی سفارتخانے نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ ہفتہ وار چھٹی پر بغیر اوور ٹائم دیے کام لیتا ہے اور مقامی عملے سے امتیازی سلوک کرتا ہے۔

سفارتخانے کا کہنا ہے کہ روزنامہ کارٹا ڈی موزمبیق میں نامعلوم کارکنوں کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں 'جو کچھ کہا گیا ہے وہ سب غلط اور بے بیناد الزامات پر مبنی ہے۔'

سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ دفتری اوقات صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ہیں، 'اور کسی پر اضافی کام کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔'

مزید پڑھیے

خلیجی ممالک میں گھریلو ملازمین کی خرید و فروخت

خواتین ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک،عرب شہزادیوں پر مقدمہ

نامعلوم ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2018 سے سعودی سفارتخانے میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔

اس کے جواب میں سفارتخانے نے تنخواہوں اور ملازمتی معاہدوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جن کے مطابق مالی کی ماہانہ تنخواہ 646 ڈالر اور مترجم کی تنخواہ 1,460 ڈالر ہے جبکہ دوسرے مقامی عملے کی تنخواہیں ان حدود کے اندر ہیں۔ سارا عملہ باقاعدہ معاہدوں کے تحت کام کرتا ہے جن میں اوور ٹائم اور ٹرانسپورٹ الاؤنس اور 30 دن کی سالانہ چھٹیاں شامل ہیں۔

البتہ سفارتخانے نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کی وجہ سے کھلے ہوئے برتنوں میں گھر سے کھانا لانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لیکن ٹِن یا ڈبوں میں دستیاب خوراک لانے کی اجازت ہے۔

سفارتخانے نے اس الزام کی بھی تردید کی ہے کہ وہ مقامی عملے کے وائرس سے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا۔ کہا گیا ہے کہ 'صاف ظاہر ہے کہ وائرس کارکنوں کے درمیان امتیاز نہیں برتا۔'

سعودی عرب میں جبری مشقت کے واقعات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ مگر موزمبیق میں سعودی سفارتخانے نے نامعلوم ملازمین کی جانب سے وہاں کے حالات کار سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے۔

سفارتخانے کا کہنا ہے کہ غلامی 'اسلامی اصولوں اور سعودی عرب کی اقدار کے منافی ہے۔'

موزمبیق کی وزارت خارجہ یا وزارت افرادی قوت کی جانب سے کارکنوں کے الزامات پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔