سنہ 2014 میں صرف 17 برس کی عمر میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی لڑکی ملالہ یوسفزئی نے اس سال اپنی اعلیٰ تعلیم برطانیہ کی مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی سے مکمل کی ہے۔

22 سالہ ملالہ کو اس موقع پر دنیا بھر سے مبارکباد موصول ہو رہی ہیں اور ان کی طرف سے ایک خصوصی پیغام 2020 میں تعلیم مکمل کرنے والے سب طلبہ کے لیے یوٹیوب نے جاری کیا ہے۔

جمعے کو ملالہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس وقت ان کے لیے خوشی اور شکریے کا اظہار کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ انھوں نے آکسفورڈ سے فلسفے، سیاست اور معیشت میں اپنی ڈگری حاصل کر لی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں نہیں جانتی کہ آگے کیا ہوگا۔ فی الحال نیٹ فلکس، مطالعہ اور نیند ہو گی۔‘

ملالہ نے گریجویشن کی خوشیاں مناتے ہوئے اپنی ایک تصویر سب گھر والوں کے ساتھ کیک کاٹتے ہوئے شیئر کی۔

سوشل میڈیا پر ایک دوسری تصویر میں ملالہ کیک میں لت پت نظر آ رہی ہیں۔ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اس روایت کو ’ٹریشنگ‘ کہا جاتا ہے جس میں فائنل امتحانات کے بعد سٹوڈنٹ ایک دوسرے پر کھانے پینے کی اشیا پھینکتے ہیں۔

ملالہ کو دنیا بھر سے بڑے رہنماؤں، اداروں اور اہم شخصیات سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے۔

برطانیہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے چیپٹر نے ملالہ کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا اور ساتھ پیغام لکھا کہ ’اقوام متحدہ کی امن کی سفیر ملالہ کو بہت مبارکباد۔ انھوں نے آکسفورڈ سے ڈگری حاصل کر لی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک بڑی جیت۔‘

امریکی خلا باز این مک کلین نے مبارکباد کے بعد لکھا کہ ’دنیا خوش قسمت ہے کہ آپ دنیا میں ہیں‘۔

مصنفہ کاملہ شمسی نے لکھا کہ ’مبارک ہو آپ کو اور آپ کے والدین کو۔ نیٹ فلکس سے لطف اندوز ہوں۔ مطالعہ کریں اور سوئیں۔ تھوڑا کھانا بھی بیچ میں شامل کر لیں‘۔

اس پیغام پر ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی نے کاملہ شمسی کا شکریہ ادا کیا۔

پی ایس ایل ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے بھی مبارکباد دی اور لکھا کہ ’مستقبل آپ کا ہے‘۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ نے لکھا ’مبارکباد! بہت اچھی اور حوصلے بڑھانے والی خاتون‘۔

جہاں ملالہ یوسفزئی کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اُٹھانے اور اُن کے فلاحی کاموں پر سراہا جاتا ہے وہیں پاکستان میں انھیں ایک طبقہ مسلسل تنقید کا شنانہ بھی بناتا ہے اور ایسا ہی کچھ اس موقع پر بھی نظر آیا۔

ذوہا خان نامہ صارف نے جمائمہ گولڈ سمتھ کے پیغام کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، وہ ایسی نہیں ہیں۔ جو شخص بھی اپنے ملک کے خلاف بولے وہ حوصلے بڑھانے والا نہیں ہوسکتا۔ مزید یہ کہ اگر آپ کو اپنے ملک سے محبت ہے تو اپنے ملک میں رہیں اور کچھ اچھا کام کریں۔۔۔‘

ذوہا کی طرح عمران کو بھی ملالہ اور اُن کے والد سے شکوہ تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں نہ تو انھوں نے اب تک کچھ کیا ہے اور نہ ہی اُن کے والد نے‘۔

صحافی ابصہ کومل نے جب ملالہ کو مبارکباد دی تو ایک اور ٹوئٹر صارف نے ان سے ناراضی کا اظہار کیا۔

محمد عمر شیخ نامہ صارف نے لکھا کہ’انھیں مبارکباد دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کوئی ایسی کامیابی نہیں ہے جس پر اظہار تحسین کیا جائے۔ اپنے کام پر توجہ دیں بجائے خوامخواہ فضول لوگوں کو خوش کرنے کے‘۔

تنقید اور تعریف میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ملالہ کو مستقبل میں پاکستان کے لیے کام کرنے سے متعلق اظہار خیال کر رہے ہیں۔

نثار خان نے ملالہ کے والد کو ٹیگ کر کے ٹویٹ کی اور لکھا ’سر جی! آپ کو اور ملالہ کی والدہ صاحبہ کو بھی بہت بہت مبارک ہو امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ملالہ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر کے دکھائی گی‘۔

اس پر ملالہ کے والد نے جواباً ٹویٹ کی اور لکھا ’انشاالله‘

کچھ لوگوں نے ملالہ کے کیک پر بھی تبصرہ کیا۔

گل مینے نے ٹویٹ کی کہ ’دوسری تصویر میں جو چیز مجھے بہت اچھی لگی وہ یہ ہے کہ برطانیہ میں بھی انھوں نے ایسا کیک ڈھونڈھ نکالا جو پاکستانی کیک کی طرح لگتا ہے۔ ملالہ مبارک ہو۔‘