برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کے بعد جنوبی ایشیائی افراد کا کورونا وائرس سے مرنے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ واحد نسلی گروہ ہے جس کی موت کا خطرہ ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد بڑھ جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ ان کے خون میں ذیابیطس کی زیادہ مقدار ہے۔

یہ تحقیق بہت اہم ہے کیونکہ اس میں ان 10 میں سے چار ہسپتالوں کے اعداد و شمار لیے گئے ہیں جہاں کووڈ 19 مریضوں کا علاج ہو رہا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ کام کی جگہوں پر لوگوں کی حفاظت کرنے اور اس بات کا فیصلہ کرنے کہ کسے ویکسین ملے گی، ان پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق میں یونیورسٹیوں اور 260 ہسپتالوں سمیت، برطانیہ میں صحت عامہ کے 27 ادارے شامل تھے۔

اس تحقیق میں صرف یہی بتایا گیا ہے کہ جب کسی کو ہسپتال میں داخل کرایا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ جنوبی ایشیائی افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ کتنا ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کیا ماسک آپ کو کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟

کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

اس تحقیق میں مئی کے وسط تک انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز کے 260 ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے تقریباً 35000 مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ایوین ہیریسن نے بی بی سی کو بتایا ’یقینی طور پر کووڈ 19 کا شکار جنوبی ایشیائی افراد کے ہسپتال میں مرنے کا زیادہ امکان ہے لیکن سیاہ فام افراد میں اتنا زیادہ اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔‘

سفید فام افراد کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی موت کا امکان 20 فیصد زیادہ تھا۔ تاہم دیگر اقلیتی نسلی گروہوں میں موت کی شرح زیادہ نہیں تھی۔

یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق ہے:

* کووڈ 19 کے علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل ہر 1000 سفید فام افراد میں سے 290 ہلاک ہو جاتے ہیں۔

* لیکن کووڈ 19 کے علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل ہر 1000 جنوبی ایشیائی افراد میں سے 350 ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اس تحقیق میں اس حقیقت کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ نسلی بنیادوں پر کن افراد کو ہسپتالوں میں دیکھ بھال کی زیادہ ضرورت ہے۔

پروفیسر ہیریسن کہتے ہیں ’سپتال میں داخل جنوبی ایشیائی آبادی سفید فام آبادی سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’ان کی عمریں اوسطاً 12 سال کم ہیں جو کہ بہت بڑا فرق ہے اور ان میں ڈیمنشیا، موٹاپا یا پھیپھڑوں کی بیماریاں نہیں پائی جاتیں لیکن ان کے خون میں ذیابیطس کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘

تقریباً 25 فیصد سفید فاموں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے 40 فیصد مریضوں میں ٹائپ 1 یا ٹائپ 2 ذیابیطس پایا گیا۔

ذیابیطس کا اثر دوہرا ہوتا ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور جسم کے اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔۔ اس سے ان افراد میں کورونا وائرس کے انفیکشن سے بچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

اسے جنوبی ایشیائی نسل کے لوگوں کی شرحِ اموات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے لیکن ابھی تک پوری حقیقت سامنے نہیں آ سکی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دیگر عوامل میں غربت یا جینیاتی فرق شامل ہوسکتے ہیں جو انفیکشن کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

ایک طبی جریدے میں باضابطہ طور پر شائع ہونے سے پہلے ہی ان نتائج کو آن لائن پوسٹ کردیا گیا ہے۔

تاہم یہ نتائج ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل برطانوی حکومت کے سائنسی مشاورتی گروپ ’سیج ‘ کو بھیجے گئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ویکسین دستیاب ہو جاتی ہے تو کسے یہ مل پائے گی اور کسے نہیں، اس کا فیصلہ کرنے کے لیے اب عمر اور صحت کے دیگر عناصر کے ساتھ ساتھ نسل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

اور کام کی جگہوں پر کسے اضافی تحفظ کی ضرورت ہے اور کسے کم، ان سب فیصلوں میں بھی نسل کا خیال کیا جانا چائیے۔

پروفیسر ہیریسن کے مطابق ’اس کے دور رس اثرات ہیں جن کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔‘

’کیا فرنٹ لائن پر کام کرنے والی سفید فام نرسوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی نرس کے لیے کوئی مختلف پالیسی ہونی چاہیے۔۔ یہ مشکل سوال ہے۔‘

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سفید فام پس منظر والے لوگوں کے مقابلے میں تمام نسلی اقلیتوں کو انتہائی نگہداشت کی زیادہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ایسا بیماری کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم ایک اور عنصر یہ ہے کہ سفید فام افراد بوڑھے اور زیادہ بیمار تھے لہذا ہوسکتا ہے انتہائی نگہداشت میں انھیں وینٹیلیٹر پر رکھنے کی ضرورت نہ ہو۔

تاہم یہ فرق صحت کے نظام تک رسائی سے متعلق نہیں تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ 19 کا شکار جنوبی ایشیائی افراد بھی تقریباً اسی مرحلے میں ہسپتال پہنچے جس میں دوسرے نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد پہنچے۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طبی مدد حاصل کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔

اس سے پہلے پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق کہا گیا تھا کہ سفید فام افراد کے مقابلے میں بنگلہ دیشی نسل کے لوگ دوگنی شرح سے مر رہے ہیں، جبکہ دوسرے سیاہ فام، ایشین اور اقلیتی نسلی گروہوں میں موت کا خطرہ 10 سے 50 فیصد کے درمیان ہے۔ اگرچہ اس میں ان کے پیشے، صحت سے متعلق مسائل اور موٹاپے جیسے دیگر عوامل شامل نہیں کیے گئے۔

وٹامن ڈی اور دل کی بیماری؟

لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کی تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ دل کی بیماری اور وٹامن ڈی کی سطح، ایشیائی اور اقلیتی نسلی لوگوں میں کوورنا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وضاحت نہیں کرتی ہے۔

محققین نے یو کے بائوبینک کی تحقیق کا ڈیٹا کا استعمال کیا۔ اس تحقیق میں پوری دنیا کے لوگوں میں وبائی مرض سمیت، ان کی زندگیوں سے متعلق تفصیلی طور پر نجی اور طبی معلومات شامل ہیں۔

اس میں اموات کا جائزہ نہیں لیا گیا ،بلکہ ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والوں پر تحقیق کی گئی ہے۔

جرنل آف پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وزن، غربت اور رش والے گھروں میں سب افراد کے وائرس سے متاثرہ ونے کا زیادہ امکان ہے۔

محققین ڈاکٹر زہرا رئیسی سٹابراگ اور پروفیسر سٹیفن پیٹرسن نے بی بی سی کو بتایا ’اگرچہ ہم نے جن عوامل کا مطالعہ کیا ان میں سے کچھ اہم معلوم ہوئے لیکن ان میں سے کسی میں بھی نسلی اختلافات کی مناسب وضاحت نہیں ہوتی۔‘

یہاں تک کہ سفید فام پسِ منظر رکھنے والے افراد کے مقابلے میں نسلی اقلیتوں کے افراد میں کورونا ٹیسٹ کے مثبت آنے کا امکان 59 فیصد زیادہ تھا اور اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

ڈاکٹر رئیسی سٹابراگ اور پروفیسر پیٹرسن نے مزید کہا: ’ یہ واقعی ایک اہم سوال ہے اور ہمیں اس کا فوری جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔‘

’ہمیں معاشرتی، معاشی، پیشہ ورانہ اور دیگر حیاتیاتی عوامل جیسے مختلف جینات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘