صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے بارے میں پڑھنے کے لیے کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں، لیکن تازہ ترین کتاب قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کی تصنیف نے خاصی دلچسپی کا باعث بنی ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مصنف ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے جبکہ دوسری یہ ہے کہ انھوں نے دس بڑے دعوے کیے ہیں۔

ان کی تصنیف ’دی روم وئیر اٹ ہیپنڈ‘ (وہ کمرہ جہاں یہ سب کچھ ہوا) امریکی صدر کو جیو پولیٹکس کے بنیادی حقائق کے بارے میں ان کی جہالت کو پیش کرتی ہے اور ان کے اکثر فیصلوں کے پیچھے ان کے دوبارہ منتخب ہونا کی خواہش کار فرما ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ مواخذہ: ڈیمو کریٹس کا بولٹن سے گواہی کا مطالبہ

صدر ٹرمپ عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں: سابق امریکی وزیرِ دفاع

’ٹرمپ نے فوج بلا کر آئین سے انحراف کیا ہے`: کولن پاؤل

ٹرمپ کے ناقدین پوچھ رہے ہیں کہ جب کانگریس ان کا مواخذہ کر رہی تھی تو جان بولٹن اس وقت کیوں خاموش رہے جبکہ اُس وقت خود صدر ٹرمپ نے اپنے سیکیورٹی کے امور کے مشیر جان بولٹن کو ’نالائق‘ اور ’بور کرنے والا بڈھا احمق‘ کہا تھا۔

امریکی ایوان صدارت ’وائٹ ہاؤس‘ کی کوشش ہے کہ وہ اس کتاب کی اشاعت کو رکوائے، لیکن امریکی میڈیا کو اس کتاب کے پیشگی نسخے مل چکے ہیں جس میں سے انھوں نے اقتباسات شائع کرنا شروع کر دیے ہیں۔

اس کتاب میں لگائے گئے چند چشم کشا الزامات کی تفصیلات ہم نے اکھٹی کی ہیں۔

1۔ ٹرمپ دوبارہ انتخابات جیتنے کے لیے چین سے مدد مانگ رہے تھے

جان بولٹن اپنی کتاب میں صدر ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان گذشتہ برس جاپان میں ہونے والی جی-20 کی سربراہی کانفرنس کے دوران ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہیں۔

جان بولٹن لکھتے ہیں کہ امریکی صدر نے ’حیرت انگیز انداز میں وہاں موضوعِ گفتگو (سنہ 2020 کے) امریکی انتخابات کو بنا دیا جو کہ چین کی اقتصادی صلاحیت کی نشاندہی تھی اور جس میں چینی صدر سے ایک التجا تھی کہ وہ اُن کی فتح کو یقینی بنائیں۔‘

’انھوں نے (یعنی صدر ٹرمپ نے) کسانوں کی اہمیت پر اور چین کی جانب سے سویابین اور گندم کی خریدنے کی ضرورت اور اس کے امریکی انتخابات پر اثرات پر گفتگو کی۔‘

زراعت کا امریکہ کے وسطی علاقوں کی معیشت پر اہم اثر بنتا ہے اور اس نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

2۔ ٹرمپ نے کہا کہ جیلوں کی تعمیر ایک درست اقدام ہے

چین پر اویغور اور دیگر نسلی اقلیتیوں پر امتیازی سلوک کی وجہ سے دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ لاکھوں افراد کو سنکیانگ کے کیمپوں میں زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔

ابھی بدھ ہی کو امریکی صدر ٹرمپ نے وسیع سطح پر لوگوں کو زیرِ حراست رکھنے کی وجہ سے چین پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس پر چین نے کافی سخت جواب دیا ہے۔

لیکن بولٹن کی کتاب میں لکھا ہے کہ جب چینی صدر نے ان حراستی مرکزوں کی تعمیر کا دفاع کیا تو امریکی صدر نے ان کے ان اقدامات کی توثیق کی۔

مسٹر بولٹن لکھتے ہیں کہ ’ہمارے ایک مترجم کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر کو حراستی کیمپوں کی تعمیرکا کام جاری رکھنا چاہیے، جو ٹرمپ کے مطابق ایک بالکل درست اقدام تھا۔‘

3۔ ٹرمپ نے آمروں کو ذاتی طور پر مراعات کی پیش کش کی

مسٹر بولٹن الزام عائد کرتے ہیں کہ صرف چینی صدر ہی نہیں تھے جن کے برے کاموں کی امریکی صدر نے توثیق کی۔

صدر ٹرمپ فوجداری مقدمات کی تحقیقات میں بھی مداخلت کرنے کے لیے آمادہ رہتے تھے ’تاکہ وہ اصل میں ذاتی طور پر کسی ایسے آمر کو فائدہ پہنچا سکیں جس کو وہ پسند کرتے ہوں۔‘

کتاب کے مطابق صدر ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردغان کو سنہ 2018 میں ایک ترک کمپنی کے ممکنہ طور پر ایرانی پابندیوں کی ممکنہ خلاف ورزی میں مدد کی پیش کش کی تھی۔

امریکی صدر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ’خیال رکھیں گے‘ اور یہ کہ اس مقدمے میں استغاثہ میں ’اوبامہ کے لوگ تھے۔‘

4۔ ڈیموکریٹس کو مواخذے کی اور زیادہ کوششیں کرنی چاہیے تھیں

اپنی کتاب میں بولٹن ڈیموکریٹس کے ان الزامات کی حمایت کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ یوکرین کی مالی امداد روکنا چاہتے تھے تاکہ وہ اس ملک کو اپنے مد مقابل جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔ یہ وہ الزام تھا جس نے ٹرمپ کا مواخذہ شروع کرایا تھا۔

بولٹن ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انھوں نے صرف یوکرین پر بات کر کے ’برے انداز میں مواخذہ‘ کیا۔

ان کا خیال ہے کہ اگر ڈیموکریٹس اس عمل کو ذرا زیادہ پھیلا دیتے تو امریکیوں کی بڑی تعداد اس بات کو تسلیم کرتی کہ صدر ٹرمپ نے ’سنگین جرم اور شدید بد اعمالی‘ کی ہے جس کی بنا پر انھیں برطرف کیا جانا ضروری ہے۔

مسٹر بولٹن نے اپنی کتاب میں اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے کہ ان کے الزامات کی وجہ سے صدر ٹرمپ کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

گذشتہ برس جب ایوانِ نمائندگان میں صدرٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پر بحث ہورہی تھی تو انھوں نے اس میں گواہی دینے سے انکار کردیا تھا پھر انھیں سینیٹ میں پیش ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

5۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دو سے زیادہ مرتبہ صدر بننا چاہتے ہیں

بولٹن کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے چینی صدر سے کہا تھا کہ امریکی ان کو اتنا پسند کرتے ہیں کہ وہ آئین میں ترمیم کر کے انھوں دو سے زیادہ مرتبہ صدر منتخب کرنا چاہتے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کے ایک اقتباس کے مطابق بولٹن نے لکھا ہے کہ ’ایک رات جب صدر شی نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ مزید چھ برس تک کام کرنا چاہتے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ میں دو مدتوں کی حد کے قانون کو صدر ٹرمپ کے لیے منسوخ کردینا چاہیے۔‘

’شی نے کہا کہ امریکہ میں بہت زیادہ انتخابات ہوتے ہیں، کیونکہ میں ٹرمپ کو بدلنا نہیں چاہتا ہوں، ٹرمپ نے اشارے سے ان کی توثیق کی۔‘

6۔ ٹرمپ کو معلوم نہیں تھا کہ برطانیہ جوہری قوت ہے

امریکہ اور روس کے بعد سنہ 1952 میں جوہری دھماکہ کرنے کے بعد برطانیہ تیسرا جوہری ملک بنا تھا۔ لیکن امریکی صدر کے لیے یہ ایک خبر تھی کہ برطانیہ بھی چھوٹے سے جوہری طاقتوں کی کلب کا ایک رکن ہے۔'

ایک اقتباس کے مطابق سنہ 2018 میں برطانوی وزیرِ اعظم ٹیریسا مے سے ایک ملاقات کے دوران ایک اہل کار نے برطانیہ کا ذکر ایک جوہری طاقت کے طور پر کیا۔

مسٹر ٹرمپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھوں نے جواب دیا 'اوہ، آپ کیا ایک جوہری طاقت ہیں؟'

مسٹر بولٹن کے مطابق ٹرمپ کا یہ جملہ 'مذاق کی نیت سے نہیں کہا گیا تھا۔'

یا یہ کہ فِن لینڈ روس کا حصہ تھا

مسٹر بولٹن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی عمومی معلومات میں بہت کمی تھی۔

فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسِنکی میں روسی صدر پیوٹِن سے ایک ملاقات سے پہلے ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھوں نے فن لینڈ کے صدر سے پوچھا کہ آیا فن لینڈ 'روس کے زیرِنگیں کوئی ملک ہے۔'

بولٹن کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس بریفنگز سے عموماً استفادہ نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ ان میں سے اکثر کے دوران 'وہ رپورٹوں سے بھی زیادہ گفتگو کرتا تھا، زیادہ تر ایسے معاملات پر جو ان موضوعات سے مکمل طور پر غیر متعلقہ ہوتے تھے جن پر بریفنگز کا اجلاس طلب کیا گیا ہوتا تھا۔'

امریکہ نیٹو سے نکل جانے کہ بہت ہی قریب تھا

صدر ٹرمپ وہ امریکی صدر تھے جو فوجی اتحاد نیٹو کے ناقد تھے، اور دوسرے ملکوں کو اس میں اپنے اخراجات دینے کی ترغیب دیتے تھے۔

اس کے باوجود بھی امریکہ اس اتحاد کا رکن رہا لیکن مسٹر بولٹن کہتے ہیں کہ سنہ 2018 کی ایک سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ نے نیٹو سے علحیدہ ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

مسٹر بولٹن کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ہم واک آؤٹ کر جائیں گے اور ان ملکوں کا دفاع نہیں کریں گہ جو (اپنا حصہ ادا) نہیں کرتے ہیں'

9۔ وینزویلا میں فوجی مداخلت مزیدار ہوگی

ٹرمپ کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے لیے سب سے بڑا دردِ سر امریکہ کا سخت محالف صدر نکولاز مڈورو کا وینزویلا رہا ہے۔

اس معاملے پر بحث کے دوران ایک مرتبہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مزیدار ہو گا کہ ہم وینزویلا میں فوجی مداخلت کریں اور جنوبی امریکہ کی اقوام 'ریاست ہائے متحدہ کے اتحادی ہوں۔'

مسٹر بولٹن لکھتے ہیں کہ مئی سنہ 2019 میں ایک ٹیلی فون کال کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 'پراپیگنڈے کا زبردست مظاہرہ کیا' جب اس نے وینیزویلا کے حزب اختلاف کے رہنما یوہان گوائیڈو کا سنہ 2016 میں صدارتی انتخاب کی نامزد امیدوار ہیلری کلنٹن سے موازنہ کیا، جس سے 'ٹرمپ بہت حد تک راضی ہوگیا'

مسٹر بولٹن لکھتے ہیں کہ صدر پیوٹن کا مقصد اپنے اتحادی صدر مڈورو کا دفاع کرنا تھا۔ سنہ 2018 میں صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے بائیں بازو کے صدر مڈورو کو ڈکٹیٹر کہا تھا اور اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن وہ برسرِ اقتدار رہا۔

امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جو کہ آنے والی اتوار کو نشر کیا جائے گا، مسٹر بولٹن نے ٹرمپ کے بارے میں کہا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ پیوٹن سوچتا ہے کہ وہ اُس سے ایک بچے کی طرح کھیل سکتا ہے۔‘

10۔ یہاں تک کے اُس کے ساتھی بھی اس کا مذاق اڑاتے ہیں

مسٹر بولٹن کی کتاب میں ایسی کئی مثالوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اہلکاران بھی صدر ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔

وہ وائٹ ہاؤس کو ناکارہ ادارہ کہتے ہیں جس میں کسی اجلاس کا ماحول ایک پالیسی ساز ادارے کے بجائے کھانے کے لیے جھگڑے کا ماحول پیش کرتا ہے۔

بولٹن کا خیال ہے کہ جب وہ وائٹ ہاؤس میں کام کرنے کے لیے آئے تو وہاں کے چیف آف سٹاف نے خبردار کیا تھا کہ ’یہ کام کے لیے ایک بری جگہ ہے، اور آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا۔‘

یہاں تک کہ وزیرِ خارجہ پومپیو جن کا ٹرمپ کے وفا داروں میں شمار ہوتا ہے، کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ایک نوٹ لکھا تھا جس میں صدر کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ ’گندگی سے بھرا ہوئے ہیں۔‘