ناسا کی سابق خلا باز ڈاکٹر کیتھی سلیوین ایسے پہلی خاتون بن گئی ہیں جو خلا کے سفر کے بعد اب سمندر کے گہرے ترین معلوم مقام چیلنجر ڈیپ تک گئی ہیں۔

ڈاکٹر کیتھی نے اتوار کو ماریانا ٹرینچ میں سمندر کے گہرے ترین مقام چیلنجر ڈیپ میں 35810 فٹ گہرا غوطہ لگا کر تاریخ رقم کی۔

68 سالہ کیتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں کسی دوسرے سیارے پر ہوں اور چاند جیسی کسی سطح پر سفر کر رہی ہوں۔ یہ بہت ہی زبردست تجربہ تھا۔'

سمندر میں اتنی گہرائی تک جانے والی وہ آٹھویں شخصیت اور پہلی خاتون ہیں۔ یہ جگہ بحرالکاہل میں سطحِ سمندر سے 11 کلومیٹر گہرائی میں ہے۔

مزید پڑھیے

پیگی وِٹسن خلا میں جانے والی معمر ترین خاتون

سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں زہریلے کیمیائی مادے

ڈاکٹر سلیوین نے سمندر میں 11 کلومیٹر گہری اس کھائی کا ڈیڑھ گھنٹے مطالعہ کیا۔ وہ ایک ایسی چھوٹی آبدوز میں تھیں جو خاص طور پر پانی کا انتہائی دباؤ برداشت کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔

سرمایہ کار اور مہم جو وکٹر وسکووو اس سفر میں ڈاکٹر سلیوین کے ہمراہ تھے۔ وکٹر وسکوو پہلے شخص ہیں جو پانچ مختلف سمندروں میں گہری ترین جگہوں تک جا چکے ہیں۔

ڈاکٹر سلیوین نے کہا کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک روز انھیں یہ موقع ملے گا یا وکٹر انھیں اپنے ساتھ اس سفر پر جانے کا کہیں گے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ماریانہ ٹرینچ جیسی سمندری کھائیوں کے نیچے پانی یخ بستہ ہے، وہاں کوئی روشنی نہیں ہے اور پانی کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ اس کے باوجود وہاں کسی طرح زندگی موجود ہے اور تحقیق کار ابھی یہ سمجھنے کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔

ماریانہ نامی اس سمندری کھائی کے نیچے تک جانے کا پہلا سفر سنہ 1960 میں امریکی نیوی کے اہلکار لیفٹینینٹ ڈان والش اور سوئٹزر لینڈ کے انجینیئر ژاک پیکارڈ نے کیا تھا۔ اس کے باون سال بعد فلم ڈائریکٹر جیمس کیمرون اپنی سبز آبدوز میں اس سفر پر گئے تھے۔

ڈاکٹر سلیوین کا یہ سفر رنگ آف فائر نامی مہم کا حصہ تھا جس میں بحرالکاہل کے گہرے ترین مقامات کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر سلیون سنہ 1979 میں ناسا کی خلا باز بنی تھیں اور سنہ 1984 میں انھوں نے پہلی امریکی خاتون کی حیثیت سے خلا میں چلنے کا عمل مکمل کر کے تاریخ رقم کی تھی۔ انھوں نے خلا میں 532 گھنٹوں سے زیادہ وقت گزارا اور عظیم خلا بازوں کی فہرست میں شامل ہوئیں۔

اس کے بعد وہ سمندروں اور ماحول کے ادارے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیئرک ایڈمنسٹریشن سے منسلک ہو گئیں۔ سمندر میں اپنے سفر کے دوران انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سمندروں اور خلا کے بارے میں کہا کہ انسانیت کے سامنے یہ دو عظیم سرحدیں ہیں۔

اب وہ ان دونوں سرحدوں کی طرف سفر کرنے والی پہلی شخصیت بن گئی ہیں۔ یہ دونوں سفر حالات اور ماحول کے لحاظ سے مختلف تھے۔

انٹرنیشنل سپیس سینٹر کے چاروں طرف خلا ہے جبکہ سمندر میں اتنی گہرائی میں جانے والوں کو پانی کے شدید دباؤ میں کام کرنا ہوتا ہے۔

یہ کچومر نکال دینے والا دباؤ آٹھ ٹن فی مربع انچ ہوتا ہے جو سمندر کی سطح پر فضا کے دباؤ کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ ہے۔

ڈاکٹر سلیوین کا کہنا تھا کہ وہ ایک سائنسدان اور انجینیئر دونوں حیثیتوں میں تربیت یافتہ ہیں لہذا دونوں سفر میں استعمال ہونے والی خصوصی سواریوں نے اندر رہنے کا تجربہ شروع سے آخر تک کمال کا تھا۔ ان کا ایک سفر تو خلائی گاڑی میں تھا جبکہ حالیہ سفر ایک آبی گاڑی میں تھا۔

'یہ دونوں کسی جادوئی قالین کی مانند تھیں جو مجھے ایسی جگہوں پر لے گئیں جہاں انسان نہیں جا سکتے۔'

خلا نورد بننے سے پہلے ڈاکٹر سلیوین نے ڈیلہوزی یونیورسٹی سے ارضیات میں تعلیم حاصل کی تھی اور وہ سمندری مشاہدات کی کئی مہموں پر جا چکی تھیں۔ جب انھیں سمندر کی تہہ میں جانے کی پیشکش ہوئی تو انھوں نے بخوشی قبول کر لی۔

'سمندر کے ایک ماہر کی حیثیت سے یہ موقع ملنا کہ میں خود اتنی گہرائی تک جاؤں جہاں غیر معمولی طور پر طاقت ور ارضیاتی عمل وقوع پذیر ہو رہا ہو میرے لیے بہت اہم اور دوسروں کی تحقیقی تصاویر اور ڈیٹا دیکھنے سے بہت مختلف تھا۔'

اس مہم میں مدد کرنے والی کمپنی ای وائی او ایس کے شریک بانی راب میکیلم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سلیون سمندروں کے بارے میں ایک پرجوش اور پروفیشنل سوچ رکھتی ہیں۔

سمندر کی گہرائی سے واپس آنے کے بعد ڈاکٹر سلیوین اور وکٹر ویسکووو نے اس تحقیق میں استعمال ہونے والے بحری جہاز سے خلا میں زمین سے 400 کلو میٹر اوپر انٹرنیشنل سپیس سینٹر سے بات کی۔

'اس کال کا مقصد ان لوگوں کو آپس میں جوڑنا تھا جو ان عظیم دنیاؤں کو ڈھونڈنے کی مہم پر نکلتے ہیں اور اس عزم اور خواہش کے احساس کو آپس میں بانٹنا اور اس انجینیئرنگ کی تعریف کرنا تھا جو ایسی مہم کو ممکن بناتی ہے۔'

ڈاکٹر سلیوین کو امید ہے کہ ان کا کام دوسرے لوگوں کی بھی ہمت افزائی کرے گا کہ وہ اپنی اس دنیا کے ان دیکھے راستوں کو تلاش کریں اور نئی چیزیں دریافت کریں۔'

انھوں نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے اپنے آپ کو ایک خلا نورد، سائنسدان اور ایک مہم جو کے طور پر بیان کرتی آئی ہیں اور وہ اپنی مہم جاری رکھیں گی۔

ڈاکٹر سلیوین کو امید ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی یہ سمجھنے کی جانب راغب کریں گی کہ انسان اندر سے ایک مہم جو ہے اور یہ کتنا فطری اور ضروری ہے کہ اپنی کائنات اور اپنے آپ کے ہر زاویے کو ڈھونڈا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ نئی رائیں تلاش کرنے اور معلومات حاصل کرنے کی کوششیں انسانیت کو آگے بڑھنے میں مدد کریں گی اور غربت اور صحت عامہ کے بحرانوں کو ختم کریں گی۔