شاید ہم میں سے ہر کسی کا ایک ایسے فیس بک فرینڈ سے پالا پڑ چکا ہے جس نے اپنے نسل پرستانہ خیالات کا حال ہی میں اظہار کیا ہو۔

میرا جس ایسے دوست سے سامنا ہوا وہ اس محلے میں رہتا ہے جہاں میں پلی بڑھی ہوں۔

عام طور پر میں ایسی پوسٹس پر توجہ نہیں دیتی۔

مگر امریکا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس والے کے ہاتھوں موت، نسل پرستی کے خلاف احتجاج اور برطانیہ میں متنازع مجسموں کے ہٹائے جانے پر بحث کے تناظر میں بعض لوگ شاید بلا ارادہ ایسا مواد پوسٹ کرنے لگے ہیں جو نسل پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔

میں جانتی ہوں کہ ان کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، وہ اسے محض مذاق سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے اس میں ناراض ہونے والی کوئی بات ہی نہیں۔

مگر مجھے ایسا مواد دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔

یہ مجھے ان القاب کی یاد دلاتا ہے جن سے لوگ مجھے پکارتے تھے، ہر وقت لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ 'تمھارا تعلق کہاں سے؟' (ویسے اس سوال کا جواب انگلینڈ ہے۔ میں مانچسٹر میں پلی بڑھی ہوں۔)

'نہیں، آپ کہاں سے ہیں؟' (ارے، آپ کا مطلب ہے کہ میری رنگت ایسی کیوں ہے؟)

مجھے وہ وقت یاد ہے جب مجھے اور میری بہن کو لندن کے ایک کلب میں اس لیے داخل نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ 'یورپین (سفید فام) مجمعے' کے لیے مخصوص تھا۔ لوگ ہر وقت میرے گھنگھریالے بالوں کو ایسے چھوتے تھے جیسے کوئی بات ہی نہیں ہے (میں کوئی پالتو جانور تو نہیں ہوں۔)

کسی کو اس کی رنگت سے پکارنا ہی نسل پرستی نہیں ہے، بلکہ اس زمرے میں اور بھی کئی باتیں شامل ہیں۔

میں نہیں جانتی کہ میرے اندر اس شخص کی پوسٹس کا جواب دینے کی تاب ہے، لیکن اگر میں خاموش رہوں، تو لوگ پھر بے لگام ہی رہیں گے۔

لائحہ عمل

میں نے کچھ کرنے کا فیصلہ تو کر لیا۔ مگر دوستی چھوڑنے یا جواب دینے والے بٹن میں سے کس پر کلک کروں اس کے لیے مجھے مشورہ درکار تھا۔

سماجی ماہر نفسیات ڈاکٹر کیون ویسٹ کے مطابق اس کا انحصار آپ کے مطمعِ نظر پر ہے، یعنی آپ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'اگر آپ کو اپنی ذہنی صحت کا خیال ہے، تو میں ایسے شخص سے بات نہ کرنے کا مشورہ دوں گا۔

'میں نہیں سمجھتا کہ جو لوگ نسل پرستانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان سے بات کر کے آپ کو تسلی ہو گی، بلکہ شاید زیادہ برا لگے گا۔'

لیکن اگر آپ کو امید ہے کہ ان سے بات کر کے آپ انھیں نسل پرستانہ مواد پوسٹ نہ کرنے اور ہمدردانہ رویے پر قائل کر سکیں گے تو پھر رپلائی یا جواب دینے والا بٹن دبانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

'اگر آپ دوسروں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کا رویہ قابل قبول نہیں ہے تو پھر میں کہوں گا کہ آپ ایسے شخص سے گفتگو کریں۔

'اگر اس سے ان کی ذہنیت نہ بھی بدلے تو کم سے کم انھیں یہ احساس تو ہوگا کہ قابل قبول رویہ کیا ہے۔'

کیا وہ بدل سکتے ہیں؟

میں جب اس شخص کی پوسٹ دیکھتی ہوں تو خود سے سوال کرتی ہوں کہ اگر میں نے اسے جواب دیا تو کیا کچھ بدلے گا بھی۔

اس کا میرے ذہن میں یہ جواب گونجتا ہے: 'تم صرف ریس کارڈ (نسلی پتّا) کھیل رہی ہو۔'

ایسے میں، میں نے دوسروں سے پوچھا کہ جب وہ نسل پرستانہ پوسٹ دیکھتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۔

ستائیس سالہ الیشا سٹینڈنگ نے کہا: 'میں ایسی پوسٹوں کا جواب دینے لگی تو بات بگڑ گئی۔

'جب میں نے آل لائیوز میٹر (ہر زندگی اہم ہے) کے مقابلے میں بلیک لائیوز میٹر (سیاہ فام زندگی اہم ہے) کی اہمیت جتلانے کی کوشش کی تو کسی نے کہا کہ میں ریپ یعنی جنسی زیادتی کیے جانے کی مستحق ہوں۔

'اس کے بعد میں نے ایسی پوسٹوں کو مٹانا اور ایسے لوگوں کو بلاک (قطع تعلق) کرنا شروع کر دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سے میں مجروح ہوئی۔'

مصنفہ اور کمِیڈین جامبی میکگراتھ نے ایک شخص کو، جسے وہ نسل پرست سمجھتی تھیں، جواب دیا مگر بعض اوقات یہ ایک تھکا دینے والا کام ہے۔

تاہم اپنے خیالات کا اظہار کر کے وہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح اس شخص کو شاید احساس ہو کہ دوسرے لوگ کیسا محسوس کرتے ہیں۔

'اس روز جب وہ گھر گیا ہوگا، چاہے اس کے خیالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو، تب بھی اس کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات ضرور ہو گی کہ کسی نے ایک نکتہ تو ضرور اٹھایا تھا۔

'اب وہ اتنا لا علم نہیں ہے جتنا کہ مجھ سے بات کرنے سے پہلے تھا۔'

سوشل میڈیا پر آگاہی

کاسیا ویلیمز کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کو نسل پرستی کا سامنا رہا ہے اس لیے جب وہ فیس بک پر نسل پرستانہ رویہ دیکھتی ہیں تو اس پر ضرور بولتی ہیں۔

'میں چُپ رہ کر اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ بہت سے لوگوں نے میری بات سن کر میرا شکریہ ادا کیا، اور دوسروں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ میرے خیال میں یہ بہت اہم بات ہے۔

'مگر بد قسمتی سے بہت سے لوگوں نے میری بات سننے سے انکار کر دیا اور میں نے محسوس کیا کہ یہ محض وقت کا زیاں ہے۔'

ڈاکٹر ویسٹ کہتے ہیں کہ جب آپ کسی کی پوسٹ کا جواب دیتے ہیں تو یہ نہ سمجھیں کہ ان کا نسل پرستانہ رویہ ایک دم بدل جائے گا۔

'اگر آپ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر ان سے بحث کرنے سے تعصب کم ہوگا تو ایسا نہیں ہے۔ ہاں، انھیں اس بات کا پتا چل جائے گا کہ ایسے لوگ ہیں جو ان کے اس رویے کو پسند نہیں کرتے۔

'لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے طریقے ہیں مگر ان کے اثر انداز ہونے میں وقت لگتا ہے، اور عام طور پر انٹرنیٹ پر چیخنا چلّانا کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔'

نسل پرستی مخالف رفاہی تنظیم، ہوپ ناٹ ہیٹ (نفرت نہیں بلکہ امید)، کے سربراہ میتھیو کولِنس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر نسل پرستی اور تعصب خوف اور کم علمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

وہ اسے 'اور میں؟' کا رویہ قرار دیتے ہیں۔

'وہ بلیک لائیوز میٹر کے بارے میں دو باتیں سوچتے ہیں: 'ان لوگوں وہ کچھ کیوں ملے جو میرے پاس نہیں ہے' اور یہ کہ وہ اس نعرے کے پیچھے کارفرما سوچ کو سمجھتے ہی ہیں۔

'ان میں یہ خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ ان کے پاس جو تھوڑا بہت ہے وہ ان سے چھِن جائے گا۔'

میتھیو سمجھتے ہیں کہ نسل پرستی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ نسلی مساوات سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے خوف کو دور کیا جائے جس کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔

'جب تک ہم ان لوگوں کا خوف دور نہ کر دیں جو سمجھتے ہیں کہ نسلی مساوات کا مطلب ان سے کچھ لے کر رنگ والے لوگوں کو دینا ہے، اگرچہ ایسا بالکل نہیں ہے، تو ہمیں زبردست مزاحمت کا سامنا رہے گا۔'

اس مضمون کے آغاز پر میں جس شخص کی بات کر رہی تھی اس کے فیس بک پیج پر ایک اور نظر ڈالنے کے بعد اس کی پوسٹوں سے میں خود کو نڈھال کر محسوس کر رہی ہوں۔

اس سے کُٹی کرنے یعنی اسے فرینڈ کرنے کا وقت آ چکا ہے۔