امریکہ میں صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے اپنی نئی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ سے مدد مانگی تھی۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں اس کتاب کو اشاعت سے پہلے پڑھا گیا ہے اور ان کے مطابق جان بولٹن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ چین امریکہ سے زرعی پیداوار خریدے۔ اس کے علاوہ جان بولٹن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو حیران کن حد تک اس بات کا بالکل اندازہ نہیں کہ وائٹ ہاؤس کو کیسے چلانا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ اس کتاب کی اشاعت روک دیں جس کے لیے انھوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

کیا کتاب اشاعت روکی جا سکتی ہے؟

577 صفحات پر مبنی جان بولٹن کی کی اس کتاب کا نام ’دی روم ویئر اِٹ ہیپنڈ‘ (وہ کمرہ جہاں سب ہوا) رکھا گیا ہے اور 23 جون سے یہ مارکیٹ میں موجود ہوگی۔

مگر بدھ کی شام ٹرمپ انتظامیہ نے کتاب کی اشاعت روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عدالتی حکم حاصل کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے

صدر ٹرمپ عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں: سابق امریکی وزیرِ دفاع

کیا جو بائیڈن ٹرمپ کو شکست دے کر اگلے صدر بن سکتے ہیں؟

’ٹرمپ نے فوج بلا کر آئین سے انحراف کیا ہے: کولن پاؤل

کتاب کے پبلشر سائمن اینڈ شوسٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست بے بنیاد اور سیاسی مقاصد کے لیے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کتاب کی سینکڑوں کاپیاں دنیا بھر میں پہلے ہی بھیج دی گئی ہیں اور اب عدالتی حکم کچھ نہیں حاصل کر سکے گا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں فون کر کے کہا کہ ’جان بولٹن نے قانون توڑا ہے۔ یہ خفیہ معلومات ہیں اور ان کے پاس انھیں شائع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔‘

صدر ٹرمپ نے ساتھ میں جان بولٹن کے بارے میں یہ بھی کہا کہ وہ تو ایک ایسا شخص تھا جس کا کریئر ختم ہو چکا تھا اور میں نے اسے موقع دیا۔

انتہائی جارحانہ خارجہ پالیسی کے حامی جان بولٹن نے اپریل 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ میں بطور قومی سلامتی کے مشیر کام کرنا شروع کیا اور آئندہ سال ستمبر میں انھوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے جان بولٹن کو عہدے سے ہٹایا ہے کیونکہ وہ ان سے متفق نہیں۔

جان بولٹن نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے بارے میں کیا کہا؟

جان بولٹن کے الزامات گذشتہ سال جون میں جاپان میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ اور صدر شی کی ملاقات کے بارے میں ہیں۔

جان بولٹن کے مطابق اس وقت انتہائی حیران کن انداز میں صدر ٹرمپ بات امریکہ کے 2020 کے صدارتی انتخابات کی طرف موڑ لائے اور انھوں نے چین کی مالی مستحکم پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ آئندہ انتخاب جیتیں۔

صدر ٹرمپ نے انتخابات میں کسانوں کی اہمیت کا ذکر کیا اور سویا بین اور گندم کی چینی خریداری کا انتخابات کے نتائج پر براہِ راست اثر کا ذکر کیا۔

جن صدر شی نے زرعی مصنوعات کو تجارتی مذاکرات میں اہم ترجیح بنانے کی حامی بھری تو صدر ٹرمپ نے انھیں چینی تاریخ کا بہترین لیڈر کہا۔

ادھر بدھ کے روز امریکہ کے نمائندہ برائے تجارت رابرٹ لاتھیزیئر نے جان بولٹن کے دعوے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ دوبارہ منتخب ہونے کے لیے مدد کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔

جان بولٹن نے اس کے علاوہ اس اجلاس کے افتتاحی ڈنر کا بھی ذکر کیا جس میں مبینہ طور پر صدر ٹرمپ نے سنکیانگ میں کیمپ بنانے کی چینی پالیسی کے بارے میں کہا کہ ’یہ بالکل درست کام ہے۔‘

چین نے تقریباً دس لاکھ اویغور اور دیگر نسلی اقلیتوں کو ان کیمپس میں بند کر کے رکھا تھا۔

عوامی پلیٹ فارمز پر تو ٹرمپ انتظامیہ چین پر اس حوالے سے تنقید کرتی رہی ہے اور بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے چین میں مسلمانوں پر ظلم کرنے والے اہلکاروں کے خلاف پابندیوں کی منظوری دی۔

صدر ٹرمپ کے آئندہ انتخابات میں حریف امیدوار، جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ سب سچ ہے تو یہ نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ نفرت ہے بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی عوام کی جانب ذمہ داری کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘

جان بولٹن نے یوکرین کے بارے میں کیا کہا ہے؟

جان بولٹن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مواخذے کا نتیجہ شاید مختلف ہوتا اگر اس کی تفتیش میں یوکرین سے بات آگے لے جائی جاتی اور دیگر سیاسی مداخلت کی جانچ کی جاتی۔

جنوری میں صدر ٹر مپ کو یوکرینی صدر کو اس بات پر مجبور کرنے کہ وہ جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف یوکرین میں تفتیش شروع کریں اور اس کام کے لیے فوجی امداد روکنے پر مواخدے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے تمام الزامات کی تردید کی اور ان کی اپنی ہی ریپبلکن پارٹی کے کنٹرول میں سینیٹ نے انھیں بری کر دیا۔

کتاب میں دیگر اور بہت سے حیران کن انکشفات کیے گئے ہیں:

’ارے آپ بھی ایک جوہری پاور ہیں؟‘

دیگر باتوں کے علاوہ صدر ٹرمپ پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انھیں اتنا نہیں پتا تھا کہ برطانیہ ایک جوہری طاقت ہے۔

برطانیہ کے جوہری پروگرام کا 2018 میں وزیراعظم تھریسا مے کے ساتھ ایک ملاقات میں ذکر آیا تو صدر ٹرمپ نے کہا „او کیا آپ بھی ایک جوہری پاور ہیں؟‘ جان بولٹن کا کہنا ہے کہ انھیں واضح لگ رہا تھا کہ ٹرمپ نے یہ مذاق کی نیت سے نہیں کہا۔

جان بولٹن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے سابق چیف آف سٹاف جان کیلی سے پوچھا تھا کہ کیا فن لینڈ روس کا حصہ ہے؟

کتاب کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ وینزویلا پر حملہ کرنا ’کول‘ یعنی اچھا ہوگا کیونکہ ’لاطینی امریکہ کا یہ ملک اصل میں ہے تو امریکہ کا ہی حصہ۔‘

کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ افغانستان کی صورتحال کے بارے میں زیادہ خوش نہیں تھے اور کہتے ہیں کہ یہ جارج بش نامی ایک بیوقوف کا قصور ہے۔‘

جان بولٹن کا کہنا ہے کہ مئی 2019 میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روسی پراپگینڈا کی ایک شاندار مثال دیکھائی جب انھوں نے وینزویلا کے حزبِ اختلاف کے رہنما ہوان گوائڈو کو ہیلری کلنٹن جیسا کہا اور ٹرمپ کافی حد تک اس سے مائل بھی ہوگئے تھے۔

صدر پوتن کا مقصد اپنے ساتھی اور وینزویلا کے صدر نکولاس مڈورو کا دفاع کرنا تھا۔ یاد رہے کہ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے مڈورو پر پابندیاں لگائی تھیں۔

ایک انٹرویو میں جان بولٹن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں صدر پوتن انھیں کوئی بھی پٹی پڑھا سکتے ہیں۔

’یہ ایک اچھی جگہ نہیں ہے‘

جان بولٹن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی اہلکاروں کی اکثریت ان سے نفرت کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ خود وائٹ ہاؤس پہنچے تو جان کیلی نے ان سے کہا ’تم جانتے نہیں کہ میں یہاں سے نکلنے کے لیے کتنا بے چین ہوں اور یہ کام کرنے کے لیے اچھی جاہ نہیں جیسا کہ تمھیں اب پتا چلے گا۔ ‘

2018 میں شمالی کوریا کے ساتھ سربراہی اجلاس میں وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے جان بولٹن کو ایک نوٹ لکھ کر بھیجا تھا جس میں لکھا تھا کہ ’یہ آدمی بکواس سے بھرا ہے۔‘

مائیک پومپیو کو اکثر ٹرمپ کے شدید ترین حامیوں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ جان بولٹن کا کہنا ہے کہ مائیک پومپیو ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے تنگ آ کر استعفیٰ دینے کے بارے میں سوچا تھا۔

جان بولٹن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو پتھروں کے پیچھے بھی کوئی ساڑم نظر آتی ہے اور صدر ٹرمپ کو تو وائٹ ہاؤس چلانا نہیں آتا، بجائے اس کے مکمل وفاقی حکومت۔

جان بولٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خیال میں صحافیوں کو اپنے ذرائع بتانے ضروری ہونے چاہییں ورنہ انھیں جیل میں ڈالے جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

’ایک موقع پر صحافیوں کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ انھیں مار دینا چاہیے۔‘