پابلو ایسکوبار کے ساتھ مل کر منشیات فروشی کا بدنامِ زمانہ گروہ قائم کرنے والا شخص امریکی جیل سے رہا ہونے کے بعد جرمنی پہنچ گیا ہے۔ یہ گروہ میداجین ڈرگ کارٹل کے نام سے جانا جاتا تھا۔

70 سالہ کارلوس لیہڈر کو، جو کولمبین نژاد جرمن شہری ہیں، بہاماس کے ایک نجی جزیرے میں منشیات کی سمگلنگ کا اڈا قائم کرنے کی وجہ سے شہرت ملی۔

کارلوس لیہڈر کو سنہ 1987 میں کولمبیا سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا جہاں عدالت نے انھیں عمر قید کے علاوہ 135 برس قید کی سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیے

منشیات کی دنیا کے 'گاڈ فادر' ایل چاپو گوزمین مجرم قرار

میکسیکو:منشیات فروشوں کے ساتھ گزرے آٹھ ماہ کی کہانی

فضائی میزبانوں کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ

تاہم بعد میں جب وہ حکام سے تعاون پر راضی ہو گئے تو سزا میں کمی کر دی گئی۔

لیہڈر کی بیٹی مونیکا نے کولمبیا کے ایک جریدے سیمانا کو بتایا کہ لیہڈر کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور کیونکہ جرمنی میں ان کا کوئی رشتے دار نہیں ہے اس لیے وہاں ایک خیراتی ادارہ ان کی دیکھ بھال کرے گا۔

لیہڈر نے بدعنوان مقامی اہکاروں کی مدد سے جزیرے ’نارمنز کے‘ میں منشیات کا اڈا قائم کیا تھا جہاں سے ایک طیارہ کے ذریعے منشیات امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقے میں پہنچائی جاتی تھیں۔ جزیرے سے فلوریڈا تک کا سفر 210 میل تھا۔

انھیں کولمبیا میں ایک فارم سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر گروہ کے سربراہ پابلو ایسکوبار نے حکام کو ان کے بارے میں اطلاع ی تھی۔

لیہڈر کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ ان دنوں کولمبیا میں قائم منشیات فروش گروہوں کے خلاف مہم کی قیادت امریکہ کر رہا تھا۔

پانامہ کے رہنما مینول نوریگا کے خلاف گواہی دینے پر کارلوس لیہڈر کی سزا میں کمی کر دی گئی تھی۔

پانامہ کے رہنما مینول نوریگا کے میداجین کارٹل کے ساتھ قریبی روابط تھے اور وہ اس گروہ کو پانامہ کے راستے کوکین لے جانے کی اجازت دیتے تھے۔

گواہی دینے کے بعد لیہڈر کو فلوریڈا میں حکام کی جانب سے تحفظ فراہم کیا گیا۔

انھیں اپنے والد کی وجہ سے جرمن شہریت دی گئی جو جرمنی سے کولمبیا ہجرت کر گئے تھے۔ جرمنی کے خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق لیہڈر اس سے پہلے کبھی جرمنی نہیں گئے تھے اور وہاں ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں ہو گی کیونکہ وہ امریکہ میں اپنی سزا کاٹ چکے ہیں۔

ان کے وکیل آسکر ایروجاوی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ لیہڈر کولمبیا واپس نہیں جانا چاہتے اور جرمن حکام نے برلن میں رہائش کے سلسلے میں ان کی مدد کی ہے۔

لیہڈر کی بیٹی نے بتایا کہ وہ ایک عام مسافر طیارے کے ذریعے نیویارک سے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ پہنچے ہیں۔ ’میں نے انھیں 17 سال کے بعد دیکھا ہے۔ ان کی بیماری کے باوجود میں مطمئن ہوں کہ وہ خیریت سے ہیں۔‘

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق لیہڈر کے ہمراہ دو امریکی اہلکار تھے جنھوں نے انھیں جرمن حکام کے حوالے کیا۔

ایک اندازے کے مطابق سنہ 1970 اور 1980 کی دہائی میں امریکہ آنے والی کوکین کا 80 فیصد میداجین کارٹل نے سمگل کیا۔

پابلو ایسکوبار اور کارلوس لیہڈر کی شراکت میں ابھرنے والے منشیات کے گروہ میداجین کارٹل سے متعلق ٹی وی سیریز ’نارکوس‘ کو بھی بہت شہرت ملی۔

پابلو ایسکوبار سنہ 1993 میں کولمبیا میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے گئے تھے۔ حکام کی کوشش تھی کہ انھیں بھی گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا جائے لیکن انھوں نے آخری وقت تک مزاحمت کی۔

منشیات فروشی کی دنیا کا سب سے بڑا نام سمجھے جانے والی شخصیت پابلو اسکوبار کا تعلق لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے شہر میداجین سے تھا۔ اسی مناسبت سے ان کے گروہ کو میداجین کارٹل کہا جاتا تھا۔

27 سال قبل امریکہ کے ٹائم میگزین نے میداجین کو دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دیا تھا جہاں ڈرگ لارڈ شہذادوں کی طرح رہتے تھے اور ججوں اور پولیس اہلکاروں کا قتل عام سی بات تھی۔

اس شہر میں آئے دن سکیورٹی فورسز کے چھاپے پڑتے تھے اور اکثر عام شہری لاپتہ ہو جاتے تھے جن کا بعد میں کوئی سراغ نہیں ملتا تھا۔