انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کو یمن میں حوثی باغیوں سے برسر پیکار سعودی اتحاد کا نام بچوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی ’بلیک لسٹ‘ یا فہرست سے نکالنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ برس یہ کہا تھا کہ یمن میں سعودی اتحادی افواج جو حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں یمن کی حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہے اس کے حملوں میں 222 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس نے کہا ہے کہ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں کچھ عرصے سے کافی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یمن کے سابق رہنما عبداللہ صالح ’ہلاک‘

یمن میں سعودی اتحادی افواج کا حدیدہ بندرگاہ پر یلغار

یمن جنگ: سعودی اتحاد کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے الزام عائد کیا ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

تنظیم کے مطابق یمن میں پانچ سال سے جاری جنگ سے ملک مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس نے بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی سلامتی کونسل میں بچوں اور مسلحہ جھگڑوں کے بارے میں رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال یمن میں 2159 بچوں کے خلاف 4042 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

مجموعی طور پر 359 بچے ہلاک اور 1447 سے زیادہ معذور ہو گئے تھے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ 313 بچے حوثیوں کی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے جب کہ 222 بچے سعودی، 96 بچے یمن کی سرکاری افواج، 51 حوثی مخالف ملیشیاؤں اور پانچ عرب جزیرہ نما میں القاعدہ کے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس بحران میں ملوث عناصر کو بچوں کو بھرتی کرنے، حراست میں رکھنے، اغوا کرنے، جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

ان مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کو اس عالمی فہرست سے نکال دیا جائے گا جس میں ان ملکوں اور غیر ریاستی عناصر کو شامل کیا جاتا ہے جو بچوں کو محفوظ رکھنے کے اقدامات نہیں کرتے۔

جنرل سیکریٹری گتریز نے کہا کہ ’مستقل‘ اور ’کافی قابل ذکر تعداد‘ میں فضائی حملوں کے درمیان ہلاکتوں اورمجروح ہونے میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کے علاوہ ایک یاداشت پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے جس میں احتیاطی اور حفاظتی اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا ہے۔

ساتھ ہی سیکریٹری جنرل گتریز نے کہا ہے کہ اس پروگرام پر اگلے 12 مہینے میں نظر رکھی جائے گی اور اس میں کسی طرح کی غفلت یا خلاف ورزی پر دوبارہ اس فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بچوں کو اور زیادہ نقصان پہنچنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ میں بچوں کے حقوق کے شعبے کے ڈائریکٹر جو بیکر نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ ہی کی رپورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے سعودی اتحاد کو اس فہرست سے نکال کر اور زیادہ شرمندہ کر رہے ہیں۔

مسلح تنظیوں اور بچوں کے بارے میں خبر رکھنے والے شعبے کے ڈائریکٹر آندرے لیپر نے کہا کہ فہرست سے نکالنے سے طاقت ور عناصر کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ بچوں کو ہلاک کر کے بچ سکتے ہیں۔

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نوعیت کا فیصلہ کرنے سے قبل ایک آزادانہ، شفاف اور بامقصد جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اس ادارے کے ایک اور اہلکار ورجینا گیمبا سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب نے سیکریٹری جنرل پر دباؤ ڈالا ہو گا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’قطعی نہیں۔‘