دنیا بھر میں مشہور گلوکارہ ڈیم نیلی میلبا نے 15 جون سنہ 1920 کو برطانیہ میں ایسیکس کے علاقے چیمسفورڈ میں مارکونی کی تجربہ گاہ سے تاریخی نشریات پیش کی تھی۔

اوپرا گلوکارہ اینا سٹائیگر نے سو برس قبل دنیا میں پہلی بار براہ راست نشر ہونے والی اس پرفارمنس کو اسی شہر میں دوبارہ تخلیق کیا۔

ان کا کہنا تھا ’اس کا تصور کرنا مشکل ہے۔ یہ یقیناً ناقابل یقین رہا ہو گا۔‘

تاریخ دان ٹم وانڈر نے کہا کہ ڈیم نیلی کی نشریات ’وہ لمحہ تھا جب دنیا بدل گئی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹی وی کے پہلے کامیاب تجربے کی یادیں

ریڈیو پاکستان کی مفصل تاریخ

’موسیقی اعصاب کو پرسکون کر سکتی ہے‘

اس میں شامل اہم شخصیات نے دو سال بعد بی بی سی کی بنیاد رکھنے میں مدد کی تھی۔

ریڈیو کے موجد مارکونی سنہ 1898 میں چیمسفورڈ آئے اور انھوں نے پہلے پہل مورس کوڈ کے ذریعے پورے بحر اوقیانوس میں اور اس سے پرے جہازوں کو پیغام بھیجنے کی مشین تیار کی۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد مارکونی کے انجینئرز نے انسانی آواز کی نشریات اور تفریح فراہم کرنے والے پروگرامز پر توجہ مرکوز کی۔

’فرام مارکونی ٹو میلبا‘ کے مصنف مسٹر وانڈر نے بتایا کہ اخبار ڈیلی میل کے مالک وِسکاؤنٹ نارتھ کلف نے پہلی پیشہ ورانہ لائئو پرفارمنس کی مالی معاونت کرنے کا فیصلہ کیا۔

مصنف کے مطابق ’جب ڈیم نیلی سے پہلی بار پوچھا گیا تو وہ یہ نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے کہا ’میری آواز تجربہ کرنے کی شے نہیں ہے۔‘

’لیکن جب نارتھ کلف نے انھیں ایک ہزار پاؤنڈ کی پیشکش کی (جو کہ آج کا تقریباً 45 ہزار پاؤنڈ بنتا ہے) اور یہ رقم 20 منٹ کے گانے کے لیے کم نہیں تھی۔ اس کے بعد وہ تیار ہو گئیں۔‘

جب مارکونی کے پبلیسٹی ہیڈ آرتھر بروز نے ڈیم نیلی کو 450 فٹ کا ریڈیو ماسٹ دکھایا تو اس وقت نیلی کی عمر 59 برس تھی اور انھوں نے اسے دیکھ کر کہا: ’نوجوان، اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں اس پر چڑھوں گی تو آپ کو بہت غلطی ہوئی ہے۔‘

مسٹر وانڈر نے بتایا ’انھیں پوری دنیا میں سنا گیا۔ انھیں سویڈن میں، فرانس اور جرمنی میں سنا گیا اور یہاں تک کہ ایران میں رائل فلائنگ کور میں بھی انھیں صاف سنا تھا۔‘

’اس کے جو اثرات مرتب ہوئے آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ پیرس میں ریڈیو سگنل اتنا اچھا تھا کہ شانزے لیزے میں جب انھوں نے اسے نشر کیا تو لوگ سڑکوں پر ناچ رہے تھے۔‘

ڈیم نیلی کو جب احساس ہوا کہ ان کی آواز کو ہزاروں لوگوں نے سنا ہے تو انھوں نے کہا: ’لیکن انھوں نے اس کے لیے نہ تو ٹکٹ خریدا اور نہ ہی ریکارڈ خریدا۔ بس سب نے مفت میں سنا۔‘

چیمسفورڈ میں تاریخ کے اوراق کا چلتے چلتے دورہ کرانے والے ایلن پامفیلون نے کہا کہ آج موبائل فون استعمال کرنے والے نوجوانوں کو یہ احساس نہیں کہ اس کی ابتدا چیمسفورڈ میں مارکونی کے کام سے ہوئی۔

انھوں نے کہا ’یہ وہ شہر ہے جہاں الیکٹرانک دور کا آغاز ہوا۔‘

مسٹر وانڈر اور فیلیسیٹی فیئر تھامسن نے مشترکہ طور پر نشریات کے بارے میں ایک ڈرامہ لکھا ہے جس کے بارے میں پہلے یہ خیال تھا کہ اسے ایسکس 2020 فیسٹیول کے حصے کے طور پر چیمسفورڈ سیوک تھیٹر میں پیش کیا جائے گا۔

لیکن کووڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے ایک ریڈیو ڈرامے میں تبدیل کردیا گیا اور اسے اسٹیگر کے لائو پروگرام کے ساتھ پیش کیا جا چکا ہے۔

اینا سٹائیگر نے کہا ’اس وقت اوپرا گلوکار ایسے تھے جیسے آج کل راک سٹار ہیں۔‘

ڈیم نیلی میلبا اتنی مشہور تھیں کہ ان کے نام پر پیچ میلبا جیسے میٹھے کا نام رکھا گیا۔ پیچ میلبا آڑو، راس بیری سوس اور ونیلا آئس کریم سے بنتا ہے۔