سائنسدان ایک تجرباتی دوا کا یہ جانچنے کے لیے ٹیسٹ کریں گے کہ آیا اس کی مدد سے کووڈ 19 سے منسلک مہلک شریانوں اور رگوں میں خون جمنے کی بیماری (بلڈ کلاٹنگ) سے بچا جا سکتا ہے یا نہیں۔

’برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن‘ کی مالی اعانت سے کیے جانے والے اس ٹرائل کے ذریعے یہ پتا چلانے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا کورونا وائرس انفیکشن کے باعث پیدا ہونے والا ہارمونز کا عدم توازن بلڈ کلاٹنگ کا باعث بنتا ہے۔

یہ کورونا وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کے بدترین اثرات کو روکنے کے لیے آزمائشی دواؤں میں سے ایک بن جائے گی۔

کورونا کے باعث ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں میں سے ایک تہائی مریضوں کو بلڈ کلاٹنگ جیسے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹی آر وی 027 نامی دوا فشار خون، پانی اور نمک سے متعلقہ ہامونز کے عدم توازن کو درست کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ایمپیرئل کالج لندن کے سائنسدان اس ٹرائل سے منسلک ہیں۔ اُن کا خیال کہ جب وائرس انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ اینزم (خلیہ) کو استعمال کرتے ہوئے انسانی جسم کے خلیوں میں دخل انداز ہوتا ہے۔

میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کیسے کروایا؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

افریقی ممالک میں جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ’کورونا کی دوا‘ کا چرچہ

کورونا: امریکہ نے ’ریمڈیسیور‘ نامی دوا کے استعمال کی اجازت دے دی

مگر یہ دوا اینزم کو غیر فعال بنا دیتی ہے جو کہ ہارمونز کا توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب ہارمونز عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں تو خون لیس دار ہو جاتا ہے اور لوتھڑوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ٹی آر وی 027، جس کے خالق کو یہ دوا بنانے پر سنہ 2012 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا، انسانی جسم میں دخل اندازی کر کے ہارمونز کو توازن حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

کووِیڈ 19 سے شفایابی کے لیے بہت سارے علاج آزمائے جا رہے ہیں، تاہم ان ٹرائلز کے دوران جسم میں سوزش کے ردعمل سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

اس ٹرائل کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ اوون کہتے ہیں کہ ہارمونز کا عدم توازن اپنی نوعیت کا ایک الگ ہی مسئلہ ہے اور اس گتھی کو سلجھا کر شاید ان سوالات کا جواب مل پائے کہ کووڈ 19 سے متاثرہ چند مریض بہت سے دوسرے مریضوں کی نسبت شدید بیمار کیوں پڑ جاتے ہیں۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق بلڈ کلاٹنگ اس بات کی وضاحت بھی کر پائے گی کہ نظام تنفس سے متعلقہ ہونے کے باوجود کووِڈ 19 ایسے افراد کو متاثر کرتی کیوں نظر آ رہی ہے جنھیں پہلے ہی دل کی بیماریاں لاحق ہیں۔

مختلف ادویات کا ٹرائل

اس تحقیق کے معاون نگران ڈاکٹر کاٹ پولاک کا کہنا ہے کہ چونکہ کووِڈ 19 ایک پیچیدہ بیماری ہے جو انسانی جسم کے بہت سے حصوں کو متاثر کرتی ہے اس لیے اس دوا کا استعمال دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر کیا جا سکتا ہے۔

آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے اس ٹرائل میں لگ بھگ 60 مریضوں پر اس تجرباتی دوا کا کسی نہ کسی صورت میں استعمال کیا جائے گا۔

یہ کہا گیا ہے ایسے مریض جنھیں دل بند ہونے کے خطرات لاحق ہیں یہ دوا ان کے لیے بےضرر ہے۔

ٹی وی آر 027 بہت سے ایسی ادویات میں سے ایک ہے جن پر ٹرائلز جاری ہیں۔

کم از کم دس مختلف اینٹی وائرل ادویات، بشمول ایچ آئی وی یا ایڈز کے مریضوں کو دی جانے والی دوا، کے یا تو ٹرائل جاری ہیں یا مکمل ہو چکے ہیں۔

کسی بھی دوا کے بارے میں ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اکیلے کورونا کے خلاف موثر کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم بہت سی ادویات کا مجموعہ استعمال کرنے سے کورونا مریض کے مرض کے دورانیے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ریمڈیسویر کے کورونا متاثرین پر بہتر اثرات نظر آئے ہیں۔ یہ دوا اس خلیے پر حملہ آور ہوتی ہے جس کی مدد سے کورونا وائرس انسانی جسم کے خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کورونا سے صحت یاب ہونے والے متاثرین سے حاصل کیا گیا پلازمہ بھی بہتر نتائج دکھا رہا ہے۔ یہ پلازمہ صحت یاب ہونے والے متاثرین سے حاصل کر کے ایسے کورونا مریضوں کو دیا جاتا ہے جن میں مرض کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔