امریکی فضائیہ کے تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہونے والے لڑاکا طیارے کا ملبہ مل گیا ہے تاہم حکام ابھی تک پائلٹ کی تلاش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ ایف 15 سی ایگل پیر کی صبح یورپ کے شمال میں واقع بحیرہ شمال میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ امریکی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں صرف ایک پائلٹ سوار تھا۔

امریکی فضائیہ کا ایف 15 سی ایگل طیارہ برطانیہ کے شہر سفوک میں واقع آر اے ایف لیکن ہیتھ سے اڑا تھا اور برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر چالیں منٹ پر بحیرہ شمال میں جا گرا تھا۔

امریکی فضائیہ کے حکام کے مطابق اب تک حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہو پایا ہے اور امدادی کارکن اس وقت پائلٹ کو تلاش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حادثہ یارک شائر کے مشرقی ساحل سے 74 ناٹیکل میل دور پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کا مہنگا ترین جنگی جہاز گر کر تباہ

سعودی عرب کا جنگی طیارہ یمن میں گر کر تباہ

انڈیا کا ایک اور مگ 21 طیارہ تباہ

برطانوی کوسٹ گارڈ کی ترجمان کے مطابق ہیلی کاپٹر اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے پائلٹ کی تلاش جاری ہے جبکہ علاقے میں موجود دیگر بحری جہاز بھی پائلٹ کو تلاش کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

امریکی فضائیہ کے 48ویں فائٹر ونگ کے کمانڈر کرنل ول مارشل کا کہنا تھا کہ 'پائلٹ کی تلاش اور امداد کا آپریشن جاری ہے تاہم پائلٹ ابھی تک لاپتہ ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'پائلٹ کے اہلخانہ کی تکریم اور تکلیف کا احساس ہے اور اس بارے میں جیسے ہی کوئی خبر ملے گی توہم انھیں مطلع کریں گے۔ ہم اس واقعہ میں اپنی ہم منصب برطانوی فوج کے بے حد مشکور ہیں جنھوں نے پائلٹ کی تلاش کے اس آپریشن میں ہماری بھرپور مدد کی اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے پائلٹ کو جلد تلاش کر کے بازیاب کر لیا جائے گا۔'

امریکی فضائیہ کا ایف 15 سی ایگل، ایک نشت والا دفاعی لڑاکا جنگی طیارہ ہے اور امریکی فضائیہ اس طیارے کو سنہ 1979 سے استعمال کر رہی ہے۔

آر اے ایف لیکن ہیتھ فضائی اڈا انگلینڈ میں امریکی فضائیہ کے زیر استعمال سب سے بڑا اور یورپ میں امریکی لڑاکا طیارہ ایف 15 کا واحد اڈہ ہے۔