سابق امریکی فوجی پال وہیلن کو ماسکو کی ایک عدالت نے روس میں جاسوسی کرنے کے جرم میں 16 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

سابق امریکی مرین کو 18 ماہ قبل ماسکو کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے ایک 'یو ایس بی' ڈرائیو بھی برآمد کی گئی تھی جس میں روس کے سکیورٹی حکام کے مطابق خفیہ معلومات موجود تھیں۔

ماسکو شہر کی ایک عدالت نے انھیں خفیہ معلومات حاصل کرنے اور رکھنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

پال وہیلن جو امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آئرلینڈ کی شہریت رکھتے ہیں انھوں نے بند دروازے کے پیچھے چلنے والے اس مقدمے کو فیصلے سے قبل ہی ’ایک ڈھونگ‘ قرار دیا تھا۔

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اس فیصلے کے مذمت کی ہے۔

ماسکو میں امریکی سفیر جان سلوین نے اس مقدمے کو غیر منصفانہ اور غیر شفاف قراد دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ روس اور امریکہ کے تعلقات پر اثر انداز ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری جنگ عظیم کی وہ جاسوس جن سے نازی ’ڈرتے‘ تھے

گلگت بلتستان پولیس کا دو ’انڈین جاسوس‘ پکڑنے کا دعویٰ

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے انتہائی رازداری میں چلایا جانے والا یہ مقدمہ جس میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، بین الاقوامی انسانی حقوق اور قانونی اقدار کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

مقدمے کی آخری سماعت کے دوران پال وہیلن نے ایک کاغذ پر ہاتھ سے لکھی ایک تحریر مجرموں کے کٹھہرے کے شیشے سے لگائی رکھی جس میں اس مقدمے کو ایک ’ڈھونگ اور ڈرامہ‘ کہا گیا تھا۔

مقدمے کے فیصلے کے وقت کورونا وائرس کے باعث احتیاطی طور پر ٹی وی کیمروں کو کمرۂ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ شیشے کے کٹھہرے میں وہیلن نے چیخ چیخ کر اپنی بے گناہی کے بارے میں بتانے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو من گھڑت اور مضحکہ خیز قرار دیا۔

گزشتہ سماعت کے دوران انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات بالکل غلط ہیں اور ان کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔ وہ واضح طور مایوس اور غصے میں نظر آ رہے تھے اور انھوں نے اپنے تفتیش کاروں پر دھمکیاں دینے اور دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا۔

پیر کو سماعت کے دوران وہ کافی پرسکون نظر آ رہے تھے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی۔ انھوں نے سماعت کے دوران موجود تین امریکی سفارت کاروں کو ہاتھ بھی ہلایا۔

پال وہیلن یہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ان کے خلاف فیصلہ پہلے سے طے کر لیا گیا تھا لیکن یہ فیصلہ جب عدالت میں سنایا گیا تو انھیں اس کا ترجمہ کر کے نہیں سنایا گیا۔ امریکی سفارت کاروں نے عدالت سے کہا کہ پال وہیلن کو فیصلے کا ترجمہ کر کے بتایا جائے لیکن جج حضرات عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔

پال وہیلن کون ہیں؟

پال وہیلن کی عمر پچاس برس ہے اور ان کے پاس چار ملکوں، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور جمہوریہ آئرلینڈ کی شہریت ہے۔ ان کے والدین برطانوی شہری تھے اور ان کی پیدائش کینیڈا میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے۔

فوجی ریکارڈ کے مطابق 1994 میں وہ فوج میں بھرتی ہو ئے اور فوج کی نوکری کے بعد وہ مشی گن ریاست میں پولیس میں ملازمت کرنے لگے۔ وہ 2004 اور 2006 میں دو مرتبہ عراق میں تعینات رہے۔ پہلی مرتبہ وہ روس اس وقت گئے تھے جب وہ امریکی فوج میں حاضر سروس تھے اور اس کے بعد بھی کئی مرتبہ روس گئے۔

پال وہیلن کو سنہ 2018 میں ماسکو میں ان کے ہوٹل کے کمرے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

وہ کسی شادی میں جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے جب اچانک ان کا ایک پرانا دوست ان سے ملنے کے لیے آ گیا۔

اس کے چند لمحوں بعد سکیورٹی اہلکاروں نے دھاوا بول دیا اور انھیں خفیہ راز حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

عدالت کے فیصلے پر ان کے گھر والوں نے بیان میں کہا کہ ’روسی عدالتی نظام پر دراصل ناانصافی کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔‘

ان کے گھر والوں نے اس بیان میں مزید کہا کہ 'انھیں امید تھی کہ عدالت شاید آزادی کا مظاہرہ کرے لیکن روسی جج عدالتی نہیں بلکہ سیاسی ملازم ہیں۔ '

انھوں نے مزید کہا کہ وہیلن کے وکلاء فیصلے کے خلاف دو ہفتوں کے اندر اپیل دائر کریں گے اور ساتھ ہی انھوں نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہیلن کو گھر لانے کے لیے جلد از جلد اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔