کیتھی سلیوان کا اپنے شعبے کے انتخاب کے پیچھے مقصد خبروں میں رہنا قطعاً نہیں تھا۔

سنہ 1984 میں خلا میں واک کا مشن مکمل کرنے والی 68 برس کی ارمیکی خاتون کا ذکر تو پہلے ہی تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے، اس ہفتے وہ پھر اخبارات کی سرخیوں کی زینت بنیں اور اس بار اس کی وجہ ان کا سمندر میں سب سے گہری جگہ پر 11 کلومیٹر نیچے تک کا کامیاب سمندری سفر بنا۔

یہ بظاہر کسی بھی دماغ میں دو متضاد اہداف ہیں۔ یہی دو انتہائیں ڈاکٹر کیتھی کی زندگی کا بھی مقصد بن کر رہ گئیں تاکہ وہ اپنے اردگرد اس کائنات کے رازوں کو ٹھیک طور پر سمجھ سکیں۔

بحر اوقیانوس سے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیتھی سلیوان نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی ہمیشہ مہم جو قسم کی رہی ہیں، ایک ایسی بچی جس کے ایسے مشاغل تھے جو عموماً لڑکیوں کے لیے معاشرتی طور پر اچھے نہیں سمجھے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر کیتھی امریکی ریاست نیو جرسی میں سنہ 1951 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن کیلیفورنیا میں گزرا۔ پیشے کے اعتبار سے ان کے باپ ایک ایئروسپیس انجنیئر تھے جو اپنی اہلیہ اور دونوں بچوں کو اپنی بحث میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

خلا کے بعد سمندر میں سب سے گہرے مقام کا سفر کرنے والی خاتون

سائنس کی دنیا کی پانچ نامورخواتین

جنھوں نے ٹیکنالوجی کو اپنا ہتھیار بنایا

ڈاکٹر کیتھی کا کہنا ہے کہ ان کے والدین ان کی دلچسپی والے ہر موضوع پر خوب تسلی کراتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے بہترین دوست تھے جو ہمارے شوق کو جہاں تک ہم چاہتے تھے وہاں تک لے جانے میں مدد کرتے تھے۔۔ ہو سکتا ہے یہ شوق دو دن کے اندر ختم ہوجائے یا پھر یہ زندگی بھر کے لیے ہمارے کریئر کا حصہ بن جائے۔

جب وہ پانچ یا چھ سال کے تھے تو انھیں یہ معلوم ہو گیا تھا ان کا بھائی پائلٹ بن کر ہوائی جہاز چلانے کا شوق رکھتا ہے جبکہ کیتھی کی دلچسپی نقشوں اور اہم جگہوں کو مسخر کرنے میں تھی۔

ڈاکٹر کیتھی کا کہنا ہے کہ ہم دونوں کے ہی کرئیر اپنے بچپن کے خوابوں کی تعبیر کا اہم ذریعہ تھے۔

چھوٹی بچی کے طور پر کیتھی نئی ایجادات سے متعلق جاننے کے لیے ہر اخبار اور میگزین کو کھنگالتی تھیں اور ٹی وی رپورٹ کو بغور دیکھتی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جیک کوسٹیو سطح سمندر کے نیچے کی دریافت کا بانی بن رہا تھا اور مرکری سیون امریکیوں کے ذہنوں پر خلائی نقشوں کو ابھار رہے تھے۔

ڈاکٹر کیتھی کہتی ہیں کہ: میں نے ان لوگوں کو دیکھا۔۔ یہ سب مرد تھے۔۔ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑا۔۔ میں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کی زندگیاں مہم جوئی میں گزرتی ہیں، وہ ایسی جگہوں پر جاتے ہیں جہاں پہلے کوئی نہیں گیا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس علم کے خزانے ہیں اور وہ مزید بھی سیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 20 سا کی عمر سے پہلے ہی یہ میرا مشن بن چکا تھا کہ میں نے بھی یہی کام کرنے ہیں، مجھے بھی یہی خطابات اور لیبل حاصل کرنے ہیں، میری سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لیکن میں جو بات بہت واضح طور پر جانتی تھی وہ یہ تھی کہ میں بھی اپنی زندگی ایسی ہی گزارنا چاہتی تھی، میں اپنی زندگی میں تحقیق، مہم جوئی اور اہلیت کا حسین امتزاج چاہتی تھی۔

ڈاکٹر کیتھی کی یہ منزل پہلے انھیں دیگر زبانیں سیکھنے کا سبب بن گیا اور گریجوایشن سے پہلے انھوں نے ارتھ سائنسز کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا۔ سنہ 1970 کے دنوں میں زیادہ تر اس کام کو مردوں سے ہی منسوب سمجھا جاتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ لڑکے ’فیلڈ کیمپس‘ میں جاتے تھے، انھوں نے میلے کچیلے کپڑے ہوتے تھے، وہ کبھی نہیں نہاتے تھے، وہ حقیقت میں اوباش دکھائی دے رہے تھے جو ان کے دل میں آتا وہ کرتے۔ ڈاکٹر کیتھی کا کہنا ہے کہ ان لڑکوں کے درمیان ان کی موجودگی کو ان کے مشاغل میں ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

ڈاکٹر کیتھی نے اس وقت محسوس کر لیا تھا کہ کوئی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ انھیں کبھی ان کی صنف کی وجہ سے پریشانی اور ہراسگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں ان کے مرد اساتذہ اور ساتھیوں نے بہت ساتھ دیا۔ وہ انھیں ایک قابل طالبعلم، بہت قابل جیالوجسٹ اور اپنے سفر کا اہم حصہ سمجھتے تھے۔

ڈاکٹر کیتھی نے میرین سائنس کے پروفیسر میں اپنے عزائم کی تکمیل کے ذریعے کے طور پر دیکھا اور پھر انھوں نے سمندری سائنس سے متعلق پڑھائی کرنا شروع کردی۔

زمین سے متعلق اپنے علم کو مزید جلا بخشنے کے لیے انھوں نے امریکہ کے خلائی ادارے ناسا میں ملازمت کے لیے درخواست دی۔ ان کے مطابق ان کا ناسا میں ملازمت اختیار کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر انھوں نے یہ منزل عبور کر لی اور وہ خلابازی کے لیے منتخب ہو گئیں تو پھر وہ ستاروں کی کہکشاؤں سے دنیا کا نظارہ کرسکیں گی۔

ڈاکٹر کیتھی کو ناسا کی سنہ 1978 کی کلاس میں داخلہ مل گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب خواتین کو بھی خلابازی کے شعبے میں جگہ ملی۔

35 افراد کی کلاس میں سے صرف چھ کا انتخاب ہوا۔ ان چھ خوش نصیبوں میں سے ایک ڈاکٹر کیتھی بھی تھیں جنہوں نے سنہ 1983 میں خلا کا سفر شروع کیا۔

خلا بازی کے شعبے میں پہلی خاتون منتخب ہونے کے بعد منفرد چیلنجز پر غور شروع کیا۔ اس ہفتے بھر کے مشن کے لیے انجنیئرز نے خاص طرح کی میک اپ کٹس تیار کرنے کی کوششیں کیں اور انھوں نے اس سفر میں ضرورت پڑنے والے ’ٹیمپٹنز‘ سے متعلق بھی مبالغہ آمیز اندازہ لگایا۔

ڈاکٹر کیتھی کا پہلا مشن STS-41-G پانچ اکتوبر 1984 کو شروع ہوا۔ یہ ناسا کے ’سپیس شٹل پروگرام‘ کی تیرویں فلائٹ تھی اور سپیس شٹل چیلنجر کا یہ چھٹا سفر تھا۔

11 اکتوبر 1984 کو ڈاکٹر کیتھی نے تاریخ رقم کی جب وہ خلا میں جانے والی پہلی امریکی خاتون بن گئیں۔ اس سفر میں اپنے ساتھی ڈیوڈ لیسٹما کے ساتھ خلا میں واک کی اور مدار میں ری فیولنگ کے امکانات کا جائزہ لیا۔

اس کے بعد وہ دو اور مشن کا بھی حصہ رہیں۔ جس میں سنہ 1990 میں ہبل سپیس ٹیلی سکوپ کی لانچ کا مشن بھی شامل ہے۔ انھوں نے خلا میں 532 گھنٹے گزارے۔ ڈاکٹر کیتھی نے اپنے اس مشن کی بدولت سنہ 2004 میں ’آسٹروناٹ ہال آف فیم‘ میں جگہ بنائی۔

ڈاکٹر کیتھی کا کہنا ہے کہ خلا میں میری واک ساڑھے تین گھنٹے طویل تھی۔ ان کے مطابق خلا میں واک کرنا بڑا معنی رکھتا ہے مگر خلا میں واک کرنے کا یہ تجربہ بہت مختصر تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ خواتین میرے نقش قدم پر چل رہی ہیں اور اب وہ بھی یہ کر رہی ہیں، آپ کو معلوم ہے کہ یہ بہت واضح ہے، بہت پیچیدہ ہے اور بہت محنت طلب ’سپیس واکس‘ ہیں۔

ڈاکٹر کیتھی کئی سالوں سے دیکھ رہی ہیں کہ اب اس شعبے میں سینیئر عہدوں پر بھی خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب خواتین کمانڈنگ رول ادا کر رہی ہیں اور خلا میں جانے والے مشن کے انتظامات کررہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب اس شعبے میں بہت اچھی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اب یہ رحجان نوجوان لڑکیوں کے لیے بھی حوصلے کا ذریعہ بن رہا ہے کہ وہ بھی خلا میں جا سکتی ہیں۔ کوئی آپ کو راہ نہیں دکھا سکتا، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ اپنے لیے خطرات مول لے رہی ہیں، آپ کو مستقل مزاج ہونا ہو گا اور استقامت دکھانی ہوگی۔

آپ کو خود چیلنجز سے نبرد آزما ہونا ہوگا۔ اب کم از کم مواقع موجود ہیں۔ اب آپ اپنا رستہ خود بنا سکتے ہیں۔

گذشتہ سال پہلی بار صرف خواتین نے خلا میں واک کی۔ اس میں کم ازکم ڈاکٹر کیتھی کہ لیے بھی ایک خوشگوار لمحہ تھا۔ خاص طور پر کرسٹینا کوچ نے وہی ’لائف سپورٹ سسٹم بیک پیک‘ زیب تن کر رکھا تھا جو سنہ 1984 میں ڈاکٹر کیتھی نے پہنا تھا۔

سنہ 1993 میں ناسا چھوڑنے پر ڈاکٹر کیتھی نے نیشنل اوشنک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) میں چیف سائنسدان کے طور پر شمولیت اختیار کر لی اور پھر بعد میں صدر باراک اوباما کے دور میں اس ادارے کی ایڈمنسٹریٹر رہ چکی ہیں۔

اس عرصے میں انھوں نے سینٹر آف سائنس اینڈ انڈسٹری (سی او ایس آئی) کے صدر اور سی ای او کے طور پر بھر کئی سال گزارے۔ وہ اوہائیو یونیورسٹی میں ایک امتیازی عہدے پر رہیں۔

ان کی سمندر کی تہہ میں جانے سے متعلق ایک سرپرائز دعوت نیوی کے ایک سابق افسر وکٹرویسکوو کی طرف سے ملی تھی، جنھوں نے لوگوں کو پانی کے نیچے لے جانے کے مشن پر کروڑوں ڈالر اور کئی سال خرچ کیے۔

’چیلنجر ڈیپ‘ کو زمین پر ابھی تک سمندر میں سب سے گہرا مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقام سطح سمندر میں 11 کلومیٹر نیچے واقع ہے۔ ماریانہ نامی یہ گہرائی بحرالکاہل کے 200 میل جنوب مغرب میں گوہام کے مقام پر واقع ہے۔

سنہ 1960 میں دو لوگ۔۔ امریکی نیوی کے لیفٹیننٹ ڈان والش اور سوئزرلینڈ کے ماہر بحری علوم جیک پیکارڈ اس مقام تک پہنچے تھے۔

وکٹر ویسکوو جو خود بھی ایک محقق ہیں کا کہنا ہے کہ ان کے اس نجی مشن کا مقصد سمندر اور سائنس میں دلچسپی بڑھانا ہے۔ گذشتہ برس وہ ہر سمندر کے سب سے گہرے مقام پر جانے والے پہلے شخص بنے تھے۔ اس بحری سفر میں انھوں نے اپنی دو ٹن گہری سمندری گاڑی (ڈی ایس وی) کا استعمال کیا تھا، جو ایک معاون بحری جہاز سے سمندر میں اتاری گئی تھی۔

ڈاکٹر کیتھی کا کہنا ہے کہ وکٹر نے انھیں اس تازہ مشن کے لیے ای میل سے یہ دعوت نامہ بھیجا تھا کیونکہ ان کے خیال میں یہ ایک مناسب وقت ہے کسی عورت کے لیے وہ سمندری گہرائی میں بھی جا کر مشاہدہ کرے۔

ان کو یہ شبہ ہے کہ ان کی ڈان والش سے دوستی اس سمندری سفر کے دعوت نامے کی وجہ بنی۔ تاہم جب انھوں نے وکٹر کے سفر کے بارے میں معلومات اکھٹی کیں تو پھر انھوں نے خوشی سے یہ دعوت قبول کر لی۔

گذشتہ اتوار کو انھوں نے وکٹر کے ساتھ 35،800 فٹ نیچے سفر طے کر کے اس مقام کی تہہ تک پہنچنے والی آٹھویں شخصیت اور پہلی خاتون تھیں۔

وہ اس سفر کو ایک جادوئی تہہ پر پہنچنے جیسا قرار دیتی ہیں۔

ان کے مطابق اس سمندری سفر میں ’لینڈر‘۔۔ جو ایک بغیر پائلٹ روبوٹک گاڑی جو سطح سمندر پر پر ایسا اترتی ہے اور پھر ان کے ساتھ ساتھ گہرائی میں ایسے سفر طے کر رہی ہے کہ جیسے کوئی خلائی مخلوق خلا میں کچھ تلاش کر رہی ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ان جگہوں پر پر جانا ایک جادوئی تجربے جیسا ہے کیونکہ ہم ان جگہوں پر ان جیسی ٹیموں کی طرف سے آسانی پیدا کرنے کی وجہ سے جا سکتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو وہاں لے کر جاتے ہیں جہاں ہمارے کرنے کا کوئی کام نہیں ہوتا۔

اور ہم یہ عام کپڑوں میں کر سکتے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ میں نے اتوار کو دوپہر کا کھانا 31،000 فٹ نیچے کھایا، جو کہ بہت ہی دلچسپ تجربہ ہے۔

یہ ادارہ: ای وائی او ایس ایسپیڈیشنز، جو ایسی مہمات کا اہمتام کرتی ہے۔ وہ انٹرنیشل سپیس سینٹر (آئی ایس ایس) کے درمیان رابطے کو بھی یقینی بناتی ہے۔ یہ ایک انسان کے دو انتہائی مختلف طرح کے تجربات ہیں۔

اس سفر سے متعلق ایک پریس ریلیز میں اس مہم کے منتظمین نے وکٹر ویسکوو کے اس مشن اور خلائی مشن ’سپیس ایکس‘ میں موازنہ بھی کیا۔ اس پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں نجی کمپنیوں کے لیے ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے نادر مواقع موجود ہیں۔

ڈاکٹر کیتھی سلیوان کا خیال ہے کہ ہمیں بحیثیت اقوام اور افراد ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس کی علم کی سرحدوں کو مزید وسیع کرنے کی کوششیں کرتے رہنا چاہیے۔

انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضیات میں دنیا بھر میں تنوع کو یقینی بناتے ہوئے ان شعبوں میں خواتین کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

ان کے مطابق لیب میں کھڑا ایک ایسا شخص جو بس اپنے انداز میں اعداد و شمار اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے امور انجام دے رہا ہے محض ایک۔۔۔

وہ کہتی ہیں کہ دقیانوسی تجربہ گاہیں لیب میں ایک ایسے فرد کی طرح ہیں، جس کا کام محض اعداد اور اصولوں کا شمار کرتا رہتا ہے۔ لیکن کئی شعبوں میں، خاص طور پر جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کا عمل دخل رہتا ہے تو وہاں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا لازمی ہوتا ہے۔

کیا ڈاکٹر کیتھی سلیوان اب کسی مزید کسی مہم جوئی کے لیے تیار ہیں؟

ان کا جواب ہاں میں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں دریافت کے عمل کی کئی شکلیں ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے آپ بذات خود خلا میں موجود ہوں یا بحرالکاہل کی تہہ میں ہوں۔ ان کے مطابق ایسے بہت سارے موضوعات اور مضامین ہیں جن پر تحقیقاتی کام کیا جا سکتا ہے۔

’جب تک مجھے مستقبل میں کسی چھوٹے سے لکڑی کے تابوت میں ڈال کر کہیں نہیں رکھ دیا جاتا، میں یہ تحقیقاتی کام مرتے دم تک کرتی رہوں گی۔‘