سنہ 331 قبل از مسیح میں روم میں سب کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ شہر بھر میں اہم شخصیات بڑی تعداد میں ایک مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو رہی تھیں۔ جانوں کا یہ زیاں جتنا پریشان کُن تھا اتنا ہی پُرخطر بھی تھا۔

پھر ایک دن ایک غلام خاتون مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئیں اور انھیں اشارہ دیا کہ جیسے وہ جانتی ہیں کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے۔ اس خاتون نے کہا کہ اِس کے پیچھے اونچے طبقے کی بعض خواتین کی ایک خفیہ تنظیم کارفرما ہے جو کہ خفیہ انداز میں زہر تیار کرتی ہے۔ تفتیش کاروں نے لڑکی کی نشاندہی پر ایسے گھروں پر چھاپے مارے جہاں اُس کے بقول اس خفیہ تنظیم کی کارندہ خواتین موجود تھیں اور ’سازش‘ پکڑ لی گئی۔

ملزم خواتین کو شہر کے مرکزی چوراہے میں گھسیٹ کر لایا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ ان سے کہا گیا کہ چونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے تیار کردہ شربت دراصل دوا ہیں، تو کیا وہ انھیں پی کر دکھا سکتی ہیں؟

دو ملزم خواتین نے اپنا بنایا ہوا شربت پیا اور وہیں ہلاک ہو گئیں۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر چھاپوں مارے گئے اور اس دوران 170 خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ روم والوں نے ایک افسر مقرر کیا جسے ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ شہر سے برائی کا خاتمہ کرنے والی رسومات ادا کرے۔

ان واقعات کا ذکر معروف مؤرخ لِیوی نے کیا ہے جو اس واقعہ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے تھے۔ مگر نہ تو وہ اس بات کے قائل تھے اور نہ ہی جدید دور کے ماہرین کہ ان پُراسرار ہلاکتوں کے پیچھے مذکورہ خواتین کا کوئی ہاتھ تھا۔ لِیوی کے نزدیک اس کا ایک زیادہ معقول سبب موجود تھا۔ اور وہ تھا ایک عالمی وبا۔

یہ بھی پڑھیے

چاند پر انسانی کمند اور سازشی مفروضے

ذہین افراد افواہوں پر کیوں یقین کر لیتے ہیں؟

بل گیٹس کورونا وائرس سے متعلق سازشی نظریات کا مرکز کیسے بنے

اس وقت شہر میں ایک نامعلوم وبا آئی ہوئی تھی۔ اجتماعی زہر خورانی کا تو کسی نے سُنا بھی نہیں تھا۔ درحقیقت وہ عورتیں دوا ہی تیار کر رہی تھیں، باقی کہانی تو گھڑ لی گئی تھی۔

سنہ 331 قبل از مسیح میں زہر خورانی کے اس واقعے کو ’سازشی نظریہ‘ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد ان اموات کے اسباب بیان کرنا تھا جن کی اصل وجہ کچھ اور تھی۔ آج کی وبا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

برطانیہ میں اس افواہ کے بعد کہ کووڈ 19 طاقتور عالمی ٹیلی مواصلات کی صنعت کی وجہ سے پھیل رہا ہے، اپریل سے اب تک ٹیلی فون کے 77 پولز (کھمبوں) اور 40 انجینیئرز پر حملے ہو چکے ہیں۔ یہ افواہ اب امریکہ بھی پہنچ چکی ہے اور مزید نقصان کا خدشہ ہے۔ ایک مرتبہ پھر ہوش کی بجائے جوش سے کام لیا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس طرح کے نظریات عام قبولیت کیوں اختیار کر لیتے ہیں؟

اس کی کوئی ایک معلوم وجہ نہیں ہے۔ جدید سوچ کے مطابق سازشی نظریات قدرتی انتخاب کے اصول پر کارفرما رہتے ہوئے بہت تیزی سی فروغ پاتے ہیں اور معاشرے میں موجود درست معلومات کے خلا کو پُر کرتے ہیں۔ جبکہ کئی دوسرے نظریات انٹرنیٹ کے تاریک کونوں کھدروں تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔

سازشی نظریہ ایک ایسا نظریہ ہے جو کسی اہم واقعہ کے بارے میں عام وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے اُس واقعے کے پیچھے کسی نادیدہ قوت، گروہ یا تنظیم کے ہونے پر یقین رکھے، اور یہ سمجھے کہ مذکورہ واقعہ کسی خفیہ منصوبے کا حصہ ہے۔

سازش لوگوں کو کیوں لبھاتی ہے؟ کیا ہم در پیش مسائل کے بارے میں اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں، اور اس کا حل کیا ہے؟

بد اچھا، بدنام برا

کامیاب سازشی نظریات کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے ادارے، تنظیم یا شخص کے سر اس کا الزام تھوپ دیا جائے جس سے عوام الناس پہلے ہی بدظن ہوں۔

یونیورسٹی آف شکاگو میں قدیم تاریخ کی ماہر وِکٹوریا پیگن کے ایک تجزیے کے مطابق ممکن ہے کہ رومی زہر خورانی کی سازش کی کامیابی کا کسی حد تک سبب یہ رہا ہو کہ طاقتور مرد امرا اونچے طبقے کی خواتین اور غلاموں سے خائف رہتے ہوں اور ایسی خواتین اور غلاموں کو بدنام کرنے کے درپے رہتے ہوں۔

اگرچہ تمدن کا انحصار حاکم اور محکوم دونوں گروہوں پر رہا ہے، لیکن مرد ہمیشہ سے شاکی رہے ہیں کہ ان کے ماتحت ان کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔ اعلٰی رتبہ خواتین کو بالعموم شک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور انھیں ’گُھنی اور خطرناک‘ کے روپ میں پیش کیا جاتا تھا۔

دوسری طرف غلاموں اور باندیوں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنے مالکوں کو وقتاً فوقتاً قتل کر دیتے ہیں۔ امیر طبقے میں یہ وہم بھی جڑ پکڑ چکا تھا کہ غلام اور باندیاں دوسروں کے لیے جاسوسی کرتی ہیں اس لیے قابلِ اعتبار نہیں۔

مختصراً یہ کہ ’قاتل خواتین‘ پر مشتمل ایک سازشی ٹولے پر لونڈیوں کا الزام حقیقت سے زیادہ دل کو بھایا اور قابل اعتبار سمجھا گیا۔

اجتماعی اضطراب

اسی طرح جدید دور میں بھی یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ زیادہ تر مقبول عام سازشی نظریات خلائی مخلوق، مذہبی اقلیتوں، طاقتور امرا، دشمن ممالک، خفیہ ٹیکنالوجی اور ماحول کی تباہی جیسے موضوعات سے متعلق ہیں۔

یونیورسٹی آف کینٹ میں سماجی نفسیات کی ماہر ڈاکٹر کیرن ڈگلس کہتی ہیں کہ ’دنیا بھر میں لوگ عام طور پر ان نظریات پر یقین کرتے ہیں جو کسی مخصوص جگہ پر پیش آنے والے ثقافتی یا تاریخی واقعات سے متعلق ہوں۔‘

ہر معاشرے کے اندر اندیشے اور ہیجان پائے جاتے ہیں اور کامیاب سازشی نظریات ان ہی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

رومانیا ہی کی مثال لیجیے جہاں خواتین نے اپنی بچیوں کو ’ایچ پی وی‘ کا حفاظتی ٹیکا لگوانے سے انکار کر دیا۔ یہ وائرس 99 فیصد سروائکل کینسر یعنی بچہ دانی کے سرطان کا سبب بنتا ہے۔

جب سنہ 2008 میں پہلی بار یہ ویکسین لگائی گئی تو رومانیہ میں صرف 2.5 فیصد خواتین نے یہ حفاظتی ٹیکا لگوایا۔ اس کم ترین شرح کی وجہ سے سکولوں میں شروع کیا گیا یہ منصوبہ بالآخر ترک کر دیا گیا۔ یہ خاصا تعجب خیز ہے کیونکہ باقی یورپ میں اس ویکسین کی مقبولیت کی شرح 80 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ جبکہ سروائکل کینسر سے ہونے والی ہلاکتوں کا تناسب یورپ کے مقابلے میں رومانیہ میں سب سے زیادہ ہے۔

اس حفاظتی ٹیکے کے بارے رومانیہ میں بچیوں کی ماؤں کی بدگمانی کی کئی وجوہات ہیں۔ مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک بڑا سبب ان سازشی نظریات کی بھرمار ہے جو اس کی مفت فراہمی کے محرکات سے متعلق ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا مقصد خواتین کو بانجھ کر کے دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہے، اور یہ کہ ادویاتی صنعت ایک نیا طبی تجربہ کرنا چاہتی ہے، حالانکہ ان میں سے کسی بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

ہو سکتا ہے اس کی ایک وجہ ملک میں خواتین کی تولیدی صحت کے ساتھ طویل عرصے پر محیط چھیڑ چھاڑ اور نظام صحت پر عوام کا عدم اعتماد ہو۔ اب بھی معمولی سے کام کے لیے طبی عملے کو رشوت دینا پڑتی ہے۔ سروے میں شامل کئی خواتین نے ویکسین کی مفت فراہمی پر شک کا اظہار کیا تھا۔

بعض اوقات ایسے خدشات ہمارے لاشعور کے کسی نہاں خانے میں جگہ بنا لیتے ہیں اور جب کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آتا ہے تو یہ خدشات پھر سے اُبھر کر ہمارے اجتماعی شعور میں موجود سازشی نظریات کی آبیاری کرنے لگتے ہیں۔

اینٹی سمیٹِک یا سامی النسل مخالف نظریات، مثلاً یہ کہ یہودی طاقتور ہیں اور کسی خفیہ شیطانی منصوبے میں ملوث ہیں، تاریخی اعتبار سے سماجی اور معاشی بحران کے دوران پنپتے ہیں۔ اور شاید اس کا سبب یہ ہو کہ اس طرح سے لوگ ایک پیچیدہ اور مشکل سماجی اور معاشی صورتحال کی ذمہ داری کسی پر عائد کر کے اسے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔

قبائلیت

یہ مقبول سازشی نظریات کا ایک اور اہم جزو ہے جو بطور ایک سماجی گروہ کے ہمیں احساسِ تفاخر میں مبتلا کرتا ہے اور مخالفیں کو نیچا دکھاتا ہے۔ بقول ڈگلس ’یہ آپ کی قومیت، جنس یا کسی اور چیز پر مبنی گروہ ہو سکتا ہے۔ ایسے تعصبی رجحانات کو تسکین پہنچانے کے لیے سازشی نظریات کے کارگر ہونے کے شواہد موجود ہیں۔‘

’اندرونی گروہ‘ اور ’بیرونی گروہ‘ میں تمیز کر کے سازشی نظریات درحقیقت سماجی بندھنوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور کسی گروہ کے ارکین کو مخالفین کے مقابلے میں تحفظ کا احساس دلاتے ہیں۔ اسی طرح سازشی نظریات باہمی تنازعات میں ملوث گروہوں میں بھی عام پائے جاتے ہیں۔

غیر یقینی

ڈگلس کہتی ہیں کہ ’بعض تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ بحرانی کیفیت میں لوگ سازشی نظریات کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔‘

یہ تصور کہ ’5 جی‘ اور موبائل فون کے پرانے نیٹ ورک مضرِ صحت ہیں، اس وقت سے پایا جاتا ہے جب 30 برس قبل موبائل فون عام استعمال میں آئے۔ ان پر آٹزم، بانجھ پن، سرطان اور دوسرے امراض پیدا کرنے کے جھوٹے الزامات لگے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ایسے بے بنیاد خیالات سخت گیر سازشی نظریات کے حامل افراد تک ہی محدود رہے۔

دسمبر 2019 میں کورونا وائرس نے اس خیال کو ایک نئی جہت دی۔ 22 جنوری 2020 کو، جب اس وائرس نے صرف 314 افراد کو متاثر اور چھ کو ہلاک کیا تھا، شائع ہونے والے ایک مضمون نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

یہ بیلجیم کے ایک گمنام فیملی ڈاکٹر کا انٹرویو تھا جس کا عنوان تھا ’5G (فائیو جی) جان لیوا ہے مگر کسی کو خبر نہیں۔‘ اس مضمون نے کورونا وائرس کو 5G سے جوڑ دیا حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ بس الزام ہی کافی تھا!

ڈگلس کہتی ہیں ’کسی بڑے واقعے کے پیش آنے کے بعد سازشی نظریات بہت جلد جنم لیتے ہیں۔ جب لوگ کسی بڑے تنازعے یا بحران کو سمجھنے کے لیے ذہنوں میں ابھرنے والے سوالوں کے جواب کی جستجو میں ہوتے ہیں تو سازشی نظریات اچانک سے وارد ہونے لگتے ہیں۔‘

انھوں نے ان سازشی نظریات کی طرف بھی اشارہ کیا جو آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے بعد گردش کرنے لگے تھے۔

فائیو جی کا نظریہ کئی سازشی نظریات کا آمیزہ ہے کیونکہ اس میں انسان کے بڑے بڑے گمانوں کو گھوٹ کر ان سے ایک لذیذ مشروب تیار کیا گیا ہے۔

اس کے اندر جہاں نادیدہ اور انجانی ٹیکنالوجی کا دائمی خوف موجود ہے وہیں اس اضطراب سے بھی فائدہ اٹھایا گیا ہے جو چین کے ایک نئی عالمی سپرطاقت کے طور پر ابھرنے سے پیدا ہوا ہے۔

فائیو جی سازشی نظریے کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک کہانی ہے۔ اور یہ پریوں کی کہانیاں، داستانیں، حکایات اور لایعنی باتیں ہی ہیں جن کی مدد سے ہمارا دماغ دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ سلسلہ ہزاروں برس پیچھے جاتا ہے اور انسان کو دوسرے جانوروں سے جدا کرتا ہے۔ بحران کے وقت ہم شاید اس لیے سازشی نظریات کا سہارا لیتے ہیں کہ ان سے ہمارے اندر یقین پیدا ہوتا ہے۔

سازشی نظریات کے اندر ایک اچھی کہانی کے تمام لوازمات پائے جاتے ہیں: ان میں خطرناک ولن یا دشمن ہوتا ہے، اچھوتا پلاٹ ہوتا ہے اور یہ سبق آموز ہوتے ہیں۔ یہ ہی سبب ہے کہ اچھی طرح سے تخلیق کیا گیا ایک سازشی نظریہ عوام کی سوچ پر چھا جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

بعض ماہرینِ نفسیات سازشی نظریوں کا موازنہ مذہبی عقائد سے کرتے ہیں۔ مثلاً غیر متوقع واقعات کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔

دوسرے ماہرین کے نزدیک ایسے نظریات بعض مذہبی عقائد سے قریب تر ہونے کی وجہ سے فوراً اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو ان نظریات کے بارے میں اتنے پکے ہوتے ہیں کہ انھیں ثابت کرنے کے لیے وہ اپنی زندگی داؤ پر لگانے کو تیار رہتے ہیں۔

علم کی کمی

اہم سازشی نظریات بالعموم کسی ابہام یا بھید کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں، مثلاً کسی فضائی حادثے میں جہاز کی تباہی یا کسی اہم شخصیت کی موت جیسے واقعات جن کے اسباب نامعلوم ہوں یا انھیں خفیہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔

ایسے میں سازشی نظریات معلومات کے خلا کو پُر کر دیتے ہیں۔ اور عوامی تجسس کی فوری تسکین کا باعث بنتے ہیں کیونکہ سائنسی حقائق اور سرکاری انکوائری کے نتائج آنے میں وقت لگتا ہے۔

سنہ 1990 میں جب سائنسدان اینڈریو ویکفیلڈ نے جھوٹا دعوٰی کیا کہ ’ایم ایم آر‘ ویکسین آٹزم کا سبب بن سکتی ہے تو اسے سائنسی بنیادوں پر غلط ثابت کرنے میں دہائیاں لگ گئیں۔ اس دوران یہ سازشی نظریہ بہت زیادہ نقصان پہنچا چکا تھا۔

سازشی نظریات کے بارے میں جنتی زیادہ بات کی جائے وہ اسی قدر حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔

مثلاً 5G اور کووِڈ 19 کے باہمی ربط کے بارے میں کیے گئے صرف 34.8 فی صد ٹویٹس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ لوگ اس پر یقین کرنے لگے ہیں جبکہ اکثریت نے اس بات کو گمراہ کُن قرار دیا یا کسی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ بدقسمتی سے جن لوگوں نے اس کے غلط ہونے کے بارے دلائل پیش کیے یا محض تفریح کے لیے اس کے بارے میں بات کی انھوں نے حقیقت میں اس نظریے کی شہرت میں اضافہ کیا۔

ڈگلس کہتی ہیں کہ بعض سازشی نظریات، مثلاً یہ کہ دنیا کا نظام چند خاص لوگوں پر مشتمل ایک گروہ چلا رہا ہے، عالمگیر حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔

مذموم مقاصد

بدلتے سماج کے ساتھ ایسے نظریات بھی بدل رہے ہیں۔ نیو ہیمپشائر میں ڈارمتھ کالج سے وابستہ سیاسیات داں رسل موئرہیڈ اِن نظریات کی سمت کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’روایتی طور پر سازشی نظریات کا سہارا لینے والے افراد مرکزی دھارے سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے ان لوگوں کا ہتھیار ہے جو طاقت اور اختیار نہیں رکھتے اور ذمہ دار افراد کا احتساب کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اب اس طرح کا مواد براہ راست ان لوگوں کی طرف سے آ رہا ہے جو بااختیار اور طاقتور ہیں، اور یہ ہی بات انتہائی غیر معمولی ہے۔‘

کورونا کی عالمی وبا پھیلنے کے بعد کئی عالمی رہنماؤں نے ان سازشی نظریات کی حمایت کی جو ان کے اپنے مقاصد سے مطابقت رکھتے تھے۔ مثلاً امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایسے شواہد دیکھے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ کوروناوائرس چین کی ایک لیبارٹری سے خارج ہوا ہے، حالانکہ ان کے اپنے انٹیلیجنس اداروں کا کہنا ہے کہ ایسا دعوی کا کوئی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

موئرہیڈ کہتے ہیں کہ ہمارے اپنے ہی ہتھیار ہمارے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں: ’سیاستدان حقائق اور شواہد کو مٹا کر ایک ایسی دنیا تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے اہداف کے لیے سازگار ہو۔‘

یہ پورا منظر نامہ اس وقت زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جب امریکا جیسے ملکوں میں سیاسی مخالفت انتہاؤں کو چھونے لگے۔

موئرہیڈ ’پیزا گیٹ‘ کی مثال پیش کرتے ہیں جسے میں امریکہ میں سابق صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے منیجر کو ایک پیزا ریسٹورنٹ کے تہہ خانے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے گروہ کے ایک ایسے سکینڈل سے جوڑا جاتا ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور جس کی وسیع پیمانے پر مذمت بھی کی گئی ہے۔

ہر طرح سے من گھڑت ہونے کے باوجود سنہ 2016 میں اسے اتنی حمایت حاصل ہوئی کہ مذکورہ ریستوران کے اندر ایک شخص نے رائفل سے فائرنگ کر دی۔

موئرہیڈ کے مطابق یہ ’سازشی نظریہ دنیا کے بارے میں کسی بات کی وضاحت نہیں کرتا بلکہ ہیلری کلنٹن کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے جو نہ صرف اپنے مدِمقابل امیدوار کے مقابلے میں کم پسندیدہ ہیں بلکہ نازیوں سے بدتر ہیں۔‘

موئرہیڈ نے اپنی کتاب ’اے لاٹ آف پیپل آر سیئنگ‘ میں عالمِ سازش میں ایک نیا رجحان ’بغیر کسی نظریے کے سازش‘ متعارف کرواتے ہیں۔ یہ کتاب انھوں نے ہاورڈ یونیورسٹی کی سیاسیات داں نینسی روزنبلم کے ساتھ مل کر تصنیف کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’مذکورہ پیزا ریسٹورنٹ میں نہ صرف یہ کہ بچوں کو اسیر نہیں رکھا گیا تھا بلکہ وہاں سرے سے کسی تہہ خانے کا وجود ہی نہیں تھا۔ ہمیں حیرت اسی بات پر ہے کہ یہ بیانیہ شروع سے آخر تک من گھڑت تھا۔‘

اپنی بات کی وضاحت میں وہ کہتے ہیں کہ سازشی نظریے عام طور پر کسی حقیقی بنیاد پر تعمیر کیے جاتے ہیں یعنی کوئی ایسا واقعہ جسے رونما ہوتے ہوئے دیکھا جا سکے مگر اس کی وجوہات سمجھ سے بالاتر ہوں، مثلاً کوئی سیاسی قتل یا حملہ۔ گویا اس کی اساس میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہوتی ہے اور پھر اس حقیقت کے ارد گرد سازش بُنی جاتی ہے۔ مگر جدید سازشی نظریے اس حقیقی بنیاد کے محتاج نظر نہیں آتے، چاہے وہ کتنے ہی جھوٹ پر مبنی ہوں۔

اس بارے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟

موئرہیڈ کے خیال میں اس مسئلہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ ماہرین، حکومتوں اور طاقتور اداروں نے بتدریج لوگوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔

ان کے مطابق حقیقی جمہوریت، صالح حکومت اور معتبر اداروں کے قیام کی مدد سے نظام ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’امریکہ میں ایسا 20ویں صدی کے ابتدائی عشروں میں آنے والی نسلوں کے لیے بہتر طرز حکومت، ترقی پسندانہ اصلاحات اور خواتین کو حق رائے دہی دے کر کیا گیا تھا۔‘

دوسری طرف ڈگلس اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ سمجھنا انتہائی اہم کہ سازشی نظریات کہاں سے آتے ہیں اور کیسے پھیلتے ہیں کیونکہ اس بات کے قوی شواہد ہیں کہ ان پر یقین کرنے کے نتائج سنگین ہوتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس بارے میں بہت کم تحقیق ہوئی ہے کہ زمین کے چپٹا ہونے، ایلومیناٹی اور چاند پر جانے سے متعلق سازشی نظریات کی عمر اتنی طویل کیوں ہے اور دوسرے سازشی نظریات جلد کیوں دم توڑ جاتے ہیں۔ وہ اس بات پر خود بھی تحقیق کرنا چاہتی ہیں۔

کئی دہائیوں پر محیط تحقیق اور اس موضوع سے متعلق لوگوں کی ختم نہ ہونے والی جستجو کے باوجود اس میدان میں اب بھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔ ڈگلس کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں محققین کے مابین ایک عام اتفاق رائے ہے کہ ہم سازش کے عہد میں جی رہے ہیں، مگر اس تصور کے پیچھے بھی کسی طرح کے حقیقی شواہد موجود نہیں ہیں۔‘

کسے پتا کہ یہ ایک نئی سازش ہی ہو۔۔۔