نائجیریا میں شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے دو حملوں میں درجنوں فوجی اور عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب سے برونو نامی ریاست میں ہوئے۔

حملے آوروں نے منگونو نامی قصبے کو نشانے بنایا جہاں اقوامی متحدہ کے اور امدادی کارکن مقیم ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں پر حیرت زدہ ہیں۔ یہ حملے گوبیو نامی گاؤں پر حملے میں 81 افراد کی ہلاکت کے چند دن بعد کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

نائجیریا میں 75 ہزار بچوں کے ’بھوک سے مرنے کا خطرہ‘

نائجیریا: اغوا ہونے والی 76 لڑکیوں کو رہا کرا لیا گیا

بوکو حرام کی ذیلی تنظیم جو خود کو اسلام سٹیٹ ان ویسٹ افریقہ کہتے ہے نے کہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے وہ ہیں۔

اس گروہ نے چار سال پہلے اپنے وفا داری دولت اسلامیہ کے ساتھ ظاہر کی تھی۔

حملوں میں کیا ہوا؟

ان تازہ دو حملوں میں کم از کم 20 فوجی اہلکار اور 40 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

حملے کا نشانے بننے والے دیہاتوں کے مقامی افراد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے 38 افراد کو گولی ماری جبکہ مسافروں سے بھر ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔

سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ کم از کم 15 افراد اور نو فوجی اہلکار وہاں سے 60 کلو میٹر دور منگونو نامی دیہات میں مارے گئے۔

شدت پسند بھاری اسلحوں اور راکٹ لانچر سے لیس منگونو گاؤں میں آئے۔ یہاں پر قومی اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے دفاتر ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایک بیان میں اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد شہری جن میں چار سال کی ایک بچی بھی شامل ہے اس حملے میں ہلاک ہو گئے جبکہ 37 افراد زخمی ہیں۔

کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ قریب ہی میزائل بھی ملا جو پھٹ نہیں سکا۔

شدت پسندوں نے مقامی افراد میں خطوط تقیسم کیے جن میں ان دھمکایا گیا تھا کہ وہ کسی فوجی یا بین الاقوامی امدادی تنظیم میں کام نہ کریں۔

بتایا گیا ہے کہ یہ تنظیم عام طور پر ایسے شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی جو امدمدی تنظیموں کے ساتھ کام نہ کرتے ہوں یا ان پر فوج کو معلومات پہنچانے کا شبہ نہ ہو۔