سنگاپور خود کو باغوں کا شہر کہلانا پسند کرتا ہے، سڑکوں کے کنارے قطار اندر قطار لگے درخت، سرسبز پارکس اور شہر کی عمارتوں کے گرد لگے پودے اسے جاذبِ نظر بناتے ہیں۔

سنگاپور کے باغیچے اور پارکس ہمیشہ اچھی دیکھ بھال کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہاں موجود درختوں کی تراش خراش بہتر انداز میں ہوتی ہے، گھاس مناسب طریقے سے کٹی ہوتی ہے اور پارکس کی بھی مسلسل دیکھ بھال ہوتی ہے۔

تاہم کورونا وائرس کی وبا کے باعث جہاں ایک طرف معمولات زندگی میں کچھ تبدیلیاں ہوئیں ہیں اور نظام زندگی کچھ معطل ہوا ہے وہی سنگاپور میں بھی لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے باعث ان باغیچوں کی دیکھ بھال ویسے نہیں ہو پا رہی جیسے پہلے ہوتی تھی۔ درحقیت قدرت کو آزادانہ طور پر پروان چڑھنے کا ایک موقع دستیاب ہوا ہے۔

آج کل شہری علاقوں میں حشرات کی زندگی کی گہما گہمی دکھائی دیتی ہے، لمبی اونچی بڑھی ہوئی گھاس، خودرو جنگلی پھول اور عمارتوں کے سامنے اگی ہوئی کُھمبیاں جن پر کیڑے مکوڑوں اور تتلیوں کی بہتات دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لاک ڈاؤن سے شہد کی مکھیوں کو کیسے فائدہ ہو رہا ہے؟

مذہب ہمیں ماحول دوست بناتا ہے یا ماحول دشمن؟

کیا کووِڈ 19 کا ماحولیات پر اثر دیرپا ثابت ہو گا؟

اب جبکہ شہر لاک ڈاؤن کے باعث عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے خاموش ہو گیا ہے تو یہاں ایک نایاب موقع ہے کہ ایک لمحے کو رُک کر اس قدرتی حسن کا جائزہ لیا جائے۔ بلکہ یہاں تو بہت سے لوگوں نے قدرت کے زیادہ اچھے تجربے کے لیے مہارت اور نفاست سے بنائے گئے اس جدید شہر کو فطرت کے عین مطابق پروان چڑھنے کے لیے تنہا چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

سات اپریل کو سنگاپور میں کورونا کی وبا کے پیش نظر لاک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس لاک ڈاؤن کو ’سرکٹ بریکر‘ کا نام دیا گیا۔ سنگاپور کی عوام سے کہا گیا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے وہ گھروں میں رہیں اور باہر صرف ورزش یا انتہائی ضروری کام سے نکلیں۔

شہر کی بیشتر گرین بیلٹس میں گھاس کو کاٹنا اُن دنوں میں غیر ضروری سمجھا گیا، دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ وہ مزدور جو زیادہ تر گھاس کی کٹائی کا کام کرتے ہیں وہ بنگلہ دیش یا انڈیا سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہوئے تھے، اور یہ وہ ہی طبقہ ہے جو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

ان میں سینکڑوں افراد اپنے رہن سہن کے نامناسب حالات کے سبب روزانہ وائرس سے متاثر ہو رہے تھے اور حکومت نے ان کو ان کی جھونپڑیوں اور کمروں تک محدود رکھنے کے لیے ان پر زیادہ سخت لاک ڈاؤن پابندیاں نافذ کی تھیں۔

سنگاپور کے نیشنل پارکس بورڈ کے مطابق صرف زمین کی تزئین و آرائش سے متعلقہ ضروری خدمات انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ کم سے کم کارکنوں کو کام پر بلایا جائے۔ قومی پارکس بورڈ کے مطابق اس کے لیے افرادی قوت کا محض چار سے 20 فیصد استعمال کیا جا رہا ہے۔

جیسکا ٹین سون نیو نے فیس بک پر لکھا کہ جب وہ بڑی ہو رہی تھی تو اس طرح کے مناظر عام تھے۔ انھوں نے کہا ’جب میں چھوٹی تھی تو میں چھوئی موئی کے پودوں کو ہاتھ لگانے اور اس کے پتے بند ہوتے دیکھنے سے لطف اندوز ہوتی تھی۔‘

ماہر حیاتیات اور فطرت کے قریب رہنے کے خواہشمند افراد اس حوالے سے فوراً یہ کہہ رہے تھے کہ کورونا کی وجہ سے سنگاپور کے شہری علاقوں میں زیادہ فعال ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع نظر آ رہا ہے۔

نیچر سوسائٹی (سنگاپور) سے تعلق رکھنے والی کانگ من اینگو کہتی ہیں ’اس بڑھی ہوئی گھاس کی وجہ سے ہم زیادہ تتلیوں اور دوسرے کیڑوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کیڑوں کو کھانے والے پرندے بھی کثرت سے بڑھتے جا رہے ہیں۔‘

اس لاک ڈاؤن کے عرصے کے دوران بہت سے افراد اپنے روزمرہ کے معمولات میں ارد گرد حیاتیاتی تنوع اور فطرت کے قدرتی نظارے سے لطف اندوز اور ان میں زیادہ دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں جبکہ قدرتی ماہرین ان نظاروں کی تصاویر ایک آن لائن گروپ پر شیئر بھی کر رہے ہیں۔

ان تصاویر میں ایک ’پیراڈائز ٹری‘ نامی چھوٹے سانپ کی تصویر بھی ہے جو ایک گھر کے دو ستونوں کے درمیان اپنا راستہ بنا رہا ہے جبکہ دوسری تصویر میں ایک لمبی دم والا طوطا دکھ رہا ہے۔

اس صورتحال سے بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے جیسا کہ کیا سنگاپور کو شہر میں اگی گھاس کاٹنے کے دورانیہ کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس حیاتیاتی تنوع کو پروان چڑھنے کا موقع مل سکے؟

نامزد ممبر پارلیمنٹ والٹر تھیسرا نے مقننہ میں یہ سوال اٹھایا تھا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مہاجر مزدوروں کی صورت میں سستی مزدوری پر کم انحصار کیا جائے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سرکٹ بریکر کے نام سے لگائے گئے لاک ڈاؤن نے سنگاپور کو یہ احساس دلایا ہے کہ دراصل قدرتی حسن کسے کہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے مہارت سے ترتیب دیے گئے باغیچوں میں کچھ بھی نارمل نہیں تھا، اب جب ہم وہاں کسی کو گھاس یا درختوں کی کانٹ چھانٹ کرتا نہیں دیکھتے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔‘

تاہم سنگاپور کے نیشنل پارکس بورڈ نے کہا ہے کہ پابندیوں میں نرمی آنے کے بعد وہ آہستہ آہستہ گرین بیلٹس اور جھاڑیوں کی کانٹ چھانٹ کے عمل کو تیز کر دیں گے۔ بورڈ نے لمبی گھاس کے اگنے پر صحت اور حفاظت کے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے باعث ڈینگی پر قابو پانے کے کام میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

لیکن بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مزید ایسے علاقوں کی چھان بین کرے گا جہاں گھاس اور پودوں کو ’فطرت کے طریقے‘ کے مطابق آزادانہ طور پر بڑھنے دیا جا سکے۔ اور حالیہ مہینوں میں ان کا پیغام سنگاپور باغیچوں کے شہر سے تبدیل ہو کر سنگاپور قدرتی ماحول کا شہر ہو گیا ہے۔

نیشنل پارکس بورڈ کا کہنا ہے ’چونکہ شہر میں گرین بیلٹس سمیت شہری نظاروں کو بہتر بنانے کے متعلق کارروائیوں کو مرحلہ وار انداز میں بڑھانے پر غور کیا ہے، ہم مزید فطری نوعیت کے مناظر پیش کرتے رہیں گے جو مزید حیاتیاتی تنوع کو راغب کریں گے۔‘

نیچر سوسائٹی (سنگاپور) سے تعلق رکھنے والے انوج جین کے مطابق لوگوں کو اس تبدیلی کو سمجھنے کی ضرورت ہے جسے کے وہ پہلے عادی تھے اور جس کی وہ توقع رکھتے ہیں۔

جین کا کہنا ہے ’ہم ایسے ممالک کو جانتے ہیں جہاں سڑکوں ہر گھاس تھوڑی زیادہ اگی ہوتی ہے اور اسے اکثر کاٹا نہیں جاتا اور لوگ بھورے میدان قبول کرتے ہیں لیکن یہاں سنگاپور میں ہم سب کچھ صاف اور مناسب ترتیب سے دیکھنے کے عادی ہیں۔‘

اس وبا کے بعد سنگاپور کو سستی مزدوری پر اپنے انحصار کا دوبارہ جائزہ لینا پڑے گا کہ وہ کتنے تارکین وطن مزدوروں کو محفوظ طریقے سے رکھ سکتا ہے۔ قدرتی ماحول کو کس قدر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، یہ مباحثے مستقبل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

لیکن فی الحال بہت سی اور جگہوں کی طرح سنگاپور کا قدرتی حسن لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکلنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔