یہ انتھونی المجیرا کے کیریئر کا بدترین دن تھا۔ اپریل کے مہینے میں صرف ایک شفٹ کے دوران انتھونی کو ایک درجن خاندانوں کو مطلع کرنا پڑا ان کے پیارے کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اور اس کے بعد تو یہ انتھونی کے لیے معمول بن گیا۔

انتھونی نیویارک کے فائر ڈیپارٹمنٹ کی ایمرجنسی میڈیکل سروس کے نائب صدر اور لیفٹیننٹ پیرامیڈک ہیں۔

انھوں نے ہمیں نیویارک میں کورونا کی وبا کے عروج کے بارے میں بتایا، جب ایمرجنسی میں اتنی ہی کالز موصول ہو رہی تھیں جتنی نائن الیون حملوں کے بعد موصول ہوئی تھیں۔

امریکہ میں بیس لاکھ سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور صرف ریاست نیویارک میں 30 ہزار لوگ اس وبا کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ نیویارک میں ہونے والی اموات کورونا سے بُری طرح ہونے والے ممالک فرانس اور سپین سے بھی زیادہ ہیں۔

اب نیویارک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے اور دو روز قبل صرف 36 نئے مریض سامنے آئے جو وبا کے پھیلنے کے بعد سے نئے مریضوں کی کم ترین تعداد ہے۔ نیو یارک میں پیرا میڈکس اب بھی کورونا وائرس کی علامات والے مریضوں کی کالز سُن رہے ہیں لیکن ایسی کالز کا حجم اب اتنا زیادہ نہیں ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

نیویارک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نقل و حمل پر عائد پابندیاں اب نرم کی جا رہی ہیں۔

لیکن گذشتہ کئی ماہ کے دوران نیویارک کے رہائشیوں کو جس صورتحال کا سامنا رہا ہے، 43 سالہ انتھونی ابھی تک اس سے سمجھوتہ نہیں کر پائے ہیں۔

جب وبا اپنے عروج پر تھی تو انتھونی کو ایک شفٹ کے دوران نو سے تیرہ ایسے لوگوں سے نمٹنا پڑ رہا تھا جنھیں دل کا دورہ پڑا ہوا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ بطور معاون طبی عملہ (پیرامیڈک) موت کو قریب سے دیکھنا، ان کے پیشے کا حصہ ہے لیکن گذشتہ دو ماہ کے دوران انھوں نے ہارٹ اٹیک سے جتنے مریضوں کو مرتے دیکھا ہے، اتنے انھوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں نہیں دیکھے تھے۔ ان میں اکثریت ایسے مریضوں کی تھی، جو کورونا وائرس سے متاثر تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھیں برونکس کے علاقے سے ایک کال موصول ہوئی۔ انھیں بتایا گیا کہ ایک عورت جس کی صحت ٹھیک نہیں اور وہ صوفے پر پڑی ہوئی ہے۔

’جوں ہی میں کمرے میں داخل ہوا، مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ کافی دیر پہلے ہلاک ہو چکی تھیں۔‘

اس خاتون میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی اور ان کا بیٹا ان کی دیکھ بھال کر رہا تھا لیکن اُس روز وہاں ان کا بیٹا نہیں بلکہ بہو گھر میں موجود تھی۔

’میں نے وہاں موجود خاتون سے پوچھا کہ آپ کے شوہر کہاں ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ ہفتے ہلاک ہو گئے ہیں۔ مرنے والی عورت کو نہیں معلوم تھا کہ اُن کا وہ بیٹا جو اُن کی دیکھ بھال کر رہا تھا وہ خود اب اس دنیا میں نہیں رہا۔‘

انتھونی بتاتے ہیں کہ جب کورونا کی وبا اپنے عروج پر تھی تو اس سے متاثرہ زیادہ تر افراد کی عمریں پچاس برس سے زیادہ تھیں لیکن ان میں تمام ایسے نہیں تھے جو دوسری بیماریوں کی وجہ سے زیادہ خطرےمیں تھے۔

انتھونی ایک اور مریض کی روداد سناتے ہیں۔ ’اُس 31 سالہ شخص میں کووڈ 19 کی تمام علامات تھیں لیکن وہ پھر بھی کھانے پینے کی اشیا کی دکان پر کام کرنے جا رہے تھے کیونکہ وہ بیمار پڑنے کا متحمل ہی نہیں ہو سکتے تھے اور اسے اپنے علاوہ اپنی سات برس کی بیٹی کو خوراک مہیا کرنے کے لیے کام کرنا تھا۔‘

انتھونی اور ان کے معاون عملے نے گھر میں اس شخص کی نبض کو پھر سے چالو کر دیا تھا اور انتھونی کو قوی امید تھی کہ یہ شخص اب بچ جائے گا۔ انتھونی کو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شخص زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔

جب کورونا کی وبا اپنے عروج پر تھی تو شہر میں مرنے والوں کے کفن و دفن کے مسائل پیدا ہو چکے تھے۔

ایک مقامی ہسپتال پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے نیوی کا ایک موبائل جہاز ہسپتال وہاں لنگر انداز کر دیا گیا تھا۔ آہستہ آہستہ مرنے والوں کی یومیہ تعداد 200 سے کم ہو گئی۔ کورونا سے مرنے کی تدفین کے لیے ہارٹ آئی لینڈ میں ایک خندق کھود کر لکڑی کے کفن وہاں جمع کیے گئے تھے۔

اس وبا کے دوران انتھونی کو اتنے زیادہ مریضوں کو مردہ قرار دینا کہ اب انھیں صحیح تعداد یاد بھی نہیں ہے۔

انتھونی کے اپنے کئی ساتھی اس وبا کی نذر ہو چکے ہیں۔

جب وبا اپنے عروج پر تھی تو ان کے عملے کے 25 فیصد افراد بیمار ہو گئے اور ان تمام میں کورونا کے علامات تھیں۔

ان کے اندازے کے مطابق ان کے 50 ساتھی اتنے زیادہ بیمار ہوئے کہ انھیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا اور ان میں سے کچھ تو اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ایک شخص کی ہلاکت نے انتھونی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ 59 سالہ کریگوری ہاج انتھونی کے ساتھی اور پائلٹ تھے، جن سے انتھونی نے بہت کچھ سیکھا۔ کریگوری ہاج کی 19 اپریل کو کورونا کی وجہ سے موت واقع ہوئی۔

انتھونی بتاتے ہیں کہ کریگوری ہاج ایک پائلٹ اور ماہر تنفس تھے۔ ’جب ہم نے اکٹھا کام کرنا شروع کیا تو میں نے اسے کہا کہ تم اپنی مہارتوں کو بروئے کار لا کر یہاں سے زیادہ دولت کما سکتے ہو۔‘

انتھونی کہتے ہیں کہ کریگوری ہاج کے جواب نے ان کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ گریگوری نے کہا ’میں اپنی نوکری کے علاوہ اپنے بل ادا کرنے کے لیے ان مہارتوں کو بروئے کار لاتا ہوں لیکن یہ کام میں اس لیے کرتا ہوں کہ میں ہارلیم میں پلا بڑھا ہوں اور میں اپنی کمیونٹی کی کسی انداز میں خدمت کرنا چاہتا ہوں۔‘

انتھونی کہتے ہیں کہ گریگوری کے جواب سے میں نے سیکھا کہ یہ شخص جس کے پاس ایسا ذہن ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے لیکن وہ پیرا میڈک کا کام اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

’میں بھی اب یہ ہی کر رہا ہوں۔ میں بھی اسی کمیونٹی کی خدمت کر رہا تھا جہاں میں پلا بڑھا ہوں۔‘

نیویارک اور بہت سے رہائشیوں کی طرح انتھونی بھی اپنے اس ساتھی کو اچھی طرح سے الودع بھی نہیں کر سکے۔ انھوں نے سب کچھ ویڈیو پر ہی دیکھا ہے۔

’عام طور پر جب ڈیوٹی کے دوران ہمارا کوئی ساتھی فوت ہو جاتا ہے تو ہم تمام اکٹھے ہو کر اسے اچھی طرح سے رخصت کرتے ہیں لیکن وبا کی وجہ سے ہم وہ بھی نہیں کر سکے۔‘

نیویارک میں رواں ہفتے میں نقل و حمل پر پابندیاں اب نرم کی جا رہی ہیں۔ شعبہ تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کو دوبارہ اپنا کام شروع کرنے کی اجازت مل چکی ہے۔ غیر ضروری ریٹیل شاپس کو بھی کھولا جا رہا ہے۔

لیکن اس وبا کے دوران انتھونی جس صورتحال سے گذرے ہیں اس کے اثرات ان پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

’بطور پیرا میڈک اگر آپ کے احساسات ختم ہونا شروع ہو جائیں اور بے حس ہونا شروع ہو جائیں تو یہ پہلی وارننگ ہوتی ہے۔ میں ابھی اس صورتحال تک تو نہیں پہنچا ہوں لیکن مجھے ذہنی دباؤ سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔‘

اس وبا نے انتھونی کو ایک سبق سکھایا ہے کہ رحم اور ترس کی بھی ایک حد ہے۔ ’میں سوچتا تھا کہ میرے پاس جو بھی رحم اور ترس کا جذبہ ہے مجھے اس کا سو فیصد لوگوں میں بانٹنا ہے لیکن اس وبا نے مجھے سکھایا کہ اپنے ترس کا نوے فیصد تو بانٹ سکتے ہیں لیکن دس فیصد اپنے لیے بھی بچانا ضروری ہے۔ آپ ذہنی طور پر صحیح رہتے ہوئے ایک حد تک ہی لوگوں کی مدد کر سکتے ہو۔‘

جب ملک میں ایک سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی موت کے بعد نسل پرستی کے خلاف مہم زوروں پر ہے، انتھونی اور اس کے محکمے کے لوگوں کے پاس اس کی فرصت ہی نہیں کہ وبا کے دوران انھیں جس صورتحال کا سامنا ہے، اس کے بارے میں سوچ سکیں۔

انتھونی کہتے ہیں کہ ان کے ساتھی اب ’کووڈ سے کیولر‘ تک پہنچ چکے ہیں۔ اب وہ بلٹ پروف واسکٹ پہنے ہوئے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے جا رہے ہیں۔

انتھونی اپنے ڈیپارٹمنٹ پر کووڈ 19 کی دوسری لہر کے اثرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’اگر دوسری لہر آتی ہے تو ہم اس کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔‘