حکام کی جانب سے انتباہ کے باوجود لندن میں سینکڑوں شہری احتجاج کی غرض سے جمع ہوئے ہیں، مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم کے دوران پولیس اہلکاروں پر بوتلیں پھینکی گئی ہیں۔

برطانیہ میں تاریخی نشانیوں اور مجسموں کی حفاظت کے دعویدار افراد نے مظاہرے کیے ہیں۔ ان مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ وہ برطانوی تاریخ کی نشانیوں کو نسل پرستی کے مخالف مظاہرین سے بچانےکے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔

برطانیہ کی سیکریٹری داخلہ پریٹی پٹیل نے آج ہونے والے پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول غنڈہ گردی‘ قرار دیا ہے۔

اس احتجاج کے علاوہ سنیچر کو مرکزی لندن سمیت برطانیہ کے مختلف حصوں میں نسل پرستی مخالف احتجاج بھی ہوئے ہیں۔

آج سینکڑوں مظاہرین جن میں اکثریت سفید فام لوگوں کی تھی وائٹ ہال میں سینٹاف وار ممیوریل اور پارلیمنٹ کے باہر ونسٹن چرچل کے مجسمے کے پاس جمع ہوئے۔

جب یہ گروہ ’انگلینڈ انگلینڈ‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے آگے بڑھے تو پولیس نے انھیں روکنے کی کوشش کی جس کے دوران مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔

کئی مظاہرین پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے اور فلیگ پولز کو نقصان پہنچایا۔

اسی دوران انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کا ایک بڑا گروہ ٹریفلگر سکوائر پہنچ گیا جہاں آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

جارج فلائیڈ کی آخری رسومات میں مطالبہ: ’نسلی امتیاز ختم کریں‘

جارج فلائیڈ: نسل پرستی کے خلاف احتجاج اور جنوبی ایشیائی نژاد افراد

نیو یارک ٹائمز: شہروں میں فوج بھیجنے کی حمایت والے مضمون پر ایڈیٹر مستعفی؟

پولیس نے ان مظاہرین کو ہائیڈ پارک کی طرف جانے سے روک دیا جہاں نسل پرستی کے مخالفین کا پرامن مظاہرہ جاری تھا۔

بلیک لائف میٹرز تحریک کے منتظمین نے انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین سے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ سنیچر کے روز مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔

برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں والی فوٹیج کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے اسے ’غنڈہ گردی‘ قرار دیا ہے۔

وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ تشدد اور توڑ پھوڑ کا ارتکاب کرنے والوں کو قانون کی طاقت کا سامنا کرنے کی توقع کرنی چاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس پر تشدد کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

میٹ پولیس فیڈریشن نے مظاہرین کے پرتشدد رویے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار اس طرح کے تشدد اور بدزبانی کا سامنا کرنے کے لیے کام پر نہیں آتے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈامنیک کیسانی کے مطابق پولیس اہلکاروں نے دن ایک بجے کے قریب ایک سیاہ فام عورت کو روکا جو سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمنٹ سکوائر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

جب پولیس اہلکار اس عورت سے بات کر رہے تھے تو اسی دوران مظاہرین بھی وہاں پہنچ گئے اور انھوں نے پولیس اہلکاروں کو گھیر لیا۔ اسی دوران مظاہرین میں سے ایک شخص نے عورت کو تھپڑ مارنے کی کوشش کی۔

اس موقع پر پولیس کے دستے بھی وہاں پہنچ گئے اور گھڑ سوار دستے بھی ان کی مدد کے لیے وہاں موجود تھے۔

اس دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر بوتلیں پھینکی گئیں اور دھوئیں کے بم بھی چھوڑے گئے۔ جب ایک پولیس اہلکار عورت کو وہاں سے دور لے جا رہا تھا تو وہ مظاہرین کے دھکے سے زمین پر گر گیا۔

پولیس کے ساتھ جھڑپوں سے پہلے انتہائی دائیں بازو کے گروپ ’بریٹن فرسٹ‘ کے لیڈر پاؤل گولڈنگ نے کہا تھا کہ وہ یادگار تاریخی نشانیوں کی حفاظت کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے کو مظاہرین سے بچانےکے لیے پہلے ہی ڈھانپ دیا گیا ہے۔

برطانوی تاریخ کی نشانیوں کی حفاظت کے نام پر لندن کے علاوہ گلاسگو، برسٹل اور بلفاسٹ میں بھی سینکڑوں افراد اکٹھے ہوئے۔ اس کے علاوہ لیور پول، نیوکاسل، برائٹن، چیمسفورڈ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

لندن کے میئر صادق خان نے انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے تشدد کے خطرے کے پیش نظر لوگوں سے کہا تھا کہ سنیچر کو سنٹرل لندن میں جمع نہ ہوں۔

لندن پولیس نے اتوار کے روز دو بجے تک سیکشن 60 آرڈر جاری کر دیا ہے۔ اس آرڈر کے تحت پولیس کو کسی بھی شخص کو روکنے کے اضافی اختیار حاصل ہو جاتے ہیں۔

۔