آسٹریلیا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اُن کے ایک شہری کو منشیات سمگلنگ کے الزمات کے تحت چین میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

آسٹریلیا کے ذرائع ابلاغ نے سزا پانے والے شخص کی شناخت کام گلیسپی کے نام سے کی ہے۔

روزنامہ سڈنی ہیرلڈ کے مطابق کام گلپسی کو سنہ 2013 میں چین کے ایک ایئر پورٹ پر ساڑھے سات کلوگرام آئس برآمد ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ منشیات ان کے سامان سے برآمد ہوئی تھی۔

آسٹریلیا کی وزارتِ خارجہ اور تجارت کا کہنا ہے کہ ’سزائے موت کا فیصلہ سُن کر انھیں بہت افسوس ہوا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی طالبعلم کے چینی قاتل کو سزائے موت کا حکم

سعودی عرب سزائے موت کے معاملے میں سرفہرست

’یورپ کی آخری سزائے موت کا انتظار کرتے میرے بھائی‘

وزارت سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’آسٹریلیا کسی بھی شخص کو کسی بھی صورتحال کے تحت موت کی سزا دینے کی مخالفت کرتا ہے۔ ہم پوری دنیا سے سزائے موت کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں اور تمام دستیاب ذرائع کے ذریعے ہم اس مقصد کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

واقعے کا پسِ منظر کیا ہے؟

کورونا وائرس کے وبائی مرض کے دوران تجارتی تنازعات اور باہمی تنقید کے باعث فی الحال چین اور آسٹریلیا کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

آسٹریلیا نے چین کو اُس وقت مشتعل کر دیا تھا جب آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے چین سے وبا کے ابتدائی مرکز کے حوالے سے غیر جانبدارنہ انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

آسٹریلیا کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آنے کے بعد چین نے اپنے شہریوں کو آسٹریلیا کا سفر کرنے کے حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آسٹریلیا میں ایشیائی افراد پر نسلی بنیادوں پر ہونے والے حملوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔‘

چین نے آسٹریلیا میں موجود اپنے طالبعلموں کو یہ کہتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ وہ وہاں تعلیم جاری رکھنے میں مضمر خطرات پر غور کریں۔

چین نے آسٹریلیا سے گوشت کی درآمدات پر پابندی عائد کرتے ہوئے وہاں سے درآمد کیے جانے والے جو پر بھی اضافی ٹیکس لگا دیا تھا۔

اس پر آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ’دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہو گا۔‘

کام گلیسپی کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انھیں سات برس قبل اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ چین کے جنوبی شہر گوانزو کے بائیون ایئرپورٹ پر ایک بین الاقوامی پرواز پر سوار ہونے کے لیے پہنچے تھے۔

چینی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گلیسپی کو 10 جون کو گوانزو کی ایک عدالت نے موت کی سزا کا حکم دیا تھا۔

چین میں سزائے موت کی شرح کیا ہے؟

چین ہمیشہ یہ بتانے سے گریزاں رہا ہے کہ وہاں عدالتی احکامات پر کتنے افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا خیال ہے کہ ہر سال ہزاروں افراد کو تختہ دار پر چڑھایا جاتا ہے۔ چین میں سزائے موت دینے کے دو طریقے رائج ہیں، زہر بھرے ٹیکے کے ذریعے یا فائرنگ سکواڈ کے ذریعے۔

اب تک کم از کم ایک درجن کے لگ بھگ غیرملکیوں کو منشیات سمگل کرنے کے الزامات کے تحت سزائے موت دی جا چکی ہے جبکہ بہت سے غیر ملکی سزائے موت پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

اس حوالے سے سب سے مشہور ہونے والا کیس برطانوی شہری اکمل شیخ کا ہے، جنھیں ان دعوؤں کے باوجود کہ وہ ذہنی مریض ہیں سنہ 2009 میں سزائے موت دی گئی تھی۔ برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم نے اکمل شیخ کی معافی کی اپیل بھی کی تھی۔

اس سے قبل بھی آسٹریلیا کے باشندوں کو چین میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔ سنہ 2015 میں آسٹریلیا کے شہری بنگالی شیرف کو سزائے موت دی گئی، انھیں چین اور آسٹریلیا کے درمیان آئس نشہ سمگل کرنے کے الزامات کے تحت موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس وقت آسٹریلیا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ شیرف کی سزا کو عمر قید میں بھی بدلا جا سکتا ہے کیونکہ جیل میں ان کا رویہ دوسرے قیدیوں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ بہت اچھا تھا۔

آسٹریلیا نے سنہ 2019 میں اس وقت بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا جب چین میں کینیڈا کے شہری رابرٹ برگ کو سزائے موت دی گئی تھی۔

کینیڈین شہری پر الزام تھا کہ وہ 227 کلوگرام منشیات سمگل کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ رابرٹ برگ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔