امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے حالیہ ہفتے پریشان کُن رہے ہیں۔ رائے عامہ کے کئی جائزوں کے مطابق مقبولیت کے لحاظ سے وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنے مخالف امیدوار جو بائیڈن سے پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم مسائل کا شکار ہے جبکہ ان کا موجودہ دورِ صدارت بھی ایک کے بعد ایک بحران کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

کیا ان کی یہ پریشانی عارضی ہے یا دوبارہ صدر منتخب ہونے کی ان کی کوشش کو ناکامی کا سامنا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ ایسے سیاستدان ہیں جن کے اکثر ردعمل فطری ہوتے ہیں۔ چار سال قبل وہ انتخابی میدان میں کود پڑے تھے۔ انھوں نے تمام توقعات اور پیشگوئیوں کو غلط ثابت کیا اور پہلے اپنی جماعت کے صدارتی امیدوار منتخب ہوئے اور پھر وائٹ ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ایسی حیرت انگیز کارکردگی اور انتخابی نتائج پر کوئی بھی شخص اپنے کیے ہوئے فیصلوں پر ضرور فخر محسوس کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے

اگر ہیلری کلنٹن امریکہ کی صدر منتخب ہو جاتیں؟

کیا جو بائیڈن ٹرمپ کو شکست دے کر اگلے صدر بن سکتے ہیں؟

سیاہ فاموں کی تحریک کی حمایت: ’ناقدین ہماری چائے نہ خریدیں‘

صدر ٹرمپ کے لیے آج یہ واضح طور پر دیکھنا آسان ہو گا کہ انھوں نے جولائی 2015 میں جو سفر شروع کیا وہ کس طرح نومبر 2015 میں ان کی غیر متوقع کامیابی پر ختم ہوا۔ اس سفر کے دوران کئی تنازعات، لڑائی جھگڑے اور متنازع ٹویٹس سمیت دیگر واقعات ہوئے لیکن ماہرین کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور وہ درست۔

ٹرمپ یقیناً بڑے معاملات کے بارے میں صحیح تھے۔ وہ ایک ایسے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے جس کا نظام سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ایسے وقت میں انتخاب میں حصہ لیا جب قومی سطح پر فضا سیاسی اشرافیہ کے خلاف تھی۔

انھوں نے یہ بھانپ لیا اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن اُن کی کامیابی نے ان تمام غلط اقدامات اور غلطیوں پر پردہ ڈال دیا جو اِس دوران اُن سے سرزد ہوئیں۔

ٹرمپ کی حمایتی ریاستیں کی سوچ رہی ہیں؟

گذشتہ صدارتی انتخابات کے چار سال بعد صدر ٹرمپ کی وہی جبلت اب شاید انھیں دھوکہ دے رہی ہے۔ وہ اب بھی اپنے آپ کو اشرافیہ مخالف امیدوار کے طور پر پیش کر کے سنہ 2016 کے نتائج دہرانا چاہتے ہیں۔

اُن کی حکمت عملی اُن کے حامیوں کی سوچ کے مطابق ہوتی ہیں اور گذشتہ انتخابی مہم میں ان کی یہ حکمت عملی کامیاب ہوئی تھی کیونکہ اہم ریاستوں میں ان کے حامیوں کی ووٹنگ کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔ جبکہ انتخابی عمل کے دوران تذبذب کا شکار ووٹرز اور روایتی طور پر قدامت پسندوں نے بھی اُنھیں شک کا فائدہ دیا تھا۔

لیکن اب ٹرمپ کو سب جانتے ہیں۔

اگر ان کے لیے عمررسیدہ شہریوں، مضافاتی علاقوں کے تعلیم یافتہ رہائشیوں اور مذہبی ووٹرز کی حمایت کم ہونے کا حالیہ سلسلہ جاری رہا تو ان کے وفادار حمایتی، جن کی تعداد کُل ووٹرز کا 30 سے 40 فیصد سمجھی جاتی ہے، انتخاب میں انھیں کامیاب کروانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

بہرحال صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدامات سنہ 2016 جیسے ہی ہیں جو سماجی معاملات پر تنازعات اور جھگڑوں کو جنم دیتے ہیں، جن سے سازشی نظریات کو پنپنے کا موقع ملتا ہے اور دوسری جانب اُن کی طرف سے تمام تنقید کو دبانے کی کوشش جاری ہے۔

کئی عوامی جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے مخالف امیدوار جُو بائیڈن سے مقبولیت میں پیچھے ہیں اور بعض جائزوں کے مطابق تو یہ فرق 10 نمبر سے بھی آگے نکل چکا ہے۔ جریدے اکانومسٹ کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق جُو بائیڈن کی جیت کا امکان سنہ 2008 میں باراک اوبامہ کی باآسانی فتح کی طرح چھ میں سے پانچ ہے۔

ٹرمپ سنہ 2016 جیسی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں لیکن وہ جس طرح پھنسے ہوئے نظر آ رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مرتبہ عمومی سطح پر قومی مزاج بدلا ہوا ہے۔

امریکی عوام کورونا وائرس سے ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتوں پر پریشان ہے، معیشت بُرے حالوں میں ہے اور اب نسلی امتیاز اور پولیس کے موجودہ نظام کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد لوگ مزید کسی تنازع کے لیے تیار نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کا جارحانہ اور دھمکی آمیز رویہ، جس سے ماضی میں ان کو فائدہ ہوا تھا، موجودہ حالات میں مناسب نظر نہیں آ رہا۔ لوگ اب ہمدردی، زخموں پر مرہم رکھنا اور صلح کرنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ ایک ایسے وقت میں امن و امان پر زور دے رہے ہیں جب سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے چلنے والی تحریک ’بلیک لائیوز میٹر‘ کو زبردست عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور عوامی رائے کے مطابق نسلی امتیاز ملک کا اصل مسئلہ ہے۔ نومبر میں ہونے والی ووٹنگ میں ووٹرز کی بڑی ترجیح یہی مسئلہ ہو گی۔

حالیہ دنوں میں ہونے والے کچھ واقعات موجودہ سیاسی ماحول کو نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ جمعرات کو صدر ٹرمپ نے 10 مختلف امریکی فوجی اڈوں سے ان کانفیڈریٹ جنرلوں کے نام ہٹانے کا مطالبہ سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان فوجیوں کی بے عزتی ہو گی جنھوں نے وہاں تربیت حاصل کی ہے۔

اسی دوران امریکہ میں کار ریسنگ کے مقابلے ’نیسکار‘ نے، جو امریکہ کے جنوبی علاقوں میں شروع ہوئے تھے اور وہاں بہت مقبول ہیں، اعلان کیا کہ وہ اپنے تمام مقابلوں کے دوران کانفیڈریٹ جھنڈوں کو لگانے پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔

مقامی اور ریاستی رہنماوں نے کانفیڈریٹ رہنماوں کے مجسمے ہٹانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور فوجی اڈوں کے نام تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی امریکی فوج کے اندر سے اُٹھا ہے۔ اس مطالبے کا سب سے واضح اظہار ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے اٹلانٹک میگزین میں اپنے ایک مضمون میں کیا ہے۔

ایک دوسری تہذیبی جنگ میں بھی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے جسے ماضی میں صدر ٹرمپ استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ معاملہ پولیس کے غیر منصفانہ رویے کے خلاف پروفیشنل ایتھلیٹس کے احتجاج کے بارے میں ہے جس میں وہ قومی ترانے کے دوران گھٹنوں پر جھک جاتے ہیں۔

اس طرح کے احتجاج میں حصہ لینے والے اپنے کھلاڑوں کی حمایت نہ کرنے پر نیشنل فٹبال لیگ نے باقاعدہ طور پر معافی مانگی ہے۔

امریکہ کی سوکر فیڈریشن نے قومی ترانے کے دوران ادب سے کھڑے رہنے کی تمام پابندیوں کو ختم کرنے کے حق میں بدھ کو ووٹ ڈالا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اب اس کی حمایت کی ہے۔

اس دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے احتجاج کے اس طریقے کی مذمت جاری ہے اور انھوں نے نیشنل فٹبال لیگ اور کھلاڑی ڈریو بریس کو نشانہ بنایا ہے جنھوں نے گھٹنوں کے بل جھکنے کو حب الوطنی کے منافی قرار دینے والے اپنے بیان پر معافی مانگ لی تھی۔

اس دوران ایک واقعے کے بارے میں صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر بہت تنقید ہوئی جس میں انھوں نے ایک 75 برس کے شخص کو ’بائیں بازو کا تخریب کار‘ قرار دیا جسے مظاہرے کے دوران پولیس اہلکار نے دھکے دے کر گرا دیا تھا جس سے اُس شخص کے سر سے خون بہنے لگا لیکن پولیس اہلکاروں نے اس شخص کو اِسی حالت میں پڑے رہنے دیا۔

صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ وہ شخص پولیس کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس الزام کا ذریعہ انتہائی دائیں بازو کا میڈیا تھا۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ کے کئی ریپبلیکن حمایتوں نے اس ٹویٹ سے لاعلمی یا لاتعلقی کا اظہار کیا۔

ان واقعات کے بعد کئی لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ موجود بحران کے دنوں میں صدر ٹرمپ کے رویے نے ان کے دوبارہ منتخب ہونے کی راہ میں ایک ناقابلِ عبور رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔

جریدے پولیٹیکو میں کنزرویٹیو نیشنل ریویو کے ایڈیٹر رچ لوری کے مطابق ’اگر وہ نومبر 2020 میں ہار جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہو گی کہ انھوں نے کسی بڑی قانون سازی کی کوشش کی۔ انھیں اس لیے شکست نہیں ہو گی کہ انھوں نے ایسی تخلیقی اور آزاد خیال پالیسی بنائی جس سے ان کے حامی ناراض ہو گئے۔ وہ اس لیے بھی نہیں ہاریں گے کیونکہ وہ ایک کے بعد ایک واقعات اور بحران میں گھرے ہوئے تھے۔ ان کی شکست کی بڑی وجہ یہ ہو گی کہ انھوں نے ٹویٹس کے ذریعے خود ہی اپنی صدارت کو زمین پر دے مارا۔‘

صدارتی انتخاب میں اب بھی ساڑھے چار مہینوں سے زیادہ وقت ہے جو سیاست کے میدان میں کچھ کم وقت نہیں ہوتا۔

یہ امکان اب بھی موجود ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کھڑے ہونے کے لیے کوئی سہارا مل جائے یا ان کے مخالف امیدوار بائیڈن کوئی بڑی بیوقوفی کر بیٹھیں۔ فی الحال جو بائیڈن کا پلڑا بھاری ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے صورتحال سنہ 2016 سے بہتر ہے۔

صدر ٹرمپ کو اگر سنہ 2016 والا نتیجہ چاہیے تو انھیں شاید سنہ 2016 والا انداز بدلنا ہو گا اور امریکیوں کو قائل کرنا ہو گا کہ وہ اُس صدر سے کہیں بہتر ہو سکتے ہیں جو وہ اِس وقت ہیں اور ایک ایسے صدر بن سکتے ہیں جیسا وہ اگلے چار سال کے لیے چاہتے ہیں۔