جب گذشتہ ماہ برطانیہ میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ لاک ڈاؤن کے بعد وہ پہلا کام کیا کرنا چاہیں گے تو ’دوستوں اور گھر والوں سے ملاقات‘ دو ایسی ترجیحات تھیں جنھیں گھر سے باہر شام گزارنے سے زیادہ اہمیت دی گئی۔

اور اب جب میل جول کے محدود مواقع ممکن ہونے لگے ہیں تو برطانیہ کے شراب خانوں اور کلبز کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول ہو رہی ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ مہمان نوازی کا شعبہ، جس میں شراب خانے اور بارز شامل ہیں، چار جولائی سے پہلے نہیں کُھل سکیں گے۔

لیکن کیا برطانیہ میں رات کی رونقیں سماجی فاصلے کے قواعد کے مطابق بحال ہو سکتی ہیں؟ اور کووڈ 19 سے محفوظ رات کی رنگینیاں کس طرح کی ہوں گی؟

کوئی ڈانس فلور نہیں

برسٹل میں 600 افراد کی گنجائش والے کلب ’تھیکلا‘ کے مینیجر الیکس بلیک کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ لوگوں کو ماسک پہننا پڑے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کا کلب میں داخل ہوتے ہوئے جسمانی درجہ حرارت چیک کرنا پڑے۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

مدافعتی نظام بہتر بنا کر کیا آپ کووِڈ 19 سے بچ سکتے ہیں؟

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

تھیکلا ایک غیر معمولی کلب ہے کیونکہ یہ شہر کی بندرگاہ پر لنگر انداز ایک بحری جہاز کے اندر بنایا گیا ہے۔ پھر بھی اس کو انھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ خشک زمین پر بنے بہت سے بارز، کلبز اور شراب خانوں کو ہے، یعنی یہ اندر سے کھچا کچھچ بھر جاتے ہیں اور ان کے باہر جگہ محدود ہے۔

الیکس بلیک نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ہمارا ارادہ یہ ہے کہ کلب کے بیرونی حصے کو استعمال کریں اور مقامی حکام سے کار پارکنگ کے استعمال کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے۔

کسی بھی کھلی جگہ میں سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے بھاری فرنیچر رکھنا پڑے گا اور لوگوں کو مشروبات کے لیے ٹیبل سروس پر انحصار کرنا پڑے گا اور ممکن ہے کہ کسی ایپ کے ذریعے آرڈر دیے جائیں۔

الیکس کے مطابق جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ ڈانس فلور بند ہو جائیں گے اور اُن کا کہنا ہے کہ اگر لوگ تھوڑی شراب پینے کے بعد سماجی فاصلوں کے بارے میں غفلت برتیں گے تو ڈانس فلور کا استعمال ممکن نہیں ہو سکے گا۔

دوسری تبدیلیوں میں ون وے سسٹم شامل ہو سکتے ہیں جیسا کہ سپر مارکیٹس میں ہے اور باہر رکھے گئے عارضی بیت الخلا جن کی نگرانی کے لیے مددگار عملے کو تعینات کیا جائے گا۔

ان اضافی اخراجات نیز آرڈر کے لیے موجود ایپ کےاستعمال پر اضافی خرچ اور اضافی زمین کے استعمال کے لیے کونسل کو ادائیگی کا مطلب ہے کہ منافع حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

الیکس کا کہنا ہے کہ کلبوں کو ہر شام کو ایک ایسے پروگرام کی طرح دیکھنا ہو گا جس میں ڈی جے یا بینڈ آئے اور داخلے کے لیے فیس مقرر ہو۔

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں داخلے پر فیس لگانے کے لیے کسی طرح کے تفریحی پروگرام کو شامل کرنا ہو گا تاکہ اس فیس کو وصول کرنے کا جواز بنے۔ حقیقت پسندی کا تقاضہ ہے کہ آپ کو اسے نفع بخش بنانے کے لیے یہ کرنا پڑے گا۔

اور یہ صرف کلبز ہی نہیں ہیں جنھیں زیادہ بڑی جگہ کے لیے موسیقی کا سہارا لینا ہو گا۔ شراب خانوں کے لیے بھی یہ امکان ہے کہ وہ اس کے بغیر نہ کُھل پائیں۔

برطانوی علاقے سینٹ البانس میں ’دی بوٹ‘ کے نام سے چلنے والے شراب خانے کے شان ہیوز کہتے ہیں کہ ہم عام طور پر یہاں 70 کے لگ بھگ لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں لیکن دو میٹر کے سماجی فاصلے کے نفاذ کے لیے جب ہم نے نقشہ سازی کی تو ہم لگ بھگ صرف پانچ افراد کو آنے دے سکتے ہیں۔

دی بوٹ کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے یعنی بہت سے دیگر شراب خانوں کی طرح انھیں بھی باہر سڑک پر میز لگانا پڑیں گی جس پر مقامی حکام نے فی الحال عارضی طور پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

شان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اندر داخل ہونے کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا اور ممکنہ طور پر ایک ایپ کے ذریعے آرڈر دینا ہو گا اور عملے کے لیے ہاتھوں کے دستانے اور چہرے پر ماسک بھی ضروری ہو۔ انھیں خدشہ ہے کہ یہ اقدامات یہاں آنے کا جو مزہ ہے اس میں خلل ڈالیں گے اور شاید صارفین اس طرف رخ نہ کریں۔

سارے شراب خانے، کلب اور بارز اتنے خوش قسمت نہیں ہوں گے کہ انھیں باہر کھلی جگہ میسر ہو۔

لندن نائٹ زار ایمی لامی اور مانچسٹر میں شام کو ہونے والے کاروبار کے لیے معاشی مشیر ساشا لارڈ بڑے شہروں میں شہری مقامات کو محفوظ بنانے اور انھیں منافع بخش طریقے سے چلانے کے لیے سرگرم ہیں۔

ساشا لارڈ شراب خانوں اور بارز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈسپوز ایبل ’مینوز اور پرسپیکس‘ سکرینیں عام ہو سکتی ہیں۔ کچھ عرصے کے لیے وہ ماحول نہیں بنے گا۔

کیا کم گنجائش کی وجہ سے کیا شراب خانے اور بارز مشروبات کے لیے زیادہ قیمت وصول کرنے کا فیصلہ کریں گے؟

ایمی کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ جب ہم معاشی بحران کی طرف جا رہے ہیں تو قیمتیں بڑھانا ایک راستہ ہو گا لیکن وہ تسلیم کرتی ہیں کہ منافع کمانا ایک مشکل کام ہو گا۔

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ شراب خانے، بارز اور کلبز اس وقت تک منافع بخش نہیں ہوتے جب تک ان کے دروازے سے آخری 20 فیصد کسٹمرز داخل ہونا شروع نہیں ہوتے، لہذا یہ واقعی اہم ہے کہ وہاں اتنی تعداد میں لوگ آئیں جتنی گنجائش ہے۔

لیکن شام کی معیشت کو کھولنے کی کوشش میں برطانیہ تنہا نہیں ہے۔ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، برازیل، ہالینڈ اور جرمنی سمیت دنیا بھر سے رات کی معیشت کے لیے 40 کے قریب مشیروں نے ممکنہ حل ڈھونڈنے کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

دوسرے ممالک کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

جرمنی نے 15 مئی سے ایسی جگہوں کو کھولنے کی اجازت دی ہے جس سے متصل باہر کھلی جگہیں دستیاب ہیں۔ یہ کھانے کے ساتھ بیئر گارڈن کے طور پر چل رہے تھے۔ تاہم رقص پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور کاروبار بند کرنے کا وقت رات دس بجے مقرر کیا گیا ہے۔

بارز دو جون کو کھولی گئیں، لیکن مہمانوں کو ڈیڑھ میٹر کے فاصلے پر ٹیبل پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ اور آخری آرڈر رات گیارہ بجے دیا جا سکتا ہے۔ کلبز مکمل طور پر بند ہیں۔

اٹلی اور فرانس کی طرح ہالینڈ نے بھی بارز کھول دی ہیں لیکن اندر 30 کسٹمرز سے زیادہ نہیں جا سکتے۔ اٹلی میں میزوں کے درمیان پلاسٹک کی سکرینز لگائی گئی ہیں۔

سپین نے آٹھ جون کو بارز اور کچھ کلب کھولے لیکن رقص کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سوئٹزرلینڈ نے چھ جون کو رات کی رونقیں بحال کیں، اگرچہ آنے والوں کی تعداد کی حد مقرر ہے اور اس وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے صارفین کی تفصیلات ریکارڈ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

چین میں جہاں مارچ کے بعد سے بارز کھلی ہوئی ہیں وہاں وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے آنے والے صارفین کے رابطوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

بارز اور کلبوں میں داخل ہونے والے افراد سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے فون پر حکومت کی تیار کردہ ایپ میں ریکارڈ کیا گیا اپنی صحت کا جائزہ دکھائیں۔

اس کے بعد ان کی کلائی سے اُن کا درجہ حرارت لیا جاتا ہے اور ان کا نام، فون نمبر اور پاسپورٹ نمبر ایک فارم میں درج کیا جاتا ہے۔

بیجنگ میں مقیم برطانوی شہری ایلیکس بلوٹ کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ وبا پھیلنے سے پہلے کے حالات سے قدرے مختلف ہے۔

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ آپ کی یہ کافی حد تک کوشش ہوتی ہے کہ آپ سب کچھ قواعد کے مطابق کریں۔

  • کیا میں نے صحیح طریقے سے سائن اِن کیا ہے؟
  • کیا میرا درجہ حرارت ٹھیک ہے؟
  • کیا میں نے عملے کو صحیح ایپ دکھائی ہے؟
  • مجھے کن ٹیبلز پر بیٹھنے کی اجازت ہے؟
  • کیا مجھے ہر وقت اپنا ماسک پہن کر رکھنا چاہیے؟

ایلیکس بلوٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے صورتحال مختلف تھی اور حالات نے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی ہے پہلے تو یہاں جانا معمولی سی بات ہوتی تھی۔ لیکن آخر کار یہ ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں، لہذا بنیادی طور پر ان جگہوں پر لوگوں کی کوشش ہے کہ وہ جس طرح بھی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے وہ اسے ممکن بنائیں۔

برطانیہ کی صنعت کے لیے اہم سوال صرف یہ نہیں ہے کہ حالات معمول کی طرف جانے پر یہ مقامات کس طرح کے دکھائی دیں گے، اہم بات یہ بھی ہے کہ سماجی فاصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے کتنے لوگ ان کا رُخ کر سکیں گے۔

بہت سے لوگوں کے لیے فیصلہ کن بات یہ ہو گی کہ سماجی فاصلے کے لیے دو میٹر کی دوری اختیار کرنے کا اصول ان مقامات میں داخل ہونے کے بعد کس طرح نافذ کیا جائے گا۔

نائٹ ٹائم انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے سی ای او مائیک کِل کا کہنا ہے کہ دو میٹر کا فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے ہم صرف تیس سے چالیس فیصد بارز اور شراب خانوں کو کھول سکیں گے اور اس سے بھی کم تعداد میں کلبز کھل سکیں گے۔

اُن کا ان مقامات کے کھلنے کے تناسب اور دو میٹر سماجی فاصلے برقرار رکھنے کے اصول کے بارے میں مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ایک بار جب آپ ڈیڑھ میٹر پر پہنچ جاتے ہیں تو آپ 50 فیصد کے قریب اور جب آپ ایک میٹر پر پہنچ جاتے ہیں تو آپ 60 فیصد کے قریب جا سکتے ہیں۔‘

شمالی لندن کے علاقے کیمڈن میں 40 فیصد مقامات ایسے ہیں جہاں کسی بھی طرح سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا ان میں کیفے بھی شامل ہے۔

یہاں موسیقی کے سربراہ رواری فریو کا کہنا ہے کہ ہم نے سماجی فاصلے کے نفاذ پر کام کیا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ ہم کتنے لوگوں کو اندر داخل کروا سکتے ہیں مگر ان کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

اکتوبر میں حکومت کی ’فرلو سکیم‘ جس کے تحت حکومت ان حالات کے دوران بند ہونے والے کاروباروں کے ملازمین کو 80 فیصد تنخواہ دے رہی ہے اس کے خاتمہ کے ساتھ، شہر کے سب سے پسندیدہ موسیقی کے مراکز میں سے ایک، جاز کیفے اب بھی ’کراؤڈ فنڈنگ‘ کے ذریعے 2021 تک کھلے رہنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

موجودہ حالات کے مدِنظر فی الحال یہ واضح ہے کہ کورونا وائرس سے پہلے جیسی رات کی رونقوں کی واپسی میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔