دنیا میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والوں کی عمر کافی طویل ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ایسا قصبہ ہے جو بارانی جنگلات اور سرفنگ کرنے والوں میں مشہور ساحلوں سے گھرا ہوا ہے۔ دو علاقے بحیرۂ روم کے فیروزی پانیوں کے درمیان جزیرے ہیں۔ ایک اور قصبہ جاپان کے بحر الجزائر کے آخری حصے میں واقع ہے جبکہ اس سلسلے کی پانچویں جگہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کے نام کا مطلب خوبصورت پہاڑی ہے۔

پہلی نظر میں تو آپ کو ایسی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئے گی کہ آپ ان پانچ علاقوں کے درمیان کسی تعلق یا مماثلت کے بارے میں غور کریں۔ کوسٹا ریکا میں نیکویا، اٹلی میں سارڈینیا، یونان میں اکاریا، جاپان میں اوکیناوا اور کیلیفورنیا میں لوما لنڈا۔ یہ سب علاقے دنیا کے مختلف کناروں پر واقع ہیں اور ان میں کوئی خاص بات دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن اگر آپ طویل اور صحت مند زندگی کے خواہش مند ہیں تو شاید پیدا ہونے کے لیے یہ بہترین علاقے ہیں۔ ان علاقوں کو بلو زون کہا جاتا ہے جہاں 100 برس تک زندہ رہنے کا امکان امریکہ میں اوسطاً امکان سے دس گنا زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رحم دل لوگ زیادہ عرصہ کیوں جیتے ہیں؟

خواتین مردوں سے زیادہ عمر کیسے پاتی ہیں؟

طویل العمری کے بارے میں نو حقائق

اٹلی سے تعلق رکھنے والے وباؤں کے ماہر جیانی پس اور بیلجیئم کے ماہر آبادیات مائیکل پولین نے سب سے پہلے بلو زون کی اصطلاح بنائی۔ یہ دونوں حضرات سارڈینیا میں شرحِ اموات پر تحقیق کر رہے تھے۔ سنہ 2000 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اپنی تحقیق کے دوران یہ ان علاقوں پر نیلے رنگ سے نشان لگاتے تھے جہاں لوگوں کی عمریں طویل ہوتی تھی۔ یہ دونوں محققین ایک امریکی صحافی ڈین بیوٹنر کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے دنیا میں کئی ایسے علاقوں کو شناخت کی جہاں اوسط عمر بہت زیادہ تھی۔ ان لوگوں کی یہی تحقیق سنہ 2008 میں ایک کتاب کی شکل میں بھی سامنے آئی۔

اس کے بعد آنے والے 12 برسوں میں کئی سائنسدانوں نے بلو زونز کے بارے میں اس تحقیق کو آگے بڑھایا اور ان علاقوں میں طویل عمر کی وجوہات کے بارے میں کئی دلچسپ نظریات سامنے آئے۔

1: کھانا کم عمر زیادہ

آئیے پہلے عمومی رجحانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ جیسا کہ بیوٹنر نے اپنی کتاب میں لکھا تھا تمام بلو زونز میں رہنے والوں کے طرزِ زندگی میں کچھ خصوصیات ملتی جلتی ہیں۔

پہلی چیز ہے غذا۔ خاص طور پر ماضی میں بلو زونز میں رہنے والے اکثر لوگ بھوک سے کم کھایا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر اوکیناوا میں رہنے والے بوڑھے لوگ 'ہارا ہاچی بو' نامی قدیم اصول کی پابندی کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ جب آپ کا معدہ 80 فیصد تک بھر جائے تو کھانے سے ہاتھ اٹھا لیجیے۔

اس طریقے پر عمل کرنے سے بوڑھے ہونے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔

وسکونسن یونیورسٹی میں میٹابولزم (جسم میں غذا کا کیمیائی عمل سے گزرنا اور توانائی میں تبدیل ہونا) اور عمر گزرنے کے عمل پر تحقیق کرنے والی روزلین اینڈریسن کی جانوروں پر طویل تحقیق سے معلوم ہوتا ہے بندروں کی ایک نسل میکاکس بھوک سے کم کھاتے ہیں اور اسی وجہ سے ان میں کینسر اور ذیابیطس اور دل کی بیماری جیسی عمر سے منسلک بیماریوں کا خطرہ کافی کم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ جانور اپنی عمر سے کم دکھائی دیتے ہیں اور ان کے جسم پر موجود گرم بالوں کی تہہ کا رنگ بھی دیر سے تبدیل ہوتا ہے یعنی سرمئی ہوتا ہے۔

ان فوائد کی مکمل وجوہات تو ہم ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں سکے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ کیلوریز کو محدود کرنے سے جسم میں وہ زہریلے مادے کم جمع ہوتے ہیں جو میٹابولزم کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ زہریلے مادے ہمارے خلیوں کو تباہ کرتے ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کا یہ خیال ہے کہ کم کھانے اور کم کیلوریز کی وجہ سے جسم پر کم دباو پڑتا ہے اور جسم کو خلیوں کی مرمت کا زیادہ موقع ملتا ہے۔

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں ماہرِ جینیات ڈیڈاہیلی گوونداراجو کے مطابق کیلوریز محدود کرنے سے ڈی این اے میں نقصان دہ تبدیلیوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے کینسر جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

'کیلوریز کی مقدار کم کرنے سے ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کم ہو جاتی ہے اور اس کی مرمت کا کام بہتر ہو جاتا ہے۔' اس کے علاوہ بلو زونز میں زیادہ تر خوراک سبزیوں اور پودوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے دل کی صحت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

2: روحانی تعلق

کھانے پینے کی عادات کے علاوہ ان افراد کی سماجی زندگی بھی اہم ہے۔ بلو زون میں رہنے والے ایسی برادریوں کی طرح رہتے ہیں جو مکمل طور پر آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ اب ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ اپنے لوگوں کے آس پاس ہونے اور قریبی تعلق کا احساس ذہنی دباو کو کم کرتا ہے۔ برادری میں دوستی اور تعلق کو نبھانے کے لیے مجموعی طور پر زیادہ ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں کا حصہ بننا صحت کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

امریکہ کی برایگھم ینگ یونیورسٹی میں ماہرِ نفسیات جولیان ہولٹ لنسٹیڈ کی تحقیق کے مطابق ورزش اور اچھی خوراک کی طرح لوگوں کے آپس میں اچھے تعلقات بھی صحت کے لیے ضروری ہیں۔

بلو زونز میں مذہب بھی سماجی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لوما لِنڈا کے زیادہ تر رہائشی ایڈونٹسٹ مسیحی ہیں جبکہ نیکویا اور سارڈینیا کے لوگ کیتھولک ہیں، ایکاریا والے گریک آرتھوڈاکس مسیحی ہیں اور اوکیناوا کے مقامی لوگ رایکیون مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔

امریکی صحافی ڈین بیوٹنر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کُل 263 بلو زونز میں سے پانچ میں انھوں نے جب لوگوں سے انٹرویو کیے تو معلوم ہوا کہ ان علاقوں میں لوگ کیسے ایک قسم کی روحانی برادری کا حصہ ہیں۔

یہ روحانی تعلق نہ صرف ایک سماجی تعلق فراہم کرتا ہے بلکہ مذہبی رسومات کی ادائیگی سے زندگی کو مقصد بھی ملتا ہے، دکھ درد کے لمحات میں دلجوئی ملتی ہے۔ اس کی وجہ سے مجموعی طور پر لوگوں کی عمر میں ایک سے پانچ برس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

3: گرم مشروبات

بلو زونز کے درمیان ان مماثلتوں کے علاوہ وہاں کے لوگوں کی کچھ دیگر مخصوص عادتوں کی وجہ سے بھی طویل عمر کے رازوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔

جب بات خوراک کے کچھ مخصوص عناصر کے بارے ہو رہی ہو تو یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ یونانی جزیرے اکاریا کے رہائشی دن میں کئی مرتبہ چائے اور کافی پیتے ہیں اور یہی عادت خطے میں دل کی بیماریاں کم ہونے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بات اس بارے میں کی جانے والے کئی تحقیقوں میں سامنے آ چکی ہے کہ دن میں کئی مرتبہ یہ گرم مشروبات پینے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اِس کی شاید ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان میں میگنیشیئم، پوٹاشیئم، نیاسِن اور وٹامن ای جیسے مائکرو نیوٹرینٹس ہوتے ہیں جو کئی بیماریوں کا سبب بننے والے زہریلے مادوں کو صاف کر دیتے ہیں۔

پتلے پیالوں میں بننے والی یونانی کافی کے بارے میں خیال ہے کہ صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے کیونکہ یہ ایسے مادے خارج کرتی ہے جو جسم میں سوجن کو کم کرتے ہیں۔ سوجن کی وجہ سے عمر سے منسلک کئی بیماریاں بڑھتی ہیں مثلاً اس کی وجہ سے شریانوں میں ایسے مادے پیدا ہوتے ہیں جو دل کے دورے اور فالج کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے یونانی کافی جیسے مشروبات کا باقاعدگی سے استعمال ان خطرات کو کم کرتا ہے۔

یہ مشروبات ذیابیطس کے خطرے کو بھی کم کرتے ہیں۔ ان میں موجود کلوروجینک ایسڈز خلیوں میں توانائی کے حصول کو درست رکھتے ہیں اور اس طرح خون میں شوگر کی سطح توازن میں رہتی ہے۔ یونان میں یونیورسٹی آف ایتھنز سے منسلک کرسٹینا کرایسوہو کہتی ہیں کہ اس سے جسم میں گلوکوز کے ہضم ہونے کا عمل بہتر ہوتا ہے۔

یہ مشروبات طویل عمر کی ضمانت تو نہیں ہیں لیکن اگر ساتھ میں غذا بھی متوازن اور بھوک سے کم ہو تو یہ عمر میں اضافے اور صحت مند زندگی میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ اوکیناوا اور سارڈینیا کی طرح اکاریا میں بھی لوگوں کی خوراک میں گوشت کم اور تازہ پھل اور سبزیوں کا استعمال زیادہ ہے۔

4: غیر معمولی سبزی اور پھل

اوکیناوا کے رہائشیوں کی خوراک میں شکرقند اور کریلے باقاعدگی سے شامل ہیں۔ یہ دونوں چیزیں بھی عمر بڑھانے کا ایک نسخہ ہیں۔ جاپان میں تو چاول بنیادی عذا ہے لیکن اوکیناوا کے لوگوں کے لیے یہی کام شکرقند کرتی ہے۔ شکرقند کی ایک خصوصیت تو یہ ہے کہ خون میں آہستہ آہستہ توانائی خارج کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن اے، سی اور ای ہوتے ہیں جو ایسے اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جو جسم میں زہریلے مادوں کی صفائی اور مدافعتی نظام کی مدد کرتے ہیں۔ شکرقند میں موجود پوٹاشیئم بلڈ پریشر کو بھی کم کرتی ہے۔

دوسری جانب اوکیناوا کے لوگ سلاد، ٹیمپورا اور جوس کے علاوہ مختلف کھانوں میں کریلے استعمال کرتے ہیں۔ اکاریا میں یونانی کافی کی طرح کریلوں میں بھی ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے جسم میں گلوکوز کی سطح متوازن اور کھانے کے ہضم ہونے کا نظام درست رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔

5: علاقے کی مخصوص ساخت

ابھی اس پر کم تحقیق ہوئی ہے لیکن یہ امکان موجود ہے کہ کسی علاقے کی ساخت اور محلِ وقوع عمر کے طویل ہونے پر اثرانداز ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر بلو زونز میں شامل سارڈینیا پہاڑوں اور خوبصورت وادیوں والے علاقے میں ہے۔ وہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ فارموں پر کام کرتے ہیں۔ پہاڑی راستوں پر چلنا ایک محنت طلب کام ہے جس کی وجہ سے صحت اچھی رہتی ہے۔ اس علاقے کی قدرتی ساخت اور روایتی طرزِ زندگی کی وجہ سے یہ لوگ ایتھلیٹس کی طرح ہوتے ہیں۔

6: اعتدال پسندی کا اصول

یہ بات واضح ہے کہ بلو زون میں رہنے والوں کی طویل عمر کا راز کسی ایک عنصر میں پوشیدہ نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار کئی عناصر پر ہے۔ ان میں سے کچھ باتیں مختلف بلو زونز کے درمیان مشترک ہیں جبکہ بعض کسی مخصوص علاقے تک محدود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان علاقوں میں رہنے والوں کی بہت سی باتوں سے ہم بھی طویل عمر کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔

اعتدال سے کھانا، غذا میں پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال، باقاعدگی سے ورزش کرنا، کافی اور چائے پینا اور روحانی اطمینان حاصل کرنا چاہے وہ کسی عبادت گاہ میں جانے سے ملے یا پہاڑی راستوں پر چہل قدمی سے، یہ وہ کام ہیں جنھیں ہم اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔