بی بی سی کی 'دی باس' سیریز میں ہر ہفتے ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے حالات زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے ان سے بات چیت کی جاتی ہے۔ اسے ہفتے ہم نے ایئن پاؤل اور ان کی گرل فرینڈ جیکی ہیوفٹل سے بات کی ہے جو امریکی کمپنی کلٹر گریپس کو چلا رہے ہیں۔

ایئن پاؤل کو بچپن سے دیواریں پھلانگنے کا شوق تھا لیکن جب وہ ایک بار زمین پر گرے تو وہ کسی چٹان یا دیوار نہیں پھلانگ رہے تھے بلکہ یہ گراؤٹ ان کی زندگی کی تھی۔

ایئن پاؤل 1990 میں امریکہ کی قومی کلائمبنگ ٹیم کا حصہ تھے لیکن 2010 میں وہ ایک بے گھر نشے کے عادی بن چکے تھے جو ڈینور، کولاراڈو میں اپنے نشے کی لت کو پورا کرنے کے لیے چوریاں کرتے تھے۔

ایئن پاؤل کوکین اور کرسٹل میتھ کا نشہ کرتے اور کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے والے ڈمپروں میں رہتے تھے۔ بلاآخر پاؤل چوری کے الزام میں گرفتار ہوئے اور ایک برس جیل میں گزاری جس نے انھیں اپنے آپ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جیل میں گزرا ایک برس ان زندگی کا بہترین سال تھا۔

اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے این پاؤل کہتے ہیں کہ میں نے تو اپنی تباہی کا نقشہ خود تیار کیا تھا۔

1971 میں جورجیا، اٹلانٹا میں پیدا ہونے والے ایئن پاؤل کو بچن سے ہی کلائمبنگ کا شوق تھا اور وہ تین چار برس کی عمر میں دیواریں پھلانگنے لگے تھے۔

پاؤل کا ماضی بہت مشکل تھا۔ ان کے باپ کو شراب کے نشے کی لت تھی اور وہ اسی کے ہاتھوں فوت ہو گئے۔ باپ کی وفات کے وقت پاؤل کی عمر 10 برس تھی اور ان کی ماں اپنے بچے کو لے کر ٹیکساس آگئیں۔ یہی وہ وقت تھا جب ایئن پاؤل نے کلائمبنگ کو سنجیدگی سے لیا اور امریکہ کی قومی کلائمبنگ ٹیم تک پہنچ گئے لیکن اس میں اپنی مستقل جگہ نہ بنا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں امریکی ٹیم کا مستقل حصہ بننا چاہتا تھا لیکن کلائمنبنگ کو بطور پیشہ اپنانا میری قسمت میں نہیں تھا۔ لیکن میں پھر بھی اس صنعت سے جڑا رہنا چاہتا تھا، لہذا میں نے کچھ اور کرنے کا سوچا۔'

ایئن پاؤل کا ڈیزائن اور فائن آرٹس کا پس منظر تھا اور اسی کو استعمال میں لا کر انھوں نے کلائمبنگ ہولڈز ڈیزائن کرنے شروع کیے۔ 1996 میں انھوں نے شراکت داری میں ای گریپس نام کی کمپنی کا آغاز کیا اور ان کا کاروبار چل نکلا۔

این پاؤل کو مجسمہ سازی کا بھی شوق ہے اور ان کے مجسمے دسویں ہزاروں ڈالرو میں بکنے لگے۔ این پاؤل کے پاس پیسے کی ریل پیل ہو گئی اور پھر پاؤل منشیات کی طرف چل نکلے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی بڑا نشہ نہیں کیا تھا، لیکن انھیں محسوس ہوا کہ وہ چاہیں اسے بیچ سکتے ہیں۔ 'میرے اردگرد دولت کے ڈھیر تھے، کیش کی دستیاں کھلی میرے اردگرد پڑی رہتی تھیں۔' پھر مجھے کوکین اور دوسری منشیات کا معلوم ہوا۔'

وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی کامیابی کو سنبھالنے کے قابل نہیں تھے۔ 'جب مجھے کامیابی ملی، اور ہر کوئی میری تعریفیں کر رہا تھا، تو میں اسے سنبھال نہیں پایا اور منشیات کا استمعال قابو سے باہر ہو گیا۔"

وہ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت تک اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے قابل نہ ہوئے جب تک وہ زمین پر نہ آ گرے۔' میں نے اپنی زندگی کے آٹھ برس اپنے ہاتھوں ضائع کر دیئے۔'

این پاؤل 2013 میں جیل پہنچ گئے۔ یہ ہی وہ موقع تھا جب انھوں نے اپنی زندگی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا اور نشے سے جان چھڑا لی۔ وہ جیل میں گزرے ایک برس کو اپنی زندگی کا بہترین سال کہتے ہیں۔

ایک برس کی قید کے بعد انھیں کولاراڈو میں رہا کر دیا گیا۔ ایک پرانے دوست ڈین ہولی نے انھیں اپنے جم میں نوکری دی۔ وہ جم میں چھوٹی موٹے کام کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد ان کے دوست نے انھیں کلائمبنگ گرپس ڈیزائن کی طرف موڑ دیا۔

بی بی سی کی ’باس سیریز‘ سے دیگر مضامین

شراب خانہ چلانے والے اداکار کامیاب کاروباری شخصیت کیسے بنے؟

سنیاس سے 10 کروڑ ڈالر سالانہ کی مراقبہ کمپنی تک کا سفر

امریکی ٹی وی پر راج کرنے والی ارب پتی حسینہ

’شوگر فری‘ ٹافیوں کا 40 ملین ڈالر کا کاروبار

’بیرسٹر نشا نے شیف بننا کیوں پسند کیا؟`

اسی دوران ان کی ملاقات جیکی ہیوفٹل سے ہوئی۔ وہ بھی اسی جم میں کام کرتی تھیں۔ جیکی کو بھی کلائمبنگ کا شوق ہے۔ جیکی کو این پاؤل کے ڈیزائن کی ہوئی گرپس بہت پسند آئیں اور انھوں نے اس کی مارکیٹنگ کرنا شروع کی اور آہستہ آہستہ ان کا موجودہ کاروبار 'کلٹر گرپس' وجود میں آ گیا۔

اسی دوران پاؤل کا جیکی سے تعلق بڑھنے لگا اور انھوں نے ڈیٹنگ شروع کر دی حالانکہ جیکی کا پاؤل کے ساتھ ماضی کا تجربہ بہت برا تھا۔ پاؤل جب نشے کی لت میں مبتلا تھا اور چوریوں کے ذریعے اپنی ضرورت کو پورا کرتا تھا، اس نے جیکی کی کار چوری کرنے کی کوشش کی تھی۔

جیکی کہتی ہیں ’جب میں نے پاؤل کو کار چوری کا واقعہ یاد دلایا تو اسے بہت شرمندگی ہوئی۔‘

جوں جوں کِلٹر کی گرپس مقبول ہوئیں انہوں نے ایک باقاعدہ کمپنی کا آغاز کیا جس کا آج سالانہ منافع دو اعشاریہ پانچ ملین ڈالر ہے۔

جیکی اور پاؤل زندگی کے پارٹنر کے ساتھ ساتھ بزنس پارٹنر بھی ہیں۔

جیکی کہتی ہے ’ہماری شراکت اچھی چل رہی ہے۔ یہ ایک آرٹسٹ ہے اور میں مدھم اور نرم مزاج والی۔‘

کلائمبنگ کا سامان بنانے والی کمپنی بیسٹ فنگرز کلائمبنگ کے مالک امان اینڈرسن کہتے ہیں کہ ایئن پاؤل کلائمبنگ کے شعبے کی ایک اہم شخصیت ہیں جس نے اس شعبے میں جدت اور اختراع پیدا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایئن پاؤل نے ای گرپس اور کِلٹر گرپس شروع کر کے نوجوانوں کو ایک پیغام دیا ہے کہ اس صنعت کو تخلیق کاروں کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاؤل دل سے ایک مجسمہ ساز ہیں۔

ایئن پاؤل کلائمبنگ ہولڈز کو اپنے گھر میں ڈیزائن کرتے ہیں اور اکثر راتوں کو اس پر گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔

ایئن پاؤل کہتے ہیں' جب میں نے اپنی زندگی تباہ کی تو میں کلائمبنگ کی دنیا سے غائب ہو گیا، کسی کو نہیں معلوم تھا کہ میں کہاں ہوں۔ اب جب میں اس سے پاک ہو کر واپس آنا چاہا، تو سب نے تو نہیں لیکن اکثر نے مجھے خوش آمدید کہا۔‘