باقی دنیا کی طرح برطانیہ بھی کئی دہائیوں عشروں کے بدترین معاشی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مگر اس کا اصل مطلب کیا ہے؟

عام حالات میں ملک کی معیشت ترقی کرتی ہے یعنی اس کی شرح نمو میں اضافہ ہوتا ہے۔

شہریوں کی دولت میں پچھلے برس کے مقابلے میں اضافہ ہوتا ہے۔ شہری جس چیز کو بناتے ہیں یا جو خدمات مہیا کرتے ہیں اس کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔

لیکن کبھی کبھار ان پیداواری چیزوں یا خدمات کی قدر میں کمی ہو جاتی ہے۔ جب ایک سہہ ماہی پیداواری چیزوں یا خدمات کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے تو اسے معاشی گراوٹ کہتے ہیں اگر معاشی گراؤٹ ایک لمبے عرصے تک جاری رہے تو اس معاشی افسردگی یا معاشی ڈپریشن کہتے ہیں۔

معاشی گراؤٹ لوگوں کو کیسے متاثر کرتی ہے؟

ملکی معیشت کی شرح نمو میں سالانہ اضافہ لوگوں کی اکثریت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نوکریوں کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے ملازمین یا حصہ داروں کو زیادہ ادائیگیاں کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہیں۔

اگر معیشت ترقی کر رہی ہے تو حکومت کو بھی فائدہ ہے کیونکہ اسے ٹیکسوں کی مد میں پہلے سے زیادہ وصولیاں ہوتی ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر وہ ٹیکسوں میں رعایت، ضرورت مندوں کی مالی مدد اور اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

جب معیشت سکڑنے لگتی ہے یہ تمام فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔

کیا برطانیہ باضابطہ معاشی گراؤٹ کے دور میں پہنچ چکا ہے؟

ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت کو رواں سال کی پہلی سہہ ماہی میں منفی ترقی یا شرح نمو میں کمی کا سامنا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا سے معیشت کو لگنے والے دھچکے کے اثرات اب سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

کیا لاک ڈاؤن سے انڈیا میں غذا کی قلت ہو جائے گی؟

کورونا کے باعث قحط کے خطرے سے دوچار پانچ ممالک

مدافعتی نظام بہتر بنا کر کیا آپ کووِڈ 19 سے بچ سکتے ہیں؟

کیا لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کی عادات تبدیل ہونے پر پریشان ہونا چاہیے؟

برطانیہ میں دوسری سہہ ماہی یعنی اپریل سے جون تک کے اعداد و شمار ابھی شائع نہیں ہوئے ہیں لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ معاشی گراوٹ پچھلی سہہ ماہی سے بھی زیادہ ہو گی۔ اگر مسلسل دوسری سہہ ماہی میں ترقی کی شرح منفی رہی تو اس کی تصدیق ہو جائے کہ زیادہ دنیا معاشی گراوٹ کے مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔

برطانیہ کی پہلی سہہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ تک اس کی معیشت دو فیصد سکڑ گئی تھی۔

برطانیہ کے ادارہ شماریات کے مطابق اپریل کے مہینے میں ملکی معیشت بیس اعشاریہ چار فیصد سکڑ گئی ہے جو کہ برطانیہ کی تاریخ میں کسی ایک ماہ میں معیشت کے سکڑنے کا ریکارڈ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے 2020 میں شرح نمو میں بڑی گراوٹ کی پیشگوئی کی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں پانچ اعشاریہ نو فیصد گراوٹ جبکہ برطانیہ کی معیشت میں چھ اعشاریہ پانچ فیصد گراوٹ ہو گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق عالمی معیشت میں مجموعی طور پر تین فیصد گراوٹ ہو گی۔ یہ گراوٹ 1930 میں آنے والے بدترین مالی بحران کے بعد سب سے بڑی معاشی افسردگی کا دور ہو گا۔

معاشی گراؤٹ مجھے کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

کچھ لوگوں کی نوکریاں شاید ختم ہو جائیں یا نئے مواقعے ناپید ہو جائیں۔

یونیورسٹیوں یا سکولوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان جو اپنی پہلی نوکری ڈھونڈ رہے ہیں، ان کے لیے مواقعے کم ہو جائیں گے۔

جن کی نوکریاں برقرار ہیں، ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو پائے گا یا انھیں اپنی اجرت میں کٹوتی پر رضامند ہونا پڑے گا۔ اس کے بھی امکانات ہیں کہ ان کے کام کے اوقات شاید پہلے سے طویل ہو جائیں۔

برطانوی ادارے، آفس آف بجٹ ریسپانسیبلٹی (او بی آر) کے اندازے کے مطابق برطانیہ میں بے روزگاری کی موجودہ شرح دگنی یعنی دس فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

او بی آر کے اندازے کے مطابق برطانوی حکومت کو کورونا کی وبا سے ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے 300 ارب پونڈ کا قرض لینا پڑے گا۔

البتہ معاشی گراؤٹ کے دور میں جنم لینے والی مشکلات معاشرے کے تمام طبقات کو برابر متاثر نہیں کرتیں۔

مثال کے طور برطانیہ میں جن لوگوں نے قرضوں پر گھر لے رکھے ہیں اور اگر ان کی نوکری برقرار رہتی ہے تو انھیں زیادہ پریشانی نہیں ہوگی کیونکہ شرح سود میں کمی کی وجہ سے گھر کی ماہانہ قسط میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

لیکن سرکاری ملازم یا وہ لوگ جن کی گذر بسر سرکاری امداد پر ہے، ان کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

پچھلی معاشی گراؤٹ کتنے عرصے تک رہی؟

برطانیہ میں 2008 میں پیدا ہونے والا مالی بحران جو عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا وہ پانچ سہ ماہیوں یعنی ایک سال تین ماہ تک جاری رہا۔

اس دوران شرح نمو مجموعی طور سات اعشاریہ دو فیصد کم ہوئی۔ بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن دو برس بعد بیروزگاری کی شرح میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی۔

اس کے علاوہ بہت بڑا مالی خسارہ پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے قومی قرضوں کا حجم دگنا ہو گیا۔ اس مالی خسارے پر قابو پانے کے لیے دس برس تک بچت کی پالیسی پر عمل کیا گیا۔

حکومت نے اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے صحت، تعلیم اور عالمی امداد کے علاوہ باقی تمام اخراجات میں کمی کی۔

معاشی گراؤٹ کا دور کب ختم ہو گا؟

آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق اگلے برس معاشی گراؤٹ ختم ہو جائے گی اور عالمی معیشت پھر سے ترقی کی راہ پر آ جائےگی۔

لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ معاشی گراؤٹ کے بعد بحالی کا سفر کتنا ٹھوس اور توانا ہو گا۔

اگر وہ تمام کاروبار جو لاک ڈاؤن کے دوران بند ہیں، دوبارہ کھل جائیں تو اس سے مالی بحران کے اثرات زیادہ شدید نہیں ہوں گے۔

البتہ وائرس کے واپسی کے خدشات موجود ہیں، اور ایسی صورتحال میں لوگ محتاط رہیں گے اور وہ سفر سے گریز کریں گے۔

ہوا بازی کے شعبے اور تفریحی سمندری جہازوں اور کاروباری کانفرنسوں کے انعقاد کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلی والی صورتحال پر واپس آنے میں وقت لگے گا۔

لہذا معاشی گراؤٹ کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

کیا کیا جا سکتا ہے؟

کورونا وائرس کی وبا کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے سب سے موثر طریقہ ویکسین کی ایجاد ہے جس سے معیشت بھرپور طریقے سے واپس آ سکتی ہے۔لیکن جب تک ویکسین تیار نہیں ہو جاتی اس وقت ان چند طریقوں پر عمل کر کے معاشی گراوٹ کے عمل کو سست کیا جا سکتا ہے۔

پچھلے مالی بحران کے دوران مرکزی بینک نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے قرضوں پر سود کی شرح میں کمی کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کاروبار اور افراد باآسانی اور قرضہ لے سکتے ہیں اور خرچ کر سکتے ہیں۔

لیکن یہاں پہلے ہی شرح سود صفر کے قریب ہے اور اسے مزید کم کرنا ممکمن نہیں ہوگا۔

ساری دنیا میں حکومتیں اپنی معیشتوں کو سہارا دینے اور اپنے شہریوں کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے قرضے لے رہی ہیں تاکہ وہ شہریوں کو براہ راست کیش، یا تنخواہ کا ایک حصہ ادا کر سکیں۔

لیکن قرضےحاصل کر کے اپنی مالی مشکلات پر قابو پانے کی ایک قیمت ہوتی ہے جو عشروں تک چکانی کرنی پڑتی ہے۔