یوگینڈا کے مشہور رفیقی نامی گوریلے کو ہلاک کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جرم ثابت ہونے کی صورت میں انھیں معدوم انواع کو ہلاک کرنے کے جرم میں عمر قید یا 54 لاکھ ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔

تفتیش سے پتا چلا کہ ہے رفیقی کو کسی تیز دھار آلے سے ہلاک کیا گیا جس نے اس کے اندرونی اعضا تک کو چیر کر رکھ دیا تھا۔

یوگینڈا کے پہاڑوں میں صرف 1,000 پہاڑی گوریلے زندہ بچے ہیں اور رفیقی کی ہلاکت کو یوگینڈا کے محکمۂ جنگلی حیات نے زبردست دھچکا قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گوریلوں کی بقا کا انحصار کس پر؟

لوگ چڑیا گھر پہنچے لیکن وہاں جانور ہی نہیں تھے

’نئے سال کی آتش بازی، تمام بندر جل گئے‘

ہلاکت کے وقت رفیقی کی عمر کا اندازہ 25 برس لگایا گیا ہے اور وہ بوینڈی نیشنل پارک میں 17 پہاڑی گوریلوں کے غول کا لیڈر تھا۔

گوریلوں کا یہ جتھا انسانوں سے مانوس ہے۔

محکمۂ جنگلات سے وابستہ بشیر ہینگی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'رفیقی کی موت کے بعد یہ غول غیر مستحکم ہوگیا ہے اور اس کے ٹوٹ جانے کا خطرہ ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سربراہ کی عدم موجودگی میں خدشہ ہے کہ کوئی ایسا سلور بیک (روپہلی پشت) اس غول کا سربراہ بن جائے گا جو انسانوں سے بالکل مانوس نہیں ہوگا۔

اگر ایسا ہوا تو یہ گروپ انسانوں کے قریب آنا چھوڑ دے گا جس سے ملکی سیاحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

پہاڑی گوریلے سیاحوں میں خاصے مقبول ہیں اور یوگینڈا کا محکمہ جنگلات سیاحوں کی آنے سے ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتا ہے۔

بسیر ہینگی نے بتایا کہ رفیقی انسانوں سے بہت مانوس تھا اور سیاح اسے بہت پسند کرتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق رفیقی یکم جون کو غائب ہوا اور اگلے روز اس کی تلاش میں پر معمور ٹیم کو اس کی لاش ملی۔

ٹیم نے قریبی گاؤں میں موجود ایک مشتبہ شخص کا سراغ لگا کر اسے شکار کے آلات سمیت گرفتار کر لیا۔

مشتبہ شخص نے اعتراف کیا کہ وہ اور تین دوسرے افراد نیشنل پارک میں چھوٹے جانوروں کا شکار کھیل رہتے تھے اور انھوں نے رفیقی کو اپنا دفاع کرتے ہوئے اس وقت ہلاک کیا جب اس نے ان پر حملہ کیا۔

ملزموں پر گذشتہ برس پاس کیے گئے جنگلی حیات کے قانون کے تحت فرد جرم عائد کرنے کی توقع ہے۔

پہاڑی گوریلوں کی اقسام ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو، روانڈا اور یوگینڈ میں محفوظ خطوں تک محدود ہیں۔

سنہ 2018 میں انسداد شکار کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بعد پہاڑی گوریلوں کو بقائے ماحول کی عالمی انجمن، آئی یو سی این، نے معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کی فہرست میں نکال دیا تھا۔

مگر آئی یو سی این نے انھیں پھر سے ان گوریلوں کو اس فہرست میں شامل کر لیا ہے۔