آج کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلی سربراہی ملاقات کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں اور اس موقع پر شمالی کوریا نے سوال کیا ہے کہ آخر اسے امریکہ کا ’ہاتھ تھامے رکھنے‘ کی کیا ضرورت ہے۔

یہ بیان بنیادی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تردید ہے جنھوں نے پیانگ یانگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنی صدارت کی اہم کامیابیوں میں سے قرار دیا ہے۔

سنہ 2018 میں سنگاپور میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے قبل امریکہ اور شمالی کوریا کے باہمی تعلقات میں زبردست بہتری آئی تھی۔

مگر اس کے بعد سے زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا کا تنازع ہے کیا؟

شمالی کوریا میں ہار کا کیا انجام ہوتا ہے؟

صدر ٹرمپ شمالی کوریا کی سرحد عبور کر گئے

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری سون گوون نے کہا کہ ’دو سال قبل بہتر تعلقات کی جو امید دنیا بھر میں ظاہر کی جا رہی تھی، اب وہ مایوسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔‘

کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’جزیرہ نُما کوریا میں امن اور خوشحالی کی موہوم سی کرنیں بھی اب تاریکی میں تبدیل ہوگئی ہیں۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے بظاہر صدر ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو نومبر میں دوبارہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا ’دوبارہ کبھی بھی کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر انھیں اپنی کامیابی کے لیے استعمال کرنے کے لیے کوئی پیکج نہیں دے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ کیا سنگاپور میں ملائے گئے ہاتھ تھامے رکھنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ‘ ذاتی تعلقات برقرار رکھنے میں ’کوئی ٹھوس فائدہ‘ نہیں ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس کے بجائے پیانگ یانگ ’زیادہ قابلِ اعتبار فورس تیار کرے گا تاکہ امریکہ سے لاحق طویل مدتی عسکری خطروں کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘

اب کوئی امکان نہیں

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان 2018 میں سنگاپور میں ہونے والی سربراہی ملاقات عہدے پر موجود کسی بھی امریکی صدر اور کسی شمالی کوریائی رہنما کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات تھی۔

دہائیوں کی مخاصمت کے بعد ہونے والی اس ملاقات میں دونوں ممالک نے جزیرہ نُما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مبہم شرائط پر اتفاق کیا۔

ویتنام کے دار الحکومت ہنوئی میں 2019 میں ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کسی معاہدے کے بغیر قبل از وقت ختم ہوگئی کیونکہ دونوں ہی ممالک اس بات پر اتفاق نہیں کر پائے کہ ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنے یا ڈی نیوکلیئرائزیشن کا شمالی کوریا کے لیے کیا مطلب ہوگا اور اس کے لیے کیا مرحلہ اپنانا چاہیے۔

شمالی کوریا نے پابندیاں اٹھانے کی درخواست کی جسے امریکہ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ شمالی کوریا پہلے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم کرے۔

آنے والے مہینوں میں تعلقات مزید خراب ہوئے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی شمالی کوریا نے بھی جنوبی کوریا سے اپنا تعلق تقریباً منقطع کر لیا، حالانکہ ان تعلقات میں بھی کافی بہتری آئی تھی۔

شمالی کوریا نے 2019 میں اسلحے کی آزمائش دوبارہ شروع کر دی۔ ان آزمائشوں کو امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا گیا۔

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات رواں ہفتے مزید خراب ہوئے جب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے، جس میں دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان موجود ہاٹ لائن بھی شامل ہے۔