ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس میں ان کی صدارت کے مزید چار سال کے درمیان جو شخص کھڑے ہیں، وہ ہیں جو بائیڈن۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دورِ صدارت میں ان کے نائب صدر رہے والے جو بائیڈن اس سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار منتخب ہو چکے ہیں۔

اپنے حمایتیوں کے لیے وہ خارجہ امور کے ماہر ایےس شخص ہیں جنھیں واشنگٹن میں کام کرنے کا کئی دہائیوں کا تجربہ ہے، ایک متاثر کن خطیب جن کی پہنچ عام لوگوں تک ہے اور ایک ایسا شخص جس نے اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی تکلیف دہ سانحوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔

ان کے ناقدین کو لگتا ہے کہ وہ ایک ایسی عمر رسیدہ شخصیت ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہیں اور اکثر ایسی حرکات کر بیٹھتے ہیں جو شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔

لیکن کیا جو بائیڈن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کی صلاحیت موجود ہے؟

یہ بھی پڑھیے

اوباما اور بائیڈن کی تصاویر میں تیسرا کون؟

کیا سلیمانی کی ہلاکت ٹرمپ کو دوبارہ صدر بنوا دے گی؟

جارج فلائیڈ کی موت پر امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم

جوشِ خطابت

جو بائیڈن کے لیے انتخابی مہم چلانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ واشنگٹن میں ان کے سیاسی سفر کا آغاز 47 برس قبل 1973 میں ہوا جب وہ سینیٹ کے رکن بنے۔ ان کی پہلی صدارتی مہم 33 برس قبل 1987 میں تھی۔

کہا جاتا ہے کہ ان میں ووٹروں کو راغب کرنے کی فطری صلاحیت موجود ہے لیکن ان کے منھ سے کسی بھی وقت کوئی ایسی بات نکل سکتی ہے جس سے کوئی تنازع شروع ہو جائے۔

مجمعے کے سامنے وہ جوشِ خطابت میں کئی مرتبہ ایسی باتیں کر چکے ہیں جن سے انھیں نقصان ہوا۔ یہ ان کی تیسری صدارتی مہم ہے۔ ان ک پہلی صدارتی مہم باقاعدہ طور پر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔

اپنی ریلیوں میں انھوں نے یہ دعوی کرنا شروع کر دیا تھا کہ ان کے آبا و اجداد ملک کی شمال مشرق ریاست پنسلوینیا میں کوئلے کی کانوں میں کام کرتے تھے اور یہ کہ انھیں اس بات پر غصہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد کو وہ مواقع نہیں ملے جن کے وہ مستحق تھے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو بائیڈن کے آبا و اجداد میں سے کوئی بھی کان کن نہیں تھا۔ انھوں نے یہ بات اور ایسی کئی دوسری باتیں ایک برطانوی سیاستدان نیل کینوک کی تقریر سے چرائی تھیں۔ نیل کینوک کے رشتے دار واقعی کان کن تھے۔

یہ بائیڈن کی جانب سے کئی ایسی باتوں میں سے پہلی بات تھی جسے بعد میں 'جو بومز' کا نام دیا گیا۔

سنہ 2012 میں اپنے سیاسی کیریئر کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے ایک خطاب میں یہ کہہ کر لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا کہ : ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں آٹھ صدور کو اچھی طرح سے جانتا ہوں اور ان میں تین کے ساتھ میرے انتہائی قریبی تعلقات رہے ہیں‘۔

دراصل وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ تین صدور ان کے قریبی دوست رہے ہیں لیکن انھوں نے غلطی سے یہ بات اس طرح سے کہی کہ جیسے ان تینوں کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات رہے ہیں۔

سنہ 2009 میں انھوں نے یہ کہہ کر لوگوں کو پریشان کر دیا کہ 'اس بات کا 30 فیصد امکان ہے کہ ہم معاشی مسائل کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پائیں گے۔‘ بائیڈن ان دنوں صدر اوباما کے نائب صدر تھے۔

وہ اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ باراک اوباما کے بارے میں یہ تبصرہ کرنے کے باوجود بھی انھیں نائب صدر کا امیدوار منتحب کیا گیا کہ ’اوباما پہلے افریقی امریکی ہیں جو معاملات کو اچھی طرح بیان کرتے ہیں، ذہین ہیں، بے داغ پس منظر رکھتے ہیں اور دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں۔‘

بائیڈن کے ان الفاظ کے باوجود حالیہ صدارتی مہم کے دوران انھیں سیاہ فام لوگوں کی زبردست حمایت حاصل ہے۔

تاہم حال ہی میں ریڈیو کے ایک سیاہ فام میزبان شارلیمین تھا گاڈ کے پروگرام میں بائیڈن نے کہہ دیا کہ 'اگر آپ کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ آپ کو ٹرمپ یا مجھ میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے تو پھر آپ سیاہ فام نہیں ہو سکتے۔‘

بائیڈن کی اس بات پر میڈیا میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی اور ان کی ٹیم لوگوں کو بمشکل یہ سمجھاتی رہی کہ بائیڈن افریقی امریکیوں کے ووٹوں کو اس نظر سے نہیں دیکھتے کہ یہ ووٹ تو ملنے ہی ملنے ہیں۔

اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک صحافی نے لکھا کہ بائیڈن کی صدارتی مہم چلانے والی پوری ٹیم اس کوشش میں نظر آتی ہے کہ کسی طرح انھیں بغیر تیاری کے بولنے سے روکا جا سکے۔

امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ اور صدارتی امیدوار جان کیری نے جریدے نیویارکر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بائیڈن ایک ایسے سیاستدان ہیں جو لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، جن تک رسائی ممکن ہے اور یہ سب حقیقی ہے، انھوں نے کوئی لبادہ نہیں اوڑھا ہوا ہے۔

لیکن لوگوں سے ان کی زیادہ قربت ایک مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

الزامات

گذشتہ برس آٹھ خواتین نے الزام لگایا کہ جو بائیڈن نے انھیں غیر مناسب طریقے سے چھوا، گلے لگایا یا بوسہ لیا۔

امریکی ٹی وی چینلوں پر ان کے کئی کلپ چلائے گئے جن میں وہ مختلف عوامی اجتماعات میں خود آگے بڑھ کر خواتین سے گرم جوشی سے ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ان میں ایسے مناظر بھی شامل ہیں جنھیں دیکھ کر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خواتین کے بال سونگھ رہے ہوں۔

اس کے ردعمل میں بائیڈن نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ لوگوں سے ملنے کے دوران محتاط رہیں گے۔

تاہم مارچ میں تارا ریڈ نامی ایک خاتون نے الزام لگایا کہ 30 سال قبل بائیڈن نے انھیں زبردستی دیوار سے لگا کر جنسی زیادتی کی۔ ان دنوں یہ خاتون بائیڈن کے دفتر میں ایک اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔

جو بائیڈن نے اس الزام کی تردید کی اور ایک بیان جاری کیا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان اپنے امیداوار کے دفاع میں صدر ٹرمپ کی مثال دیں گے کہ اب تک ایک درجن سے زیادہ خواتین نے ان پر جنسی حملوں کا الزام لگایا ہے۔

تو کیا اِس معاملے کو اعداد و شمار تک محدود کیا جا سکتا ہے؟

جب سے #MeToo کی تحریک شروع ہوئی ہے بائیڈن سمیت دیگر ڈیموکریٹس اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ معاشرے کو خواتین پر یقین کرنا چاہیے۔

اس لیے بائیڈن پر لگنے والے الزامات کو دبانے کی کوئی بھی کوشش خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں میں بے چینی کا باعث بنے گی۔

ایک جیسی غلطیوں سے احتراز

جو بائیڈن کے اس انداز نے اگرچہ ماضی میں مسائل پیدا کیے ہیں لیکن ان کے حامیوں کو امید ہے کہ عام لوگوں سے گرمجوشی سے ملنے اور قریب رہنے والا یہ انداز انھیں ایسی صورتحال میں پھنسنے سے بچائے گا جس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی سابق امیدوار پھنس چکے ہیں۔

بائیڈن ایک انتہائی تجربے کار سیاستدان ہیں لیکن ان کا کئی دہائیوں پر محیط یہی طویل سیاسی کیریئر نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ان کے لیے مصیبت بن سکتا ہے۔

بائیڈن گذشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والے تقریباً تمام اہم واقعات اور معاملات میں شامل رہے ہیں یا ان پر تبصرہ کر چکے ہیں۔

لیکن ہو سکتا ہے کہ ماضی میں کیے گئے فیصلے اور بیانات موجودہ سیاسی ماحول میں ووٹروں کو پسند نہ آئیں۔

مخالف ریپبلیکن پارٹی اس بات کو ضرور اچھالے گی کہ سابق صدر باراک اوباما کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا تھا کہ 'بائیڈن کو پسند نہ کرنا ناممکن ہے لیکن گذشتہ 40 برسوں کے دوران خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے تقریباً ہر معاملے پر ان کا موقف غلط رہا ہے۔'

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کو اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسی مزید باتوں کے مقابلے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

خاندان کا سانحہ

جو بائیڈن اپنی ذاتی زندگی میں ایسے سانحوں سے گزرے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ ہیں اور جن کی وجہ سے وہ عوام کے قریب نظر آتے ہیں۔

سینیٹ کا اپنا پہلا الیکشن جیتنے کے بعد جب وہ حلف لینے کی تیاری کر رہے تھے تو اس دوران ان کی اہلیہ نائیلیہ اور بیٹی نومی گاڑی کے حادثے میں ہلاک ہو گئیں تھیں جبکہ دونوں بیٹے بیؤ اور ہنٹر زخمی ہوئے تھے۔

بعد میں بیؤ بھی 46 سال کی عمر میں دماغ میں ٹیومر سے ہلاک ہو گئے۔

اپنے پیاروں کی ایک ساتھ موت نے انھیں کئی امریکیوں کے دل کے قریب کر دیا ہے۔ اپنے تمام تر سیاسی اثر و رسوخ اور دولت کے باوجود وہ ایسے ہی سانحے سے گزرے ہیں جس کا عام لوگ بھی سامنا کرتے ہیں۔

وہ فطری طور پر ایک محتاط شخص ہیں، انھوں نے صدر اوباما کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف سپیشل فورسز کا آپریشن نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

جو بائیڈن کے بارے میں اسامہ بن لادن کی رائے بھی بظاہر کچھ اچھی نظر نہیں آتی۔

سی آئی اے کے ہاتھ لگنے اور جاری کی جانے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسامہ نے اپنے حملہ آوروں کو حکم دیا تھا کہ باراک اوباما کو نشانہ بنایا جائے لیکن ان کے نائب صدر جو بائیڈن کو نہیں۔

کیونکہ اسامہ سمجھتے تھے کہ ’بائیڈن صدر کا عہدہ سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں اور ان کے صدر بننے کی صورت میں امریکہ بحران کا شکار ہو جائے گا۔‘

بائیڈن کے خیالات ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی نوجوان کارکنوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ لوگ برنی سینڈرز یا ایلزیبتھ وارن جیسے جنگ مخالف رہنماؤں کو ترجیح دیتے ہیں۔

جبکہ کئی ایسے امریکی انھیں ضرورت سے زیادہ امن پسند سمجھتے ہیں جو صدر ٹرمپ کے حکم پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت پر خوش تھے۔

بائیڈن کی سیاسی سوچ زیادہ تر ایک جیسی ہی رہی ہے جس سے ڈیموکریٹک پارٹی کے انقلابیوں کا متاثر ہونا مشکل ہے لیکن یہ ایک اعتدال پسند سوچ ہے اور بائیڈن کو امید ہے کہ وہ ایسے ووٹر کو اپنی جانب راغب کریں گے جنھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کسے ووٹ دینا ہے۔

اب تک ہونے والے جائزوں کے مطابق صدارت کی دوڑ میں بائیڈن صدر ٹرمپ سے پانچ سے 10 پوائنٹ آگے ہیں۔ لیکن نومبر میں ہونے والے انتخاب میں ابھی کافی وقت باقی ہے اور راستے میں ابھی کئی تلخ جنگیں آئیں گی۔

سیاہ فام امریکیوں کے خلاف پولیس کے تشدد، اس معاملے پر ہونے والے مظاہروں اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات پر دونوں امیدواروں کے درمیان پہلے ہی الفاظ کی جنگ ہو چکی ہے۔

یہاں تک کے ماسک بھی سیاسی ایشو بن چکے ہیں، بائیڈن ماسک پہن کر آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ ایسا نہیں کرتے۔

لیکن انتخابی مہم کے ان چھوٹے موٹے سیاسی ہتھکنڈوں سے آگے کئی بڑے معاملات داؤ پر لگے ہیں۔

اگر جو بائیڈن جیت گئے تو یہ ان کے سیاسی سفر کی معراج ہو گی لیکن اگر وہ ہار جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کو وائٹ ہاؤس میں مزید چار سال مل جائیں گے جسے وہ امریکہ کا صدر بننے کے بالکل بھی لائق نہیں سمجھتے، ایسا شخص جو 'قابلِ اعتماد نہیں ہے۔'

کچھ برس قبل جب بائیڈن سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں سوچ رہے تھے تو انھوں نے کہا تھا ’میں صدر بنے بغیر بھی ایک خوش انسان کے طور پر مر سکتا ہوں۔‘

لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔