ماضی میں سیاہ فام افراد کی غلامی کے دور سے منسلک شخصیات کے مجسمے مغربی دنیا کے بیشتر ممالک میں نسل پرستی کے خلاف مہم میں شامل افراد کے عتاب کا نشانہ بن رہے ہیں۔

اس تناظر میں برطانیہ کے شہر بورنمتھ سے سکاؤٹس مومنٹ کی بنیاد ڈالنے والے رابرٹ بیڈن کے ایک مجسمہ کو شہر کے ایک مرکزی مقام سے ہٹا دیا جائے گا۔ مقامی کونسل کے مطابق اس مجسمے کو پولیس کے مشورے پر ہٹایا جارہا ہے کیونکہ خدشے ہے کہ یہ ’حملے کے لیے ٹارگٹ لسٹ‘ پر ہے۔

1941 میں 83 سال کی عمر میں فوت ہونے والے رابرٹ بیڈن پاویل پر الزام ہے کہ وہ پر نسل پرستی، ہوموفوبیا اور ایڈولف ہٹلر کی حمایت کرتے تھے۔

برسر اقتدار کنزرویٹو پارٹی کے مقامی ارکان پارلیمان نے کہا کہ وہ مجسمے کو ہٹانے کے مخالف ہیں۔ جبکہ حزب اختلاف کی لیبر پارٹی کی سابق پارلیمانی امیدوار کیری ڈریو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کا ایک سرسری جائزہ لینے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ہم جنس پرستی کے خلاف اپنے خیالات کھلے عام اظہار کرتے تھا اور وہ ہٹلر اور فسطائیت کا بہت کھلا حامی تھا اور کافی واضح طور پر نسل پرستانہ گفتگو کرتا تھا۔

دریں اثنا ’پول شہر کے لارڈ بیڈن پاویل مجسمے کے دفاع‘ کے لئے ایک آن لائن پٹیشن پر 10،000 سے زیادہ دستخط موصول ہوئے ہیں۔

بورنموتھ ایسٹ کے کنزرویٹو ممبر پارلیمان ٹوبیاس ایل ووڈ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ بہت کم ایسی تاریخی شخصیات ہونگی جو اکیسویں صدی کی اقدار پر پورا اترتی ہیں۔ ماضی سے جڑی شخصیات کو یوں نظروں سے ہٹانے سے وہ غلطیاں درست نہیں ہوں گی اور نہ ہی ہم اس طرح ماضی سے کچھ سیکھ سکیں گے۔

کرسٹوفر کولمبس

دوسری جانب امریکہ کو دریافت کرنے کے لیے مشہور کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے سمیت امریکہ کی متعدد ریاستوں کے رہنماؤں کے مجسمے منہدم کیے گئے ہیں۔ ملک میں حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ ماضی میں غلامی سے جڑی شخصیات کے مجسموں کو شہروں میں اہم مقامات سے ہٹایا جائے۔

کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے باسٹن، میساچوسٹس اور میامی فلوریڈا میں مسخ کیے گئے۔ باسٹن میں شہر کے ایک مرکزی مقام پر کولمبس کے مجسمے کا سر قلم کردیا گیا۔

امریکہ میں نصاب کی کتابوں میں کولمبس کو پندرہویں صدی میں ایک نئی دنیا یعنی امریکہ کو دریافت کرنے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن اُس دور میں اُس زمین پر بسنے والے مقامی باشندوں کے لیے مہم چلانے والے کارکنوں نے کولمبس کے کردار پر یہ اعتراض کیا ہے کہ امریکہ میں کولمبس کی مہمات ان کے آباؤ اجداد کی نوآبادیات اور نسل کشی کا باعث بنی ہیں۔

جورج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد بلیک لائیوز میٹر مہم کے سلسلے میں غلامی کے دور سے منسلک شخصیات کے مجسمے مظاہرین کے نشانے پر ہیں۔

ایڈورڈ کولسن

جب برسٹل میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرین نے سترھویں صدی کی ایک غلاموں کی تجارت کرنے والے شخص کا مجسمہ منہدم کر کے اُسے فوراً ہی سمندر میں پھینک دیا تو انھوں نے اس عمل سے ایک واضح پیغام دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈورڈ کولسن کے بحری جہازوں میں اسی ہزار مردوں، عورتوں اور بچوں کو افریقہ سے امریکہ پہنچایا گیا تھا۔ لیکن کولسون کو اس کے آبائی شہر میں اب تک بہت معزز سمجھا گیا کیونکہ اس کی دولت سے اس شہر کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا۔

اگرچہ برطانیہ میں حکومت نے مجسمہ کے انہدام کے واقعہ کی مذمت کی ہے، تاہم احتجاجی مظاہرین کا کہنا کہ یہ انہدام ایک تبدیلی کا سنگِ میل ہے۔

ایک مورّخ ڈیوڈ اولوسوگا کہتے ہیں کہ 'مجسموں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کا مجسمہ ہے یہ ایک عظیم شخص تھا۔ جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے، یہ غلاموں کی تجارت کرتا تھا اور قاتل تھا۔'

برسٹل کی طرح عالمی سطح پر مظاہروں کے سلسلوں نے ایک نوآبادیاتی دور کے غلاموں کی خرید و فروخت کے کاروبار کی تاریخ سے جڑے شہروں اور شخصیات کو نمایاں کیا ہے۔

ہینری ڈنڈاس

سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں ایک یادگار ایک ایسے سیاستدان کے لیے تعمیر کی گئی تھی جس نے غلاموں کی تجارت کو غیر قانونی قرار دینے کی کوششوں میں تاخیر کروائی تھی۔ اس یادگار پر مظاہرین نے 'جارج فلائیڈ' اور 'سیاہ فاموں کی زندگیوں کی بھی اہمیت ہے' لکھ دیا۔

ایڈنبرا کے سینٹ اینڈریوز سکوائر میں ایک سو پچاس فٹ بلند 'ملوائیل مونیومنٹ' سنہ 1823 میں ہینری ڈنڈاس کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

ڈنڈاس برطانیہ کے18ویں اور 19ویں صدی کے موثر سیاستدانوں میں شمار کیے جاتا تھا اور اس زمانے میں ان کو 'بے تاج بادشاہ' کہا جاتا تھا۔

انھوں نے غلامی کے خاتمے کے قانون میں ایک ایسی ترمیم متعارف کرائی تھی جس کی وجہ سے اس کا خاتمہ دیر سے ہوا، یعنی انھوں نے غلامی کو بتدریج ختم کرنے کے راستے کو ترجیح دی تھی۔ اس ترمیم کی وجہ سے غلامی اور اس کا کاروبار 15 برس زیادہ عرصے تک جاری رہا۔

ان کے مجسمے کے خلاف مظاہروں کے پس منظر میں مقامی حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس مجسمے پر اس شہر کی غلاموں کی تجارت سے جڑی معلومات ایک تختی پر سوچ بچار کے لیے درج کردی جائیں گیں۔

اینڈنبرا سٹی کونسل کے لیڈر ایڈم میکوی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمیں اپنی تاریخ بتانے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ لوگوں کو دنیا کی تاریخ میں ایڈنبرا کا کردار معلوم ہو --- صرف یہی نہیں کہ ہمیں کن کن باتوں پر فخر ہے، بلکہ وہ باتیں بھی بتائیں جن پر ہمیں شرمندگی ہے۔'

شاہ لیوپولڈ ثانی

بلجیئم کے عوام اپنے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک حکمرانی کرنے والے بادشاہ لیوپولڈ ثانی کے مجسمے کو منہدم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آن لائین درخواستوں پر ہزاروں لوگوں نے اس کے انہدام کے لیے دستخط کیے ہیں، جبکہ نسل پسندی مخالف ایکٹیویسٹوں نے کئی ایک براہ راست اقدامات لیے ہیں۔

بلجیئم میں گانت نامی شہر میں نوآبادیاتی دور کے اس بادشاہ کے ایک مجسمے پر لال رنگ کردیا گیا اور اس کے چہرے پر کپڑے کا ایک خلاف پہنا کر اُس پر لکھ دیا گیا 'میں سانس نہیں لے سکتا ہوں'۔ کپڑے کے اس غلاف پر درج الفاظ سے لوگوں کو وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ نے اس وقت کہے تھے جب ایک سفید فام پولیس افسر نے اس کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھ دیا تھا جس سے اس کا دم نکل گیا۔ موجودہ مظاہروں کا سلسلہ اسی واقعے کے بعد شروع ہوا تھا۔

بلجیئم کے شہر اینٹ ورپ میں بادشاہ کے ایک اور مجسمے کو مظاہرین نے نذرِ آتش کیا جسے بعد میں حکام نے وہاں سے ہٹا دیا۔ ان حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس مجسمے کو میوزیم میں منتقل کردیا ہے۔ ملک کے دارالحکومت برسلز میں اسی بادشاہ کے ایک مجسمے پر لکھا گیا تھا 'قاتل'۔

بلجیئم کے شاہ لیوپولڈ ثانی نے اپنے ملک پر سنہ 1865 سے لے کر سنہ 1909 تک حکومت کی، لیکن وہ افریقی ملک کانگو میں اپنے انتہائی بھیانک کردار کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں۔

سنہ 1885 سے لے کر سنہ 1908 تک یورپ کے ایک چھوٹے ملک کے بادشاہ نے کانگو کو جو اس وقت کانگو فری سٹیٹ کہلاتا تھا، اپنی نجی جاگیر قرار دے دیا۔

اس نے اس علاقے کو ایک بے گار کیمپ میں تبدیل کردیا اور یہاں سے حاصل ہونے والے ربڑ کی تجارت سے بے انتہا دولت کمائی۔ جو لوگ غلاموں کی تجارت کی مخالفت کرتے یا اس کے خلاف مزاحمت کرتے انھوں عموماً گولی ماردی جاتی تھی۔ اور شاہ لیوپولڈ کے حکم تھا کہ گولی مارے جانے والوں کے ہاتھ قلم کرکے جمع کیے جائیں۔

لیوپولڈ کے زمانے میں کانگو میں ایک کروڑ افراد کی ہلاکتوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اُس نے بلجیئم میں انسانوں کا ایک چڑیا گھر بنایا تھا جس میں کانگو کے سیاہ فاموں کو لوگوں کی تفریح کے لیے پنجروں میں رکھا گیا تھا۔

اگرچہ اسے کانگو فری سٹیٹ پر اپنا کنٹرول ختم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا، تاہم اس ملک کو بلجیئم سے سنہ 1960 تک آزادی نہ مل سکی۔

بعض لوگ جو اسکے مجسمے کے ہٹانے کے خلاف ہیں وہ کہتے ہیں کہ بلجئیم کی تجارتی کامیابی شاہ لیوپولڈ ثانی کی مرہونِ منت ہے۔

رابرٹ لی

امریکی ریاست ورجینیا کنفیڈریٹ جنرل رابرٹ لی کے مجسمے کو ہٹا رہی ہے۔ جارج فلائیڈ کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران یہ مجسمہ توڑ پھوڑ کا شکار ہوا ہے۔

سنہ 1890 میں تعمیر کیے گئے اس مجسمے کو ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے ریاست کے گورنر رالف نورتھم نے کہا کہ 'اب ہم تاریخ کے جھوٹے موقف کا پرچار نہیں کرتے ہیں۔'

'یہ مجسمہ اس جگہ پر کافی عرصے کھڑا رہا ہے۔ تاہم اس کا یہاں ہونا پہلے بھی غلط تھا اور اب بھی غلط ہے۔ لہٰذا ہم اسے منہدم کر رہے ہیں۔'

یہ ریاست ورجینیا کے دارالحکومت رچمونڈ میں مونیومنٹ ایوینیو پر نسب کنفیڈریٹ مجسموں سے ایک ہے جو سب کے سب رنگ و روغن اور 'سفید فاموں کی برتری ختم کرو' جیسے نعروں سے مسخ کردیے گئے ہیں۔

رابرٹ لی کنفیڈریٹ سٹیٹ آرمی کا ایک جنرل تھا جو غلاموں کے نظام کی حامی تھی۔ یہ کنفیڈریٹ امریکہ کی خانہ جنگی کے دوران سنہ 1861 سے لے کر سنہ 1865 تک جنوبی امریکہ میں برقرار رہی تھی۔

رابرٹ لی نے ورجینیا میں غلاموں کا کاروبار کرنے والے ایک امیر ترین خاندان میں شادی کی تھی اور اپنے سُسر کی موت کے بعد فوج سے چھٹی لے کر اس کی جاگیر کا انتظام خود چلانا شروع کردیا تھا۔ جن غلاموں کو آزادی ملنا تھی انھوں نے اس کے خلاف مزاحمت کی۔

دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ جو غلام فرار ہونے کی کوشش کرتے تھے یہ ان پر تشدد کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ اس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ غلام خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتا تھا۔

امریکہ میں کئی لوگ رابرٹلی کو اپنے ملک کی تاریخ میں غلامی اور مظالم کی ایک علامت قرار دیتے ہیں۔ امریکی میں کنفیڈریٹس کی نمائندگی کرنے والے کئی مجسموں کو مسخ کیا گیا ہے۔

وہ افراد جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان مجسموں کو برقرار رکھا جائے ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی تاریخ اور جنوبی علاقوں کی ثقافت کے سنگِ میل ہیں۔

ونسٹن چرچل

برطانیہ کے آنجہانی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو دوسری عالمی جنگ کی فتح کے ہیرو تسلیم کیا جاتا ہے۔ برطانیہ کی سرکاری ویب سائیٹ پر 'ایک متاثر کن سیاستدان، مصنف، مقرر اور رہنما' کے الفاظ کے ساتھ ان کا تعارف کرایا گیا ہے جنھیں سنہ 2002 کے بی بی سی کے رائے عامہ کے جائزے میں برطانیہ کی تاریخ کا سب سے مقبول شخص قرار دیا گیا تھا۔

لیکن وہ کچھ کے لیے نسل پسندی کے بارے میں اپنے خیالات کی وجہ سے ایک انتہائی متنازعہ شخصیت ہیں۔

ایک مورّخ رچرڈ ٹوئے، جو عنقریب شائع ہونے والی ایک کتاب 'دی چرچل متھ' کے شریک مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ 'اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں ہے کہ چرچل نسل پسند تھا۔ وہ سفید فسم لوگوں کو افضل مانتا تھا اور اس بات کا برملا اظہار کرتا تھا۔'

'اس نے ہندوستانیوں کے بارے میں نا پسندیدہ باتیں کہیں جو اس کے خیال میں وحشی قوم تھی جن کا وحشی مذہب تھا اور اسی طرح اس نے چینیوں کے بارے میں بھی نا پسندیدہ باتیں کہیں۔ میں بہت ساری ایسی باتیں بتا سکتا ہوں۔'

'اس بات کو تسلیم کرنا چاہئیے کہ چرچل پر وکٹورین دور کا کافی اثر تھا، لیکن میں یہ کہوں گا کہ صرف یہی ایک ان کے نسلیت پسندی کے خیالات کو تشکیل دینے والی وجہ نہیں تھی کیونکہ اس پورے دور میں ان میں کمی بیشی آتی رہی۔'

سنہ 2015 میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ونسٹن چرچل کی زندگی پر لکھی گئی کتاب 'چرچل: دی اینڈ آف گلوری' کے مصنف، جان چارملی نے کہا کہ آنجہانی وزیرِ اعظم نسلی بنیادوں پر انسانوں کو تقسیم کرنے کے تصور پر یقین رکھتے تھے جس کے مطابق سفید پروٹسٹنٹ مسیحی افضل ترین قوم ہے، سفید فام کیتھولکس سے بھی افضل، جبکہ ہندوستانیوں کو وہ افریقیوں سے بہتر سمجھتے تھے۔

سنہ 1937 میں انھوں نے فلسطینی رائیل کونسل میں کہا تھا کہ 'میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتا ہوں کہ امریکہ کے ریڈ انڈینز کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی یا آسٹریلیا کے سیاہ فاموں کے ساتھ ظلم ہوا۔ میں اس بات کو بھی تسلیم نہیں کرتا ہوں کہ ایک قوم کے ساتھ اس وجہ سے زیادتی ہوئی کیونکہ ایک برتر نسل نے، دنیاوی لحاظ سے زیادہ ذہین نسل نے ان کی زمینوں پر ان کی جگہ لے لی اور ان کی زمین پر قابض ہو گئے۔'

چرچل پر یہودی مذہب اور اسلام کے بارے میں بیانات، بنگال میں قحط کی وجہ سے بھی تنقید کی گئی ہے، اس قحط میں بیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چرچل کے پوتے، سر نکولس سوئمِس کہہ چکے ہیں کہ ان کے دادا 'ایڈورڈین دور کی پیداوار تھے اور وہ اسی دور کی زبان بولتے تھے۔'