امریکی ڈکشنری مریم وییسٹر نے ایک سیاہ فام نوجوان عورت کی درخواست پر اپنی ڈکشنری میں موجود نسل پرستی کی موجودہ تعریف کی دوبارہ تشریح کا فیصلہ کیا ہے۔

حال ہی میں ڈریک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی کینیڈی مچم نے مریم ویبسٹر کو تحریری درخواست کی تھی کہ منظم جبر کو نسل پرستی کی موجودہ تعریف میں شامل کیا جائے۔

ڈکشنری کے ایک ایڈیٹر نے اس درخواست میں اٹھائے گئے نکتے کو سمجھنےکے لیے ان سے رابطہ کیا اور نسل پرستی کی تعریف کو اپ ڈیٹ کرنے پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھیے:

اسرائیل: سیاہ فام یہودی کے قتل کے خلاف مظاہرے

سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے، انصاف کا مطالبہ

’ہر سیاہ فام انھیں وینس یا سیرینا ولیمز لگتی ہے‘

ویبسٹر ڈکشنری میں نسل پرستی کی تعریف میں تبدیلی کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منی ایپلس میں سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس اہلکار کی تحویل میں ہلاکت کے بعد پوری دنیا میں نسل پرستی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مس مچم کا ایسا لوگوں سے واسطہ پڑتا تھا جو میریم ویبسٹر ڈکشنری میں نسل پرستی کی تعریف کا حوالہ دے کر یہ دلیل دیتے تھے کہ رنگدار جلد کے مالک لوگوں کے بارے میں ان کے احساسات نسلی پرستی کے زمرے میں نہیں آتے۔

مس مچم نے محسوس کیا کہ ڈکشنری میں دی گئی نسل پرستی کی تعریف کو معاشرے میں پائی جانے والی وسیع نسلی تفریق کی عکاس ہونا چاہیے۔

مس مچم نے امریکی ٹی چینل، سی این این کو بتایا :'میں انھیں بتا رہی تھی کہ معاشرے میں رنگ و نسل کی بنیاد پر جو کچھ ہو رہا ہے، نسل پرستی کی موجودہ تعریف اس کا احاطہ نہیں کرتی۔‘

'عملی زندگی میں نسل پرستی صرف نسلی عصبیت تک محدود نہیں، یہ ایک منظم نسل پرستی ہے جس کا سیاہ فام امریکیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔'

میریم ویبسٹر کے ایڈیٹوریل مینجر پیٹر سکولوسکی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈکشنری میں نسل پرستی کی نئی تعریف میں اس درخواست میں اٹھائے گئے نکتے کی عکاسی ہو گی۔

'ہم نئے ایڈیشن میں (نسل پرستی) کی تعریف کو اور واضح کریں گے۔'

انھوں نے کہا کہ ہم ڈکشنری کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے اس پر مسلسل نظرثانی کرتے ہیں تاکہ الفاظ کے وہ معنی سامنے آئیں جیسے لوگ انھیں سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں۔