دماغ کے آپریشن کے دوران مریضوں کو وائیولن یا گٹار بجانے کے لیے تو کہا گیا ہے لیکن اب تک یہ نہیں ہوا کہ آپریشن تھیٹر میں کسی مریض کو زیتون بھرنے دیے گئے ہوں۔

لیکن ایک 60 سالہ اطالوی خاتون نے دماغ کے آپریشن کے دوران جو ان کے سر کے بائیں طرف پیدا ہونے والے ایک پھوڑے کو نکالنے کے لیے کیا گیا بالکل یہ ہی کام کیا۔

اٹلی کے ہسپتال انکونا رونیتی میں ایک نیورو سرجن نے کہا کہ ڈھائی گھنٹے طویل یہ آپریشن بغیر کسی پریشانی کے ہو گیا۔

ان کی مریضہ نے ایک گھنٹے میں 90 زیتون تیار کیے۔

یہ بھی پڑھیے

کنوارپن کی سرجری پر پابندی لگانے کا مطالبہ

نازی جرمنی: سرجری کی نایاب کتاب اور اخلاقی بحث

جاپانی سائنس دان کے لیے طب کا نوبیل انعام

ہوش میں کیے جانے والے اس آپریشن جسے 'اویک برین سرجری' یعنی جاگتے ہوئے دماغ کا آپریشن کہا جاتا ہے اور وہ ایسے مریضوں کا ہوتا ہے جن کے دماغ کے اُس حصے میں کوئی پھوڑا ہو جائے جو حصہ انسان کو دیکھنے، حرکت کرنے اور بولنے میں مدد دیتا ہے۔

آپریشن کرنے والے سرجن کو اس بات میں مدد دینے کے لیے کہ وہ سرجری کے دوران مریضہ کے صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچائیں مریضوں سے سوال پوچھے جاتے ہیں یا انھیں کوئی کام کرنے کا کہا جاتا ہے۔

نیورو سرجن روبرٹو ٹرگنانی نے اطالوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ سر میں بائیں طرف والا لوب یا حصہ بولنے، یاداشت اور جسم کے دائیں حصہ میں حرکت کی صلاحیت کا اختیار دیتا ہے اور اس طریقہ کار سے مریضوں کے آپریشن کے دوران ان کی حالت پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈاکٹر ٹرگنانی جو گیارہ رکنی میڈیکل ٹیم کا حصہ ہیں۔ انھوں نے 60 کے قریب ایسے آپریشن کیے ہیں جن میں مریض بالکل ہوش و حواس میں تھے۔ اسی ہسپتال میں ایک اور آپریشن کے دوران ایک مریض کو کارٹون دیکھنے کا کہا گیا۔

زیتون تیار کرنا ایک بہت پیچیدہ عمل ہے اور اطالوی میڈیا پر یہ بتایا گیا کہ آپریشن تھیٹر کو آپریشن کے دوران کچن کیسے بنایا گیا۔

مرکزی اٹلی کے علاقے مارشے میں ایک خاص پکوان ہے جس میں سبز زیتونوں پر قیمہ بھرا جاتا ہے جس پر آٹے، انڈے اور ڈبل روٹی کا چورا ملنے کے بعد انہیں تل لیا جاتا ہے۔.