چائے بنانے والی برطانوی کمپنیاں یارک شائر ٹی اور پی جی ٹپس نے بائیکاٹ کی دھمکیاں ملنے کے باوجود سیاہ فام افراد کے حقوق کی تحریک کی حمایت کی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب برطانیہ کے علاقے یارک شائر سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کی ایک ولاگر لورا ٹولر نے تحریک کی حمایت میں آواز نہ اٹھانے پر یارک شائر ٹی کی تعریف کی۔

اسی بارے میں

سیاہ فام امریکیوں سے اظہار یکجہتی، پاکستان اور انڈیا میں ’منافقانہ رویوں‘ پر بحث

ٹرمپ کی مخالفت: واشنگٹن کے میئر نے وائٹ ہاؤس جانے والی سڑک کا نام تبدیل کر دیا

جس کے بعد یارک شائر ٹی کمپنی نے ٹوئٹر پر کہا کہ اس نے سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے چلائے جانے والی تحریک پر اب تک اس لیے کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ اس تحریک کو پوری طرح جاننا اور سمجھنا چاہ رہی تھی۔

کمپنی نے ٹویٹ کی کہ'پلیز ہماری چائے دوبارہ مت خریدیں۔‘

گذشتہ مہینے امریکہ میں ایک سیاہ فام نہتے شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امریکہ کے کئی شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے جس کے بعد برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی نسل پرستی کے خلاف تحریک شروع ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں مختلف برانڈ بنانے والی کئی کمپنیاں اس تحریک کی حمایت کر رہی ہیں۔

یارک شائر ٹیٹلر خاندان کی ملکیت ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ نسل پرستی کے خلاف ہے۔

سیاہ فاموں کے حقوق کی تحریک کی حمایت کرنے پر دائیں بازو کے کئی تبصرہ نگاروں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ کمپنی کا بائیکاٹ کریں لیکن کمپنی نے کہا ہے کہ اگر کسی کو ان کے موقف پر اعتراض ہے تو وہ اس کی چائے نہ خریدے۔

یارک شائر ٹی پر دائیں بازو کے حامیوں کی تنقید کے بعد اس کی حریف کمپنی پی جی ٹپس نے بھی یارک شائر ٹی کی حمایت کی ہے۔

'اگر آپ ان چائے بنانے والوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جو نسل پرستی کے خلاف کھڑے ہیں تو اب آپ کو دو ایسے نئے برانڈ مل جائیں گے۔'

چائے بنانے والی ان کمپنیوں کو زبردست حمایت مل رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ ان کمپنیوں کی وجہ سے انھیں برطانوی ہونے پر فخر محسوس ہوا ہے۔

ٹوئننگز اور ٹیٹلی جیسی چائے بنانے والی دیگر کمپنیوں پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بی ایل ایم کی حمایت کریں۔

تاہم کچھ لوگوں نے یارک شائر ٹی پر 'ضرورت سے زیادہ اچھا' بننے کا الزام لگایا ہے کیونکہ چائے کی صنعت تاریخی طور پر غلامی اور آبادیاتی نظام سے منسلک رہی ہے جبکہ کچھ لوگوں نے ان کمپنیوں پر فسادات کی حمایت کا الزام بھی لگایا ہے۔

یارک شائر ٹی نے اپنے ناقدین سے کہا ہے کہ وہ نرم دلی کا مظاہرہ کریں۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اس کا کاروباری چہرے کے علاوہ ایک انسانی چہرہ بھی ہے۔

سیاہ فاموں کی تحریک بی ایل ایم کی حمایت میں دوسری کمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں جن میں نائک، نیٹ فلکس اور مائیکرو سافٹ شامل ہیں۔

پیر کو ایمازون کمپنی کے سربراہ جیف بیزوس اور ایک صارف کے درمیان ای میلز کا تبادلہ ہوا جس میں صارف نے تحریک کی حمایت کرنے پر ایمازون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نسل پرست زبان استعمال کی۔

جیف بیزوس نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کی نفرت کو کسی لبادے میں چھپنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ 'آپ جیسے صارف کو میں بخوشی کھو سکتا ہوں۔'