تھائی لینڈ کی عدالت نے ایک ریستوران کے مالکان کو جعلسازی کے جرم میں 1446 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

گذشتہ سال لائمگیٹ نامی سی فوڈ (سمندری خوراک) کے ریستوران نے ایک آن لائن سکیم شروع کی تھی جس کے تحت صارفین ایڈوانس رقم ادا کر کے کھانے کی اشیا پر رعایت حاصل کر سکیں گے۔

ٹی وی چینل تھائی پی بی ایس کے مطابق اس سکیم سے 20 ہزار افراد نے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور 16 لاکھ ڈالر کے واؤچر یا رسیدیں خرید لیں۔

بعد میں کمپنی نے کہا کہ وہ اس طلب کو پورا نہیں کر سکیں گے اور ریستوران بند کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

تحقیق: صرف سبزی کھانے سے فالج کے امکانات بڑھ سکتے ہیں

جال میں پھنسنے کے باعث 31 فٹ لمبی وہیل ہلاک

وہ مچھلی جس نے پاکستانی ماہی گیروں کو لکھ پتی بنا دیا

دنیا کی سب سے ’قیمتی‘ مرچ کی کہانی

سینکڑوں افراد کی شکایات کے بعد ریستوران کے مالک ایپی چارٹ اور پراپاسورن کو گرفتار کیا گیا۔

تھائی لینڈ میں جعلسازی کے جرم میں اتنی طویل مدت کی سزا غیر معمولی ہے۔ لیکن یہ اس لیے ہوا کیونکہ بہت سارے لوگوں نے ریستوران کے مالکان کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔

تھائی لینڈ کے قوانین کے مطابق جعلسازی کے جرم میں حد 20 سال کی قید ہوسکتی ہے۔

ایسی تشہیری مہم جو کھٹائی میں پڑ گئی

لائمگیٹ سی فوڈ ریستوران نے گذشتہ سال ایسے کئی واؤچر بیچنا شروع کیے تھے جن میں صارفین کو رعایت حاصل کرنے کے لیے پیسے پہلے دینے پڑتے تھے۔

ایسی ہی ایک آفر کے مطابق 10 لوگ 28 ڈالر میں کھل کر سمندری خوراک کھا سکتے تھے۔ یہ عام قیمتوں سے کئی گنا کم ہے۔

ابتدا میں واؤچر خریدنے والے صارفین ریستوران سے اپنا کھانا وصول کرنے میں کامیاب رہے۔ تھائی پی بی ایس کے مطابق انتظار کرنے والے لوگوں کی فہرست بڑھتی گئی اور اس کا مطلب تھا کہ اس آفر سے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو کئی ماہ قبل بکنگ کرا کر ایڈوانس رقم ادا کرنی پڑے گی۔

لیکن مارچ میں لائمگیٹ انفائنیٹ نامی کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ کاروبار بند کر رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب وہ موجودہ طلب کے پیش نظر اتنی سمندری خوراک کا انتظام نہیں کر پا رہے۔

تھائی پی بی ایس کے مطابق ریستوران نے صارفین کو ان کے پیسے واپس کرنے کی پیشکش بھی کی۔ 818 شکایت کننده میں سے 375 کو ان کے پیسے واپس کر دیے گئے۔

پھر سینکڑوں صارفین نے کمپنی اور اس کے مالکان پر جعلسازی کے الزام میں شکایت درج کروائی۔

ریستوران کے مالکان کو جھوٹ پر مبنی پیغام کی تشہیر اور دھوکہ دہی جیسے جرائم کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

بدھ کو عدالت نے دونوں کو مجموعی طور پر 1446 سال قید کی سزا سنائی۔

انھوں نے اپنا جرم تسلیم کیا جس پر دونوں کی سزاؤں میں سے 723 سال معاف کر دیے گئے۔ درحقیقت وہ زیادہ سے زیادہ 20 سال قید میں گزاریں گے۔

کمپنی پر 18 لاکھ بھات (تھائی کرنسی) کا جرمانہ عائد کیا گیا اور مالکان کو حکم دیا گیا کہ کمپنی متاثرین میں ہرجانے کے طور پر 25 لاکھ بھات تقسیم کرے۔

سنہ 2017 میں تھائی لینڈ کی عدالت نے ایک جعلساز کو 13 ہزار سے زیادہ برس تک قید کی سزا سنائی تھی۔