برطانیہ نے 10 جون کی نصف شب توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا۔ پورے ملک میں گذشتہ دو ماہ کے دوران بجلی کے حصول کے لیے کوئلہ بالکل استعمال نہیں ہوا۔

ایک دہائی قبل ملکی ضرورت کی 40 فیصد بجلی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں فراہم کی جاتی تھی۔

جب کورونا وائرس کی وبا روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا تو بجلی کی طلب میں زبردست کمی واقع ہوئی اور نیشنل گرِڈ نے بجلی پیدا کرنے والے کئی پلانٹ بند کر دیے۔

سب سے پہلے بند ہونے والے بجلی گھروں میں ملک کے چار آخری کوئلہ بجلی گھر بھی شامل تھے۔

ظاہر ہے کہ کورونا وائرس کے بحران نے کم سے کم اس وقت تو ہمارے توانائی کے استعمال کو تبدیل کر دیا ہے۔

لیکن کیا یہ عالمی وبا توانائی کے حصول کے سب سے زیادہ آلودگی آمیز ایندھن یعنی کوئلے پر ہمارے انحصار کو بالکل ختم کر دے گی؟

کووِڈ-19 کا بحران غیر معمولی اور ہولناک رہا ہے، مگر یہ ماحول سے متعلق موضوعات کے لیے خاصا دلچسپ ہے۔

صاف ہوا اور شفاف آسمان دیکھ کر سب کو خوشی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ ہم توانائی کے استعمال کے ایک انوکھے تجربے سے گزر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے گھروں کے اندر مقید ہونے سے توانائی، خاص طور سے بجلی، کے استعمال میں اتنی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

توانائی کے استعمال میں اتنی بڑی کمی نے اس صنعت کے ایک اہم معاشی پہلو کو ہم پر آشکار کر دیا، اور وہ ہے کوئلے کی مانگ میں کمی۔ حالانکہ جدید دنیا کی تخلیق میں کوئلے کا کلیدی کردار رہا ہے۔

بعض صنعتی مبصرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران سے پہنچنے والے دھچکے کے بعد کوئلہ شاید پھر اپنی ساکھ بحال نہ کر سکے۔

برطانیہ میں 200 برس پہلے آنے والے صنعتی انقلاب سے اب تک 60 روز سب سے طویل عرصہ ہے جس کے دوران کوئلے سے بجلی حاصل نہیں کی گئی۔

جب میں نے نیشنل گرِڈ سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ مستقبل قریب میں کوئلہ بجلی گھر پھر سے چلانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

امریکہ میں اس برس پہلی بار کوئلے کے مقابلے میں قابلِ تجدید ذرائع سے سب سے زیادہ بجلی حاصل کی گئی، حالانکہ کوئلے کی صنعت کو صدر ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

اس کے برعکس صرف ایک دہائی پہلے امریکہ میں بجلی کی تقریباً آدھی مانگ کوئلے سے پوری کی جاتی تھی۔

حتٰی کہ انڈیا میں بھی، جو زیادہ کوئلے کا استعمال کرنے والوں کی صف میں تیزی سے شامل ہو رہا ہے، کوئلے کی مانگ میں زبردست کمی آئی اور ملک کے اندر کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج میں پچھلے 37 برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔

بجلی کے استعمال میں کمی کا بنیادی سبب لاک ڈاؤن ہے۔ مگر توانائی پر نظر رکھنے والے ماہرین معاشیات کے لیے یہ بات زیادہ دلچسپی کا باعث ہے کہ بجلی کے استعمال میں کمی کا زیادہ اثر کوئلے کی مانگ پر پڑا ہے۔

اور ایسا دنیا بھر میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔

توانائی کے بین الاقوامی ادارے، آئی ای اے، کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کوئلے کے استعمال میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے۔

آئی ای اے کے سربراہ، فتح بیرول کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں صرف قابل تجدید توانائی کی مانگ اپنی جگہ پر برقرار رہی۔

کوئلے کے استعمال میں کمی کا رجحان کورونا وائرس کی عالمی وبا سے پہلے بھی موجود تھا۔ گذشتہ برس ہی دنیا بھر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ کمی آئی تھی۔

اس میں بنیادی کردار مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کی لاگت کا ہے۔

ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر ہوا، بارش اور شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے والے بجلی گھر سے مہنگے ہیں۔

سادہ سی بات ہے: کوئلہ بار بار خریدنا پڑتا ہے۔ جبکہ وِنڈ ٹربائن، سولر پینل اور پن بجلی کے پلانٹ لگانے پر تو لاگت آتی ہے مگر بجلی تقریباً مفت میں حاصل ہوتی ہے۔

قابل تجدید توانائی سے بجلی بنانے والے پلانٹ کی تنصیب اب کوئلے کے نئے پلانٹ لگانے کے مقابلے میں کہیں سستی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ان میں زیادہ سرمایہ کاری ہونے لگی ہے۔ اور یہ پلانٹ ہر سال مزید سستے ہو رہے ہیں۔

توانائی کے تجزیہ کار سُنیل داہیا کہتے ہیں کہ اس ماہ انڈین حکومت چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کا ٹینڈر دیا ہے، اور بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں سمیت شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کی لاگت کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ سے کہیں کم تھی۔

اگر اس رجحان کو دنیا بھر میں اپنا لیا گیا تو کوئلے کے استعمال بالکل ختم ہو جائے گا۔'

اگر بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے تو قابل تجدید ذرائع سب سے سستا حل پیش کرتے ہیں۔

اور اگر عالمی وبا یا کسی دن ہوا کے زیادہ جھکڑ چلنے کے سبب بجلی کی مانگ میں اچانک کمی واقع ہوتی ہے تو جو پاور پلانٹ سب سے پہلے بند ہوں گے وہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر ہیں۔

ویسے بھی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی عمر 30 سے 40 برس ہوتی ہے۔ تو کیا کوئی سرمایہ کار ایسے پلانٹ میں پیسہ لگانا چاہے گا جس کی عمر سال بسال گھٹتی رہی اور جس کے چلنے کا انحصار موسم کے مزاج پر ہو۔

اسے صاف توانائی کے حامیوں کی مسلسل تنقید کا بھی سامنا رہے جس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

آخر کو، کوئلہ سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج کرتا ہے اور فضا کو زہریلے مادوں اور سرطان انگیز ذرات سے بھی بھرتا ہے۔ ابھی تو اس کے مضر صحت اثرات کو تو کھاتے میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔

کئی ممالک قابل تجدید ذرائع سے پیدا کردہ بجلی کو گِرڈ میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کرتے ہیں۔

داہیا کے مطابق وائرس نے ظاہر کر دیا ہے کہ انڈیا میں کوئلے کی صنعت دیوالیے کا شکار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ہمارے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پیداواری گنجائش کے 60 فیصد سے بھی کم پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنا قرضہ لوٹانے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔'

اس لیے یہ تعجب خیز ہیں کہ بین الاقوامی سرمایہ کار اس شعبے کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔

بلیک راک، سینڈرڈ چارٹرڈ، جی پی مورگن چیس، بی این پی جیسے عالمی مالیاتی اداروں نے کوئلے میں سرمایہ کاری پر پہلے ہی پابندی لگا رکھی ہے۔

فتح بیرول کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئلے کا مستقبل اب حکومتوں کو طے کرنا ہے۔

وہ حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ قابل تجدید توانائی کی حمایت کریں اور کوئلے میں سرمایا کاری کی حوصلہ شکنی کریں۔

مگر صورتحال اتنی خوش کن نہیں ہے۔

چین کے تازہ ترین پنج سالہ منصوبے میں کوئلے کا بڑا حصہ ہے اور کوئلے کے شعبے میں 20 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔

پھر وہ اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت کئی ترقی پذیر ملکوں میں کوئلہ بجلی گھر لگانے کے لیے مالی امداد بھی دے رہا ہے۔

انڈین حکومت کئی ارب ڈالر کے کوروناوائرس پیکج کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے جس میں کوئلے کے شعبے کے بعض حصوں کے لیے امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔

اس نے ہمیں گومگو کی عجیب کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کوئلے کی عالمی کھپت سنہ 2019 میں عروج پر پہنچ چکی ہو گی مگر یہ ایندھن 2030 کے عشرے تک استعمال میں رہ سکتا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں تشویش میں مبتلا لوگوں کے لیے یہ پریشان کن صورتحال ہے۔