چین کے سرکاری میڈیا نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ انڈیا اور چین کی سرحد پر جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی دونوں ممالک خود صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے لیے امریکہ کی ثالثی کی ضرورت نہیں۔ اس درمیان چین کے شمال مغرب کے دور دراز علاقوں میں چینی فوجیوں کی جنگی مشقوں کی خبریں میڈیا میں لگاتار شائع ہو رہی ہیں۔

'سرحد پر حالات قابو میں'

تازہ کشیدگی کے پہلے ہفتے چین کے وزارت خارجہ نے بار بار یہ بات دہرائی کہ سرحد پر حالات 'مستحکم اور کنٹرول' میں ہیں۔

ساتھ ہی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک بغیر امریکی ثالثی کے اپنے مسائل خود حل کر سکتے ہیں۔

مغربی ہمالیہ کی وادی گالوان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ بنی ہوئے ہے۔ اس علاقے میں مئی کے آغاز میں چین اور انڈین فوجیوں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہوئی تھیں۔

انڈیا، چین فوجی ٹکراؤ کتنا سنگین؟

انڈیا چین تنازع، اقوام عالم کی دلچسپی

انڈیا،چین تنازع: کب کیا ہوا؟

انڈیا چین کشیدگی میں کون ہارا اور کون جیتا؟

انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھی؟

چین کی وزارت خارجہ کا بیان انہی جھڑپوں کے بعد آیا تھا۔ دونوں ہی ممالک ایک دوسرے پر ان کی زمین پر قبضے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان ژاوٴ لیجیان نے تین جون کو کہا تھا 'مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت دونوں ممالک کے پاس ہے۔ کسی تیسرے فریق کی دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔'

دراصل ژاوٴ لیجیان نے یہ بیان ایسے وقت دیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیر اعظم مودی کو چین کے ساتھ مسائل حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

ٹرمپ نے اس سے قبل بھی 27 مئی کو ٹوئٹر پر انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کو حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا؟

حالیہ دنوں میں چین کے سرکاری میڈیا میں سرحد پر کشیدگی سے متعلق خبروں کو زیادہ توجہ ملی۔

حالانکہ چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' میں کئی بار انڈیا پر الزام عائد کیا گیا کہ 'وہ متنازع علاقے میں بنیادی ڈھانچے کو بڑھا رہا ہے۔'

گلوبل ٹائمز نے کئی ماہرین کا موقف بھی شائع کیا ہے جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ انڈیا اور چین کی حکومتوں نے کس طرح سرحد پر کشیدگی اور دخل اندازی کی امریکی کوشش کو اہمیت دینے سے خود کو دور رکھا ہے۔

گلوبل ٹائمز میں پانچ جون کو اداریے میں لکھا گیا کہ 'انڈیا کو دشمن بنانے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔ لیکن چین اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑے گا۔ انڈیا اگر حکمت عملی میں کوئی غلطی کرتا ہے اور چین کی زمین چھیننے کی کوشش کرتا ہے تو چین اسے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ چین سخت جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔ چین نے انڈیا کی جانب دوستانہ انداز واضح کر دیا ہے۔ انڈیا کو امریکہ کے ہاتھوں بے وقوف بننے کے بجائے چین کے لیے گرم جوشی کا اظہار کرنا چاہیے۔'

انڈین میڈیا میں رد عمل

چھ جون کو چین کے سرکاری ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی کے ملٹری چینل نے پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) سے متعلق ایک ویڈیو نشر کی تھی۔

اس ویڈیو میں پی ایل اے کے ہزاروں فوجیوں کو مسلح گاڑیوں میں ہوبیئی صوبے سے مغربی چین کے دور دراز علاقوں کی جانب کوچ کرتے دکھایا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو 15 مئی کے آس پاس کا ہے اور یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ فوجی کس مقام کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

اس کے بعد نو جون کو پی ایل اے ڈیلی اخبار نے بتایا کہ ایک پی ایل اے پیرا ٹروپر بریگیڈ نے ایک جون کو شمال مغربی چین میں ایک نامعلوم ریگستانی مقام پر دشمن کے ٹھکانوں پر چھاپا مارا۔ ساتھ ہی جنگی مشقوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔

پی ایل اے ڈیلی نے یہ بھی لکھا کہ ایک مسلح پیدل فوجی بٹالین نے بکتربند گاڑیوں، توپ خانوں، انجینیرنگ فوجیوں اور سکاوٴٹس سمیت کئی دستوں کو ایک ساتھ بٹھایا۔

حالانکہ پی ایل اے ڈیلی نے یہ واضح نہیں کیا کہ تازہ رپورٹ میں جس فضائی بریگیڈ کا ذکر ہے، وہ وہی ہے جس کے بارے میں سی سی ٹی وی کی رپورٹ میں دکھایا گیا ہے۔

پی ایل اے کی ایک دوسری بریگیڈ نے بھی مئی میں چین کے شمال مغرب میں واقع صوبے گوانگڈونگ میں ایک نامعلوم علاقے میں طویل جنگی مشقیں کی تھیں۔

9 جون کو پی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران فوجیوں نے توپ خانے کی براہ راست فائر شوٹنگ کا ٹیسٹ کیا تھا۔

اس سے قبل 2 جون کو، سی سی ٹی وی کے ملٹری چینل نے بتایا کہ ایک پی ایل اے سکاوٴٹ یونٹ نے حال ہی میں تبت میں واقع تانگگولا پہاڑی کے قریب 15 ہزار فیٹ کی اونچائی پر، نائٹ وژن کا استعمال کرتے ہوئے رات میں ایک فوجی مشق کی تھی۔

انڈیا کو تنبیہ

2017 میں متنازع ڈوکلام علاقے پر انڈیا کے ساتھ اسی طرح کے سرحدی کشیدگی کے دوران، چین کے سرکاری میڈیا نے پی ایل اے کی ایک فوٹیج دکھائی تھی جس میں فوجیوں کو تبت کے میدان مُرتفع پر ایک 'پی ایل سی زیرو تھری ہووتزر' کا ٹیسٹ کرتے دکھایا گیا تھا۔

ہانگ کانگ کے ایک آزاد اخبار ساوٴتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے چار جون کو اپنی ایک رپورٹ میں اس بارے میں لکھا ہے۔

بیجنگ میں مقیم فوجی امور کے ماہر ژووٴ چینمنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ 2017 میں ویڈیو فوٹیج اور اس ہفتے انڈین فوج کو متنبہ کرنے کے لیے پی ایل سی کی جانب سے کی جانے والی مشقوں کا یقینی طور پر یہ مطلب نہیں نکالا جا سکتا کہ ان کا مقصد انڈین فوج کے ساتھ جنگ چھیڑنا تھا۔