گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر کی سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین غم و غصے کا اظہار کرتے اور نسلی امتیاز کے خلاف نکلتے نظر آ رہے ہیں۔

بدھ کو بھی پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے امریکی سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی آخری رسومات کے موقع پر ملک میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے مطالبے کیے گئے ہیں۔

جبکہ ان کے بھائی فلینائس فلائیڈ نے امریکی کانگرس سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کے جبر و تشدد کے خلاف اصلاحاتی قوانین پاس کر کے ان کے دکھ کا مداوا کریں۔

امریکہ کے مختلف شہروں تک پھیل جانے والے ان مظاہروں میں جہاں مختلف شعبہ زندگی اور سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں وہیں جنوبی ایشیائی نژاد افراد کی بھی بڑی تعداد ان میں شامل ہے۔

سماجی اور انسانی حقوق کے حامی گروپ ساؤتھ ایشین امیریکنز لیڈنگ ٹوگیدر (سالٹ) نے اپنے نیوز لیٹر میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی نژاد ہونے کے ناطے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نظام میں اور سماجی سطح پر سیاہ فاموں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور لڑیں۔

بی بی سی کے ونیت کھرے نے امریکہ میں مقیم چند جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کی جنھیں ان مظاہروں نے متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے، انصاف کا مطالبہ

منی ایپلس کی کونسل کا پولیس کا محکمہ ختم کرنے کا عہد

وکیل: جارج فلائیڈ کو ’سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا‘

راہل دوبے

راہل دوبے ہیلتھ کیئر انوویشن کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ مظاہروں کے دوران جب ایک روز پولیس نے ایک سڑک کو دونوں جانب سے بند کر دیا تو انھوں نے تقریباً 70 افراد کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔

اُس وقت اُن کے گھر کے باہر پولیس اور مظاہرین موجود تھے اور مظاہرین نعرے لگا رہے تھے۔ انھوں نے کہا: 'باہر لوگوں کا سونامی موجود تھا۔ پولیس لوگوں کو پیٹ رہی تھی۔ میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ میں نے چِلانا شروع کر دیا کہ گھر میں چلو جلدی۔ میں قریب دس منٹ تک یہ کہتا رہا اور سو کے قریب افراد میرے گھر کے اندر آ گئے۔ ان لوگوں کی آنکھوں میں جلن ہو رہی تھی۔ وہ اپنی آنکھوں پر پانی ڈال رہے تھے اور جذباتی کیفیت میں تھے۔ پولیس ہم پر ہنس رہی تھی اور گھر کے اندر پیپر سپرے کی بوچھار کر رہی تھی۔'

میرا گھر 1500 مربع فٹ کا ہے، ایک چھوٹا سا صحن ہے۔ قریب بیس افراد وہاں تھے اور تیس افراد بیرونی والے کمرے میں تھے۔ ہم سب کو بھوک لگی تھی تو ہم نے قریب گیارہ بجے پیزا آرڈر کر دیا۔ لیکن پولیس نے راستہ بند کر رکھا تھا۔ وہ لوگ صبح چھ یا سات بجے تک میرے گھر پر ہی رہے۔'

انھوں نے بتایا کہ 'چھہ گھنٹے بعد مجھے کورونا وائرس کے خطرے کا احساس ہوا۔ آج سے میں خود کو قرنطینہ کر رہا ہوں۔'

راہل دوبے کا کہنا تھا کہ 'ہم نے رات بھر بات کی۔ ان میں سے چند لوگ سوشل میڈیا پر لائو سٹریمنگ کر رہے تھے۔ ہم نے اس خوف کے بارے میں بات کی جس سے ہم گزر رہے تھے، اور یہ بھی کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، سکیورٹی اہلکار کیا کریں گے، اس گفتگو میں سیاہ فام، سفید فام ہسپانوی اور انڈین سبھی طرح کے لوگ شامل تھے۔'

رضا رومی

اِتھیکا کالج میں سینٹر فار انڈیپینڈنٹ میڈیا کے ڈائریکٹر رضا رومی نے بھی احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔

انھوں نے کہا: 'ہم جن علاقوں سے آتے ہیں وہاں پولیس کا تشدد عام بات ہے۔ یہ مسئلہ عالمی سطح پر موجود ہے۔ کتنی ساری فلمیں، ناٹک اور کہانیاں انڈیا میں پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے بارے میں لکھی جا چکی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اس برس امریکہ میں ہونے والے عام انتخابات میں بڑا موضوع ہو گا۔ امریکہ میں بہت بڑی تعداد رنگ والے لوگوں کی ہے۔ پچھلی مرتبہ ان کے ووٹ ہلیری اور برنی سینڈرز کے درمیان بٹ گئے تھے۔

'اگر کوئی سیاہ فام شخص کسی جرم میں جیل جاتا ہے تو اس کے لیے مستقبل کے تمام مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد سے مسلمانوں پر بھی بہت سختی کی گئی۔ میں نے ان کی کہانیاں پڑھی ہیں، ان کے بارے میں سنا ہے، باتیں کی ہیں۔ ان کے ساتھ بھی پولیس نے تشدد کیا۔ یہ سب کچھ وقت کے ساتھ بدلنا ہو گا۔ لیکن کچھ بھی راتوں رات نہیں ہو گا۔ ان مظاہروں نے امریکیوں کو یاد دلایا ہے کہ انھیں ان آوازوں کو سننا پڑے گا۔ یہ سب کچھ ایسے ہی جاری رہ سکتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'میں بھی اس کی زد میں آ سکتا ہوں، میرا رنگ بھورا ہے، میں مسلمان ہوں۔ میرا تعلق ایک مسلم ملک پاکستان سے ہے۔ مجھ پر مختلف وجوہات سے شک کیا جا سکتا ہے۔ جب تک پولیس اور انصاف کا نظام غیر جانبدار نہیں ہو گا، میں کس کس چیز کا مقابلہ کروں گا؟ ہم سب کمزور ہیں۔ جنوبی ایشائی افراد اس لیے باہر نکل کر حصہ لے رہے ہیں کیوں کہ وہ آبادی میں ہسپانوی اور افریقی امریکی افراد سے کم ہیں۔ یہ اظہار یکجہتی کا معاملہ ہے۔ یہاں امریکہ میں جنوبی ایشیائی افراد ایک ہو کر رہتے ہیں بھلے ہی اپنے ہاں ان کے آپس میں مسائل ہوں۔

مناہل مہدی، احتجاج میں شامل طالبہ

میں ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں، جہاں میں انڈرگریجوئیٹ کا کورس کر رہی ہوں۔ میں پاکستان میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی، مجھے وہاں بھی سماجی تحریکوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔

’جارج فلائیڈ کے کیس کے بعد جب احتجاج شروع ہوا تو ہمیں لگا کہ ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے ہمیں یکجہتی دکھانی چاہیے۔ ہم ان لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں جن پر کئی صدیوں سے ظلم کیا جاتا رہا ہے۔ ہم پاکستان میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں، چاہے وہ پناہ گزین ہوں، خواتین ہوں یا پھر ہمارے پشتون بھائی۔ اس احتجاج میں حصہ لینا اور ان کے شانہ بشانہ چلنا ہماری بھی ذمہ داری ہے۔ یہ ایک قدرتی احساس ہے اور ہمیں اس بارے میں دو بارہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑی۔‘

کووڈ 19 کی وجہ سے مظاہرے میں حصہ لینے والوں میں سب نے ماسک پہن رکھا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو سینیاٹائزر بانٹ رہے تھے اور فاصلہ بھی برقرار رکھا ہوا تھا۔ وہاں چار سے پانچ سو لوگ تھے اور سب بہت اچھے سلوک کے ساتھ پیش آرہے تھے۔

ہم نے بہت سے لوگوں کی کہانیاں اور شہادتیں سنیں۔ ہم نے امریکہ میں سیاہ فام ہونے کے نتائج پر لوگوں کا آنکھوں دیکھا حال سنا۔ انھوں نے ہمیں بتایا کے اگر وہ بازار چیزیں لینے جاتے ہیں تو کیسے انھیں خوف محسوس ہوتا ہے۔ میں نے یہاں لوگوں میں یکجتی دیکھی اور یہ ایک بہت زبردست تجربہ رہا۔

مناہل نے بتایا کہ ’انگریزوں کے جانے کے بعد جنوبی ایشیا میں بھی تعصب دیکھا گیا ہے۔ ہم بھی رنگ کے حوالے سے احساسِ کمتری کا شکار ہیں، پھر چاہے وہ نوکریاں ہوں یا شادی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے لیے، ہمارے اپنے رویے کا مشاہدہ کرنے کا بھی موقع ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم اپنے ملک واپس جا کر وہاں کے کمزور لوگوں کے لیے آواز اٹھائيں گے یا نہیں۔ اگر آپ انڈیا میں ہیں تو کیا آپ دلتوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور اگر آپ پاکستان میں ہیں تو کیا آپ بلوچوں کے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا جو ظلم کا شکار ہیں۔‘

شانتی سنگھ، کرایہ داروں کی یونین میں کام کرنے والے، مظاہرے میں شامل

امریکہ میں جنوبی ایشیائی برادری کے رہن سہن کو اکثر مثالی اقلیتی برادری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو کہ ایک فسانہ ہے کیونکہ انھیں اکثر دوسرے رنگ و نسل کے لوگ بلخصوص سیاہ فام اور لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ہمیں سفید فام لوگ غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہو رہی ہے، آپ انڈین لوگوں کو دیکھیں، وہ بھی تو رہ رہے ہیں، وہ سب ٹھیک ہیں۔

لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم سب ٹھیک نہیں ہیں۔

ایک جھوٹ ہے اور ہماری نسل کے ایشیائی امریکی لوگوں کو اس چیز کا اب احساس ہورہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم پر سفید فام لوگوں کے تعصب کا اثر نہیں پڑتا، شاید ہم پر اتنا اثر نہیں پڑتا ہو جتنا کہ دوسروں پر پڑتا ہے لیکن اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

میں ایسے بہت سے مظاہروں میں شامل رہا ہوں لیکن بدلا کچھ بھی نہیں، اسی لیے اس بار ہمیں زیادہ غصہ نظر آرہا ہے۔

علی الٰہی، طالبِ علم، احتجاج میں شامل

میں نے جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کی ویڈیو دیکھی اور اس میں جس طرح سے اس پر تشدد کیا گیا ہے اسے دیکھ کر میرا دل ٹوٹ سا گیا۔

میں ایک ایسے علاقے سے آتا ہوں جہاں پولیس کے مظالم ہم سنتے رہتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی پولیس دن دہاڑے اس طرح کا سلوک نہیں کرتی۔ ایک انسان زمین پر ہے اور مدد کے لیے گڑگڑا رہا ہے۔ یہ بہت ہی ہلا دینے والا منظر تھا۔ ہم نے اس احتجاج میں اس لیے حصہ لیا کیونکہ ہم اقلیتی برادری کے ساتھ یکجہتی دکھانا چاہتے تھے، خاص طور پر سیاہ فام برادری کے ساتھ۔ جن کو صدیوں سے ناانصافی کا سامنا رہا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے باوجود بہت سے لوگ ان مظاہروں میں شریک ہوئے۔ مقامی علاقے سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام نوجوانوں نے بھی اس میں حصہ لیا اور اپنے تجربات بیان کیے، جبکہ سفید فام لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ خاموش اکثریت جیسا رویہ نہیں برتیں گے۔

جیسا کہ اردو یا ہندی میں کہا جاتا ہے: جو خاموش ہے، وہ بھی مجرم ہے۔

پاکستان میں اگر اس طرح کی ویڈیو منظر عام پر آتی ہے تو فوراً سخت ایکشن لیا جاتا ہے، لوگوں کی نوکریاں چلی جاتی ہیں۔ اکثر خود وزیر اعظم تک بات پہنچ جاتی ہے۔ یہاں چیزیں بہت سست ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ صرف عوام کے آواز اٹھانے کی وجہ سے اس معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ جب کسی اقلیتی برادری کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے تو آپ کو ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ چاہے پھر آپ پاکستانی ہوں، انڈین ہوں، بنگلہ دیشی ہوں یا سری لنکن، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اگر وہ آج ان لوگوں کے خلاف ایسا کررہے ہیں تو کل آپ کا نمبر بھی آئے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسے جڑ سے نکال کر پھینکا جائے، ایک ساتھ آواز بلند کی جائے۔ یہ احتجاج بہت ہی پرسکون تھا اور دوسرے مظاہروں کی طرح پرتشدد نہیں تھا۔

لیکن اس طرح کی صورتحال میں اکثر وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو کہ اس ساری افراتفری سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس احتجاج میں سولہ برس کی ایک سیاہ فام امریکی لڑکی نے زبردست تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ کیسے جب وہ ہر بار گھر سے نکلتی ہیں تو انھیں ڈر لگتا ہے اور جب بھی کوئی سیاہ فام مرد یا عورت دکان میں جاتے ہیں تو وہ اپنے ہاتھ دکھاتے ہیں تاکہ یہ دکھا سکیں کہ انھوں نے کوئی ہتھیار نہیں اٹھا ر کھے ہیں۔ اور جب وہ باہر جاتے ہیں تو بھی ہاتھ اٹھا کر یہ دکھایا جاتا ہے کہ انھوں نے کوئی چیز چرائی نہیں، یہ حالات اس ملک میں ہیں جو کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ طاقت ور تصور کیا جاتا ہے۔

وقاس احمد، دکاندار، ان کی دکان پر حملہ ہوا

میرا، امریکی ریاست میری لینڈ میں موبائل فون کا کام ہے۔ ہم بوسٹ موبائل اور ٹی موبائل کے ساتھ کام کرتے ہیں اور میری 20 دکانیں ہیں۔

لوگوں کا ایک مجمع ان کی بوسٹ موبائل کی دکان کے باہر رات تقریبا سوا بجے جمع ہو گیا۔

ان لوگوں نے ان کی دکان کے شیشے پتھر مار کر توڑ دیے اور سات سے آٹھ لوگ ایک گاڑی سے باہر آئے۔ وہ لوگ دکان کے اندر گئے اور یہ سب تیس سیکینڈ کے اندر ہوا۔ انھوں نے ایک آئی فون اٹھایا جس کی قیمت پانچ یا چھ ہزار ڈالر سے زیادہ تھی۔ انھوں نے پوری دکان میں توڑ پھوڑ کی۔ ہم مرمت کا کام کروا رہے ہیں کیونکہ دکان تو کھولنی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ دوبارہ بھی ایسا ہو! ہمیں بہت زیادہ خطرہ ہے اور ہم ڈرے ہوئے ہیں۔

میرے کچھ دوستوں کے بھی چھوٹے بڑے کاروبار پر فرق پڑا ہے، وہ لوگ بھی خوف زدہ ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی کاروبار پر اثر پڑا تھا۔ ابھی اس کی بحالی میں وقت لگے گا۔

یہ پہلے ہونے والے مظاہروں سے مختلف ہے۔ جارج فلائیڈ کے واقعے میں جو بھی ہوا وہ غلط تھا۔ ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے اور لوگ اسے انسانیت کے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ کاروبار الگ چیز ہے اور انسانیت الگ چیز ہے، جو بھی ہوا وہ بہت برا ہوا۔

یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اس سب کے بیچ میں کاروبار پر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ بہت سے پر امن مظاہرے ہورہے ہیں لیکن کچھ لوگ ان کا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔