نائجیریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے ایک سال کے عرصے میں ایک قصبے میں 40 افراد کو ریپ کیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق شمالی قصبہ ڈنگورہ میں ایک ماں نے اس شخص کو اپنے بچوں کے کمرے میں پکڑا۔ جس کے بعد یہ شخص وہاں سے بھاگ نکلا تاہم ہمسایوں نے اس کا پیچھا کر کے اسے پکڑ لیا۔

اس شخص کو منگل کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریپ کی ان وارداتوں میں 80 سالہ خاتون پر حملہ اور 10 سال تک کی عمر کے بچوں کے ریپ شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو کیسے پہچانیں؟

ریپ ویڈیوز کے وائرل ہونے کا خطرناک رجحان

جی ایچ بی ڈرگ ریپ کرنے والوں میں مقبول کیوں؟

نائجیریا میں حال ہی میں خواتین کے ریپ اور قتل کی ایک لہر چلی ہے جس پر ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کے بعد ہزاروں افراد نے ہیشن ٹیگ #WeAreTired یعنی ’ہم تھک چکے ہیں‘ کے ساتھ ایک پٹیشن سائن کی۔

ڈنگورہ نائجیریا کی ریاست کانو کا دور دراز ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ جہاں پولیس کی رسائی قدرے مشکل تھی۔

اس قصبے کے چیف احمدو یاؤ کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری خوش آئند ہے۔

’ڈنگورہ کے لوگ بہت خوش ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس معاملے میں انصاف کیا جائے گا۔‘

مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گذشتہ ایک برس خوف میں گزارا حتیٰ کے اپنی ہی گھروں کے اندر، کیونکہ انھوں نے سن رکھا تھا کہ ایک سیریل ریپسٹ گھروں میں گھس کر عورتوں کو ریپ کرتا ہے۔

ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب ہم آنکھیں بند کر کے سو سکتے ہیں۔‘