سویڈن کے استغاثہ نے اس شخص کا نام ظاہر کر دیا ہے جو ان کے مطابق سنہ 1986 میں سویڈن کے سابق وزیر اعظم اولوف پالمے کا قاتل ہے۔ اس کے ساتھ ہی برسوں سے جاری یہ اسرار بھی ختم ہوا۔

انھوں نے مشتبہ شخص کی شناخت اسٹیگ اینگسٹروم کے نام سے کی ہے جسے 'اسکینڈیا مین' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور انھوں نے سنہ 2000 میں خود کشی کر لی تھی۔

نتیجے کے طور پر چیف پراسیکیوٹر کریسٹر پیٹرسن نے کہا ہے وہ پالمے کی موت کی تحقیقات کو بند کررہے ہیں۔

پالمے کو پیٹھ میں اس وقت گولی ماری گئی تھی جب وہ اسٹاک ہوم میں اپنی اہلیہ لزبیٹ کے ساتھ سنیما ہال سے گھر جارہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک وزیراعظم کا قتل جو آج تک حل نہ ہو پایا۔۔۔

سٹاک ہوم حملہ: ٹرک سے ’مشتبہ آلہ‘ برآمد

جولین اسانج کے خلاف ریپ کی تحقیقات دوبارہ شروع

انھوں نے اس سے ایک دن قبل اپنی سکیورٹی کی ٹیم کو رخصت کر دیا تھا۔ یہ قتل سویڈن کی مصروف ترین سڑک پر ہوا ہے اور ایک درجن سے زائد گواہوں نے دیکھا کہ ایک شخص موقعہ واردات سے فرار ہونے سے پہلے گولیاں چلا رہا تھا۔

ان کی موت سے متعلق ہزاروں افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور ایک چھوٹے موٹے جرائم پیشہ کو ان کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا لیکن بعد میں فیصلہ خارج کردیا گیا۔

پراسیکیوٹر نے کیا کہا؟

مسٹر پیٹرسن نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا: 'وہ شخص اسٹیگ اینگسٹروم تھا اور چونکہ وہ شخص مر چکا ہے اس لیے میں اس پر الزمات عائد نہین کرسکتا اور ہم نے تحقیقات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'ہمارا خیال ہے کہ انھوں نے یہ کام اسی طرح انجام دیا ہوگا جیسے کوئی قاتل انجام دیتا ہے۔'

مسٹر پیٹرسن نے کہا کہ اسٹیگ اینگسٹروم ابتدائی طور پر تفتیش کا محور نہیں تھا لیکن جب تفتیش کاروں نے ان کے پس منظر کا جائزہ لیا تو انھیں پتا چلا کہ وہ فوج میں رہتے ہوئے ہتھیاروں کے استعمال کا عادی تھا اور اس کے ساتھ وہ ایک شوٹنگ کلب کا رکن بھی تھا۔

اپنے مقامی علاقے میں وہ پالمے کی پالیسیوں کے ناقدوں میں شامل ان کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے بارے میں اس کا منفی نظریہ تھا۔

مسٹر پیٹرزسن نے کہا کہ اینگسٹروم کو طویل عرصے سے مالی پریشانی کا سامنا تھا اور شراب کی لت اس کی پریشانی کا سبب تھی۔

اسٹیگ اینگسٹروم کون تھے؟

اسکینڈیا انشیورنس کمپنی کے لیے کام کرنے کی وجہ سے اسٹیگ اینگسٹروم کو اسکینڈیا مین کے نام سے جانا جانے لگا۔ وہ جائے واردات کے قریب فرم کے ہیڈکوارٹر میں قتل کی شام دیر تک کام کر رہے تھے۔

اینگسٹروم قتل کے 20 شاہدین میں سے ایک تھے انھوں نے بالآخر سنہ 2000 میں خود کو ہلاک لیا۔

صحافی تھامس پیٹرسن نے سب سے پہلے ان کی مشتبہ شخص کے طور پر شناخت کی تھی اور پولیس نے ان کی موت کے 18 سال بعد اینگسٹروم کی تلاش شروع کی تھی۔ یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ وزیر اعظم کی بائیں بازو کے نظریات کی وجہ سے اینگسٹروم نے پالمے کو قتل کر دیا۔

انھوں نے قتل کے بعد کے لمحوں کے بارے میں دروغ گوئی سے کام لیا یہاں تک کہ یہ دعوی بھی کیا کہ انھوں نے پالمے کو ہوش میں لانے کی کوشش بھی کی تھی۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ انھیں ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل تھی۔

اسٹیگ اینگسٹروم کی سابقہ اہلیہ نے سنہ 2018 میں ایکسپریسسن اخبار کو بتایا تھا کہ ان سے جاسوسوں نے سنہ 2017 میں پوچھ گچھ کی تھی۔ اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ اس کے جرم میں ملوث ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔

انھوں نے کہا تھا کہ 'وہ بہت بزدل تھا۔ اتنا کہ وہ مکھی کو بھی نہیں مار سکتا تھا۔'

اولوف پالمے کا قتل کیسے ہوا؟

28 فروری سنہ 1986 کی رات جب پالمے گھر پہنچے تو وہ اپنے محافظوں کو پہلے ہی فارغ کر چکے تھے اور ان کی اہلیہ نے سینما جانے کی تجویز دی۔ لزبت اپنے بیٹے مارٹن سے بات کر چکی تھیں، جو اپنے اور اپنی گرل فرینڈ کے لیے ایک مزاحیہ فلم کے ٹکٹس لائے تھے۔

پامے اور ان کی اہلیہ نے اولڈ ٹاؤن سے سینما تک ٹرین لی اور رات نو بجے گرینڈ سینما کے باہر اپنے بیٹے اور اس کی دوست سے ملے۔

یہ دونوں جوڑے فلم کے بعد الگ ہو گئے اور پالمے اور ان کی اہلیہ لزبت، سٹاک ہوم کی مصروف شاہراہ سویوگن پر آ گئے۔ سویوگن اور ٹنلگٹن کے ایک کونے پر 23:21 پر ایک قد آور شخص پالمے کے پیچھے آیا اور دو فائر کیے۔ ایک گولی وزیراعظم کو پیچھے کمر پر انتہائی قریب سے لگی اور دوسری لزبت کو لگی۔

اس کے بعد قاتل سڑک سے نیچے کی جانب گیا، کچھ سیڑھیاں چڑھ کر ایک ملحقہ گلی تک گیا اور غائب ہو گیا۔

سویڈن چونک کر رہ گیا۔ شارلوٹا والسٹن اُس وقت صرف 12 برس کی تھیں لیکن وہ بھی رات گئے جاگ گئیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم نے ٹی وی لگایا تو ہر طرف ایک کھلی گلی میں ان کے قتل کی خبریں تھیں۔ پورا ملک صدمے میں تھا۔'

والسٹن یاد کرتی ہیں کہ ان کے سکول کی اسمبلی میں پالمے کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔ 'جب ان کا قتل ہوا تواس وقت آپ کے سیاسی خیالات اہمیت نہیں رکھتے تھے، بس صدمہ تھا۔ ایسا سویڈن میں نہیں کبھی نہیں ہوا تھا۔'

پولیس بھی صدمے کی حالت میں دکھائی دی۔ اہلکاروں نے صحیح طرح سے جائے وقوعہ کا گھیراؤ نہیں کیا اور قاتل کے فرار ہونے کے چند گھنٹوں بعد شہر صرف مرکزی علاقہ بند کر دیا گیا۔

سوگوار پھول چڑھانے وہاں پہنچ گئے جہاں پالمے کا خون ابھی بھی زمین پر پڑا ہوا تھا۔ عینی شاہدین سوال و جواب سے پہلے ہی وہاں سے چلے گئے۔ ایک گولی کئی دن گزر جانے کے بعد ایک راہگیر کو ملی۔

کیوں کوئی نہیں پکڑا گیا؟

اس معاملے میں ایک شخص جیل ضرور گیا تھا۔ سزا یافتہ مجرم کرسٹر پیٹرسن جس کا پراسیکیوٹر سے کوئی واسطہ نہیں تھا ان کی شناخت لزبت پالمے نے ایک لائن اپ میں کی تھی اور انھیں سنہ 1989 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

لیکن انھین جلدی ہی اپیل پر رہا کردیا گیا کیونکہ ان کے پاس قتل کا کوئی جواز نہیں تھا اور کوئی ہتھیار بھی برامد نہیں کیا جا سکا۔ پیٹرسن کا سنہ 2004 میں انتقال ہوگیا۔

پالمے کے دشمن کون تھے؟

پالمے کو ایک کرشماتی وزیر اعظم کے طور پر جانا جاتا ہے جنھوں نے سویڈن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کی اور وہ کئی بین الاقوامی معاملات پر کھل کر اظہار خیال بھی کرتے تھے۔

ملک میں انھوں نے بہت سے کاروباریوں کو اپنی اصلاحات سے ناراض کر دیا تھا اور وہ جوہری طاقت کے خلاف تھے۔

وہ سنہ 1968 میں چیکوسلواکیہ پر سوویت حملے خلاف تھے اور شمالی ویتنام پر امریکی بمباری پر تنقید کرتے تھے اور انھوں نے جنوبی افریقہ میں نسلی تعصب والی 'ظالمانہ' حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کے قتل کے متعلق کیا نظریات پیش کیے گئے؟

اس کیس نے کئی دہائیوں تک سویڈن کی پولیس کو سرگرداں رکھا۔ برسوں تک 'دی گرل ود ڈریگن ٹیٹو' کے مصنف اسٹیگ لارسن اس سے جذباتی طور پر منسلک رہے۔

گذشتہ برسوں میں پیش کی جانے والی نظریات میں پالمے کو قتل کیے جانے کی مندرجہ ذیل وجوہات پیش کی گئيں:

  • وہ نسلی امتیاز کے خلاف کھڑے ہوئے اور افریقی نیشنل کانگریس (اے این سی) کو مالی اعانت فراہم کی اور شاید اسی لیے سویڈش پولیس نے سنہ 1996 میں جنوبی افریقہ کا سفر کیا۔
  • پالمے کو اس بات کا پتا چل گیا تھا کہ سویڈ کی اسلحہ ساز کمپنی بوفورس نے انڈیا کے ساتھ ہتھیاروں کا سودا طے کرنے کے لیے رشوت استعمال کی تھی
  • پالمے کی حکومت نے کرد جنگجو پی کے کے گروپ کو دہشت گرد قرار دیا تھا

لِسبت پالمے کا سنہ 2018 میں بغیر اپنے شوہر کے قاتل کا نام جانے انتقال ہو گیا۔