امریکہ میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی آخری رسومات کے موقعے پر ملک میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے مھالبے کیے گئے ہیں۔

امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے ایک گرجا گھر میں ان کی آخری رسومات کے موقع پر مقریرین نے کہا کہ جارج کا ’جرم یہ تھا کہ وہ سیاہ فام پیدا ہوا۔‘

گذشتہ ماہ منی اپلس میں ایک سفید فام پولیس اہلکار نے جارج کو زمین پر لٹا کر تقریباً نو منٹ تک ان کی گردن پر اپنا گھُٹنا ٹیکے رکھا۔ اس واقعے کی ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ جارج فلائیڈ بار بار کہہ رہے ہیں ’مجھے سانس نہیں آ رہا۔‘

اس واقعے میں ملوٹ چار پولیس اہلکاروں کو برطرف کردیا گیا ہے اور ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔ امریکہ میں پولیس کے سیاہ فام افراد کے ساتھ نسلی امتیاز کی ایک تاریخ ہے اور ایسے واقعات میں پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی بمشکل ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جارج فلائیڈ کی موت پر امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم

جارج فلائیڈ کی ہلاکت: تمام برطرف پولیس اہلکاروں کے خلاف نئی دفعات عائد

ٹرمپ کی مخالفت: واشنگٹن کے میئر نے وائٹ ہاؤس جانے والی سڑک کا نام تبدیل کر دیا

جارج فلائیڈ کے تابوت کو گرجا گھر سے ہیوسٹن میموریئل گارڈنز قبرستان لے جایا گیا جہاں انھیں اپنی والدہ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

آخری رسومات کے دوران ان کی بھانجی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کے اُن قوانین کو تبدیل کیا جانا چاہیے جو سیاہ فام افراد کو دبانے کے لیے بنائے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس نظام کا کرپٹ اور ناکام ہونا کیوں ضروری ہے؟ ایسے قوانین موجود ہیں جن کا مقصد سیاہ فام امریکیوں کو ناکام بنانا ہے۔ ان قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ برائے کرم اب نفرت پر مبنی جرائم ختم کریں۔ کسی نے کہا تھا کہ ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں گے‘ مگر امریکہ عظیم کب تھا؟‘

جارج فلائیڈ کی آخری رسومات میں 500 کے قریب لوگوں نے شرکت کی جن میں سیاستدان اور معروف شخصیات شامل تھیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے آئندہ الیکشن کے لیے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اس سروس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب امریکہ میں جارج فلائیڈ کے لیے انصاف ہوگا تب ہی ہم امریکہ میں نسلی انصاف کی جانب بڑھیں گے۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس حوالے سے ٹرمپ ہر انتہائی غیر مناسب بیانات دینہ کا الزام لگایا۔ تاہم جو بائیڈن کو خود اسی طرح کی تنقید کا اس وقت سامنا کرنا پڑا کہ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاہ فام افراد تو ان کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے۔ انھوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہہ دیا تھا کہ اگر کوئی سیاہ فام ٹرمپ کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچ بھی رہا ہے تو وہ سیاہ فام ہے ہی نہیں۔

پیر کے روز جارج فلائیڈ کی جسدِ خاکی کو چھ گھنٹوں تک گرجا گھر میں رکھا گیا تھا تاکہ لوگ آ کر انھیں دیکھ سکیں۔ مینیئیپلس اور ان کی آبادی ریاست شمالی کیرولینا میں بھی اس کے اعزاز میں رسومات رکھی گئی۔

امریکہ میں ایک نہتے سیاہ فام شخص کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مختلف شہروں میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود مظاہرے جاری ہیں جبکہ مقتول کے وکلا کا الزام ہے پولیس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ قتل کیا ہے۔

یاد رہے کہ ایک سفید فام سابق پولیس افسر ڈیرک شاؤان پر 46 سالہ جارج فلائیڈ کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ڈیرک چاؤن پر تھرڈ ڈگری قتل کے الزام عائد کیا گیا ہے کہ تاہم وکیل بینجمن کرم نے سی بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ یہ فرسٹ ڈگری قتل تھا۔

پچھلے کچھ عرصے میں امریکہ میں کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیاہ فام امریکیوں کو حراست میں لیتے ہوئے اتنی زیادہ طاقت استعمال کی گئی کہ حراست میں لیا جانے والا شخص یا تو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا یا پھر پولیس کی تحویل میں جان سے گیا۔