ایک ایسے وقت جب افریقی ممالک کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں چین اور امریکہ دونوں ہی افریقہ کے سب سے بڑے حمایتی ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمکش کوروناوائرس کے علاوہ اور بھی معاملات پر ہے۔ بی بی سی کے افریقی امور کے نامہ نگار اینڈریو ہارڈنگ کا مراسلہ۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس بات پر بضد ہیں کہ کووڈ 19 کے خلاف افریقی ممالک کی مدد کرنے میں کوئی دوسرا ملک امریکہ کی برابری نہیں کر سکتا۔ اس سے آگے بڑھ کر مائیک پومپیو نے یہ بھی کہا کہ عالمی صحت کے لیے جتنی مدد امریکہ نے کی ہے وہ 'کسی دوسرے ملک نے نہ کبھی کی ہے اور نہ کبھی کر سکتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

ڈونلڈ ٹرمپ چین پر برس پڑے، ٹوئٹر کے ذریعے تنقید

’امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں فریق نہیں‘

مائیک پومپیو افریقہ سے تعلق رکھنے والے چند اخبار نویسوں سے کانفرنس کال کے ذریعے بات کر رہے تھے جن میں مسمی بھی شامل تھا۔

ان ہی دنوں گذشتہ ماہ میں نے 'کہ کسی قوم نے کبھی اتنا کیا ہے' کے بڑے بول سے لے کر ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات کے بارے میں لکھا، جو واضح طور پر اپنی عالمی ساکھ کو صحت کے عالمی بحران کے درمیان عالمی ادارۂ صحت کی طرف پیٹھ موڑنے کے بعد بہتر بنانے کی کوشش میں دیے جا رہے تھے۔

یہ اس قدر مضحکہ خیز صورت حال تھی کہ مائیک پومپیو جس سترہ کروڑ ڈالر کی امداد کے بارے میں ڈینگیں مار رہے تھے تقریباً اتنی امداد تو چین سے تعلق رکھنے والے صرف ایک ارب پتی جیک ما نے افریقہ کو عطیہ کی تھی۔

چند دن قبل چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں افریقہ کے بارے میں شائع ہونے والا ایک مضمون میری نظر سے گزرا۔

اس مضمون نے مجھے مائیک پومپیو کا بیان یاد دلا دیا اور ساتھ ہی مجھے حیرت بھی ہوئی کہ افریقہ کس حد تک چین اور امریکہ میں جاری سرد جنگ کے میدان کار زار کا حصہ بن گیا ہے اور جیسا کہ ماضی کی سرد جنگ کی طرح کورونا وائرس جیسا کوئی بھی عالمی بحران کس قدر جلد کسی نہ کسی قسم کے 'پراکسی' تصادم کی صورت اختیار کر لیتا تھا۔

کثیر الجماعتی جمہویت کے خلاف کوشش

گلوبل ٹائمز کے مضمون میں چین کے 'مضبوط سیاسی نظام' کی تعریف میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس کو موثر طور پر نمٹنے میں اس کا اہم کردار تھا۔

اس کے بعد اس میں مزید کہا گیا۔ یقیناً یہ وقت ہے کہ افریقی مملک مغربی جمہوریت کے طرز حکمرانی کے ناکام تجربے کو ترک کر دیں جس کا نتیجہ عدم مساوات، مدہبی اور لسانی منافرتوں، تشدد اور جان و مال کے نقصان میں نکلا ہے۔

اس کے بجائے افریقی ملکوں کو چین کے ایک پارٹی نظام کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس کے کچھ دن ہی بعد میں نے چین کے ایک اور سرکاری کنٹرول میں چلنے والے اخبار 'چائنا ڈیلی' میں ایک اور مضمون دیکھا۔ اس مضمون میں بیجنگ کے 'بیلٹ اور روڈ' پروگرام کی تعریف میں لکھا گیا تھا کہ کس طرح اس کا اثر پڑا رہا ہے۔ اس بہت بڑے سرمایہ کاری اور سماجی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے منصوبے کے بارے میں مزید کہا گیا تھا کہ کس طرح اس براعظم میں صدیوں پرانے غلامانہ نظام، سامراجی اور نوآبادیاتی استعماریت سے نکلنے کی رفتار کو تیز کر رہا اور اس کورونا وائرس سے نمٹنے میں بھی مدد کر رہا ہے۔

پومپیو کا اس بارے میں صاف جواب تھا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی انتہائی سخت شرائط پر بھاری قرضے مسلط کر رہی ہے جو طویل المدت میں افریقی عوام کے لیے مصیبت بنیں گے۔

اس کے چند دن بعد میں نے افریقہ میں چین اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں نے 'زوم' پر ایک مباحثہ سنا جس کو میزبان نے 'ایک زہریلی لڑائی' قرار دیا اور جس میں چین کے ایک پروفیسر کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ کس طرح افریقی ذرائع ابلاغ کے نمائندہ کورونا وائرس کی صورت حال میں چین میں سرکاری بندشوں میں جکڑے ذرائع ابلاغ کے نظام کی تعریف کر رہے تھے۔

پروفیسر زینگ ینکوئی نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی توجہ منفی اور بری خبروں پر مرکوز رہتی ہے جب کہ قارئین بحرانی دور میں زیادہ تر مثبت اور اچھی خبریں پڑھنا چاہتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ وہ چین کی طرز کی مثبت صحافت دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایتھوپیا کے صحافیوں میں انھوں نے اس طرز کی صحافت کے لیے بہت گرمجوشی دیکھی۔ لیکن افریقہ میں صحافت پر بہت آسانی سے اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔

مائیک پومپیو سے جب میں نے یہ سوال پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ افریقہ میں امریکی ساکھ پر صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے کہ کورونا وائرس کو ختم کرنے کے لیے آپ جراثیم کش دوائی پی لیں یا الٹرا وائلٹ لائٹ کا استعمال کریں کا اثر پڑ سکتا ہے۔ تو انھوں نے اس کا براہ راست جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ صدر ٹرمپ کے بیانات کو دانستہ طور پر توڑ مڑو کر پش کیا گیا ہے خاص طور پر ان ذرائع ابلاغ کی طرف سے جو کسی کے زیر اثر ہیں۔

یہ اس کانفرنس کال کے دوران بڑے عجیب لمحات تھے۔

کئی دہائیوں سے امریکہ سفارت کاری کے ذریعے کسی حد تک افریقہ میں آمرانہ حکومتوں اور ان کی سینسر شپ کے خلاف آزاد صحافت کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرتا رہا ہے۔

لیکن اب امریکہ کے صدر خود آئے روز قومی ذرائع ابلاغ اور اخبار نویسوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور انھیں جھوٹا اور عوام دشمن قرار دیتے ہیں۔

پومپیو کی باتیں سن کر اچانک یہ احساس ہوا کہ تعمیری صحافت کے بارے میں واشنگٹن اور بیجنگ کی رائے میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔

ٹرمپ کو غلط سمجھا گیا

اس کی نشاندہی کرنا درست ہے کہ امریکہ نے سابق صدر جارج بش کے ایڈز کے خلاف وسیع ایمرجنسی پلان کے علاوہ بھی افریقہ میں صحت عامہ کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔

لیکن یہ واضح ہے کہ چین کورونا وائرس کی آڑ میں اور امریکہ کی حالیہ پریشانیوں اور مشکلات کا فائدہ اٹھاتے افریقہ میں بلا خوف و خطر اپنا سیاسی پروپیگنڈہ کی ترویج کر رہا تھا اور میرے خیال میں بڑے موثر انداز میں۔

اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ افریقی ملک اور صحافی کٹ پتلیاں ہیں جنہیں عالمی طاقتیں جب چاہیں استعمال کر سکتی ہیں۔

لیکن اب افریقہ میں کتنی حکومتیں جو چینی بینکوں کے قرضے تلے دبی ہوئی ہیں اور اب کورونا وائرس کی وبا سے اقتصادی دباؤ میں بھی ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ اب ناکام کثیرالجماعتی طرز سیاست چھوڑ کر چین کے مضبوط سیاسی نظام کی طرف راغب ہو جائیں؟